اورنگ آباد میں 19 روز سے لاپتہ نوجوان کا قتل؛ چھاوا تنظیم کی خاتون صوبائی صدر سمیت تین گرفتار؛ لاپتہ نوجوان کی لاش گوداوری میں برآمد

اورنگ آباد :(کاوش جمیل نیوز) : 19 دن سے لاپتہ 32 سالہ نوجوان کی لاش آخرکار گوداوری ندی کے کنارے سے برآمد ہوئی، جس کے بعد علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔ پولیس تفتیش میں چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے۔ چھاوا تنظیم میں کام کرنے والی صوبائی صدر خاتون پر الزام ہے کہ اس نے عشق کی راہ میں رکاوٹ بننے والے نوجوان کو اپنے ماموں زاد بھائی اور دوست کی مدد سے قتل کر ڈالا۔ اس اندوہناک واردات نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مقتول نوجوان کا نام سچن پونڈلک اوتاڑے (عمر 32، رہائشی ہرسول) ہے، جبکہ ملزمہ کا نام بھارتی رویندر دوبے (عمر 34، رہائشی کینوٹ پلیس) بتایا گیا ہے۔ اس کے ماموں زاد بھائی درگیش تیواری (خلدآباد) اور دوست افروز کو بھی اس واردات میں ملوث بتایا جا رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، بھارتی اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد کینوٹ پلیس میں رہائش پذیر تھی۔ بھارتی اور سچن پچھلے چار سالوں سے چھاوا تنظیم میں مل کر کام کر رہے تھے، اسی دوران دونوں کی دوستی محبت میں بدل گئی۔ 31 جولائی کو دونوں نے شراب خریدی اور بھارتی کے فلیٹ پر گئے۔ اسی دوران بھارتی کا ماموں زاد بھائی درگیش وہاں پہنچا، بعد میں دوست افروز بھی آ گیا۔ اسی لمحے ان کے درمیان جھگڑا ہوا اور تینوں نے مل کر سچن کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور چاقو سے وار کرکے قتل کر ڈالا۔
31 جولائی سے سچن لاپتہ تھا۔ اس کے گھر والوں نے تلاش کے بعد ہرسول پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ 13 اگست کو شیونا تعلقہ کے مُنگی مقام پر گوداوری ندی میں ایک لاش برآمد ہوئی۔ گلے اور ہاتھ پر موجود ٹیٹو کی مدد سے سچن کی شناخت ہوئی۔ سچن کے لاپتہ ہونے کے وقت سے ہی بھارتی بھی فلیٹ سے غائب تھی۔
پولیس نے 80 سی سی ٹی وی فوٹیجز کی جانچ کی جس میں تینوں ملزمان کو ترپال میں لاش لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعد ازاں اطلاع ملی کہ بھارتی ضلع بلڈھانہ کے ساکھرکھیرڈہ گاؤں میں چھپی ہوئی ہے۔ پولیس انسپکٹر واگھ کی ٹیم نے رات کے وقت کھیت سے اسے گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے دوران بھارتی نے اعتراف کیا کہ عشق کے جھگڑے کی وجہ سے اس نے اپنے ماموں زاد بھائی درگیش اور دوست افروز کی مدد سے سچن کا قتل کیا۔