مہاراشٹرمیں کسانوں کی قرض معافی ہوگی، مگر سب کے لئے نہیں،فارم ہاؤس اور بنگلے بنانے والوں کو قرض معافی کی کیا ضرورت؟ چندرشیکھر باونکُلے کا بڑا بیان

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :ریاست میں گزشتہ چند دنوں سے کسان قرض معافی کا موضوع زیرِ بحث ہے۔ ریاست بھر کے کسان قرض معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس معاملے پر اپوزیشن مسلسل حکومت کو گھیرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سابق رکن اسمبلی بچو کڈو کی جانب سے مختلف شہروں میں مارچ نکالا جا رہا ہے۔ حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والے بارش کے سیشن میں بھی اپوزیشن نے حکومت کو گھیرنے کی کوشش کی تھی۔ ’’قرض معافی کب ہوگی؟‘‘ یہ سوال اپوزیشن نے حکومت سے کیا تھا۔
اس پر جواب دیتے ہوئے حکومت نے کہا تھا کہ قرض معافی ہونی چاہئے یا نہیں اور اگر ہونی ہے تو کس طرح؟ اس پر مطالعہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی قرض معافی پر حکومت کو رپورٹ دے گی اور اس کے بعد فیصلہ لیا جائے گا۔ اب وزیر چندرشیکھر باونکُلے کے ایک اشارہ نما بیان سے کسانوں کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
’’سرسری قرض معافی نہیں ہوگی۔ صرف ضرورت مندوں کے لئے ہوگی‘‘، یہ بات وزیرِ محصول چندرشیکھر باونکُلے نے کہی۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ’’فارم ہاؤس اور بنگلے بنانے والوں کو قرض معافی کی کیا ضرورت؟‘‘۔
باونکُلے کے اس بیان کے مطابق حکومت غریب کسانوں کے لئے قرض معافی کی تیاری کر رہی ہے۔ لیکن اس کے لئے معیار کیا ہوگا؟ یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ مہاراشٹر کے ایسے کسانوں کی قرض معافی ہونی چاہئے جنہیں واقعی اس کی ضرورت ہے۔ ’’کوئی شخص کھیت میں بنگلہ بناتا ہے، فارم ہاؤس بناتا ہے، قرض لیتا ہے۔ تو اسے کسانوں کی قرض معافی کی کیا ضرورت؟‘‘ یہ سوال باونکُلے نے اٹھایا۔
انہوں نے مزید کہا: ’’جس غریب کسان کی زمین میں کچھ بھی پیداوار نہیں ہوتی، جس نے قرض لیا ہے، جو خودکشی جیسے انتہاپسند قدم اٹھانے پر مجبور ہے، ایسے کسانوں کا انفرادی سروے کرکے قرض معافی کی جانی چاہئے۔ اسی مقصد کے لئے ہم آگے کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔