گورکشوں کے تشدد سے مویشیوں کا کاروبار ٹھپ، مہاراشٹر میں قریشی برادری دو ماہ سے ہڑتال پر؛ کیا ہے اصل معاملہ ؟ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

اسپیشل رپورٹ
14 جون سے مہاراشٹر کی قریشی برادری غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر ہے۔ مبینہ گورکشوں کے ہاتھوں مارپیٹ، گوشت فروشوں اور ٹرانسپورٹروں کو پولیس کی طرف سے ہراساں کیے جانے، اور دودھ دینے والے جانوروں کی ترسیل میں رکاوٹوں کے باعث ہونے والے نقصان جیسے مختلف مسائل کے پیشِ نظر قریشی برادری نے مویشیوں کا کاروبار مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ اسی پس منظر میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے بھی قریشی برادری کے نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ آخر یہ معاملہ ہے کیا؟ قریشی برادری ہڑتال پر کیوں ہے؟ اور مہاراشٹر میں چل رہا تنازعہ کیا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔
قریشی برادری کے الزامات
قریشی برادری کا الزام ہے کہ 2015 کا مہاراشٹر مویشی تحفظ (ترمیمی) قانون غلط طریقے سے نافذ کیا گیا ہے اور یہ جانبدار ہے۔ اس کی وجہ سے ریاست کے 15 لاکھ قریشی لوگوں کی روزی روٹی پر برا اثر پڑا ہے۔ یہ برادری گوشت اور زرعی مویشیوں کے کاروبار پر انحصار کرتی ہے۔ آل انڈیا جمعیت القریش ایکشن کمیٹی مہاراشٹر میں اس تحریک کی قیادت کر رہی ہے۔
9 اگست کو ناندیڑ ضلع میں ہزاروں قریشی تاجر، شہری اور کچھ کسانوں کے ساتھ ایک خاموش مورچہ نکالا گیا۔ اس طرح کے احتجاج ریاست کے مختلف اضلاع میں کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر مراٹھواڑہ کے آٹھ اضلاع اورنگ آباد، بیڑ، لاتور، عثمان آباد، جالنہ، پربھنی، ناندیڑ اور ہنگولی میں یہ معاملہ شدید ہو چکا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں کسانوں کی خودکشی کے واقعات بھی زیادہ ہیں۔
اس کا کیا ہورہا ہے کسانوں پر اثر؟
کم بارش کے باعث کسانوں کے لئے مویشیوں کو چارہ اور پانی دینا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ایک جانور کو روزانہ تقریباً 20 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو جانور کھیت کے کام یا دودھ دینے کے قابل نہیں رہتے، وہ کسانوں کے لیے بوجھ بن جاتے ہیں اور روایتی طور پر وہ ایسے جانور بیچ دیتے ہیں۔ ان جانوروں کی فروخت سے کسانوں کو فوری نقدی یا ہنگامی حالات میں مالی مدد ملتی ہے۔ لیکن قریشی برادری کی غیر معینہ ہڑتال کی وجہ سے مہاراشٹر کے تمام مویشی منڈیاں بند ہو گئی ہیں، جس سے کسانوں کے پاس جانور بیچنے کا کوئی راستہ نہیں بچا۔
بیڑ ضلع کے کسان لیڈر کالیداس آپٹے کے مطابق، "کسان مکمل طور پر مشکل میں ہیں۔ جانور کسانوں کے لیے اے ٹی ایم کی طرح ہیں۔ ہنگامی حالات جیسے علاج یا بچوں کی تعلیم کے لیے فوری پیسے جانور بیچ کر حاصل کیے جاتے ہیں۔ مویشیوں کا کاروبار دیہی معیشت کا اہم حصہ ہے، اسے مذہبی رنگ دینا غلط ہے۔” انہوں نے بتایا کہ صدیوں سے دودھ دینے والے جانوروں کی خرید و فروخت سے کسانوں اور قریشی برادری کا مضبوط رشتہ رہا ہے اور مشکل وقت میں یہ برادری کسانوں کی مدد کرتی رہی ہے۔
قریشی برادری کی ہڑتال نے نہ صرف مویشی منڈیوں بلکہ ان سے جڑے تمام دیہی کاروبار کو بحران میں ڈال دیا ہے۔ چمڑے کی صنعت، ہڈی اور سینگ کے کاروبار، نعل، رسی اور دیگر مصنوعات کے کاروبار پر منفی اثر پڑا ہے۔ ان صنعتوں میں کام کرنے والے غریب طبقے کے لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
2015 کے قانون کے مطابق کسی بھی جانور کو لانے لے جانے کی اجازت ہے، مگر صرف بھینس کی قربانی کی اجازت ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد بھینسوں کا قانونی کاروبار بھی انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے۔
آل انڈیا جمعیت القریش مہاراشٹر کے صدر عارف چودھری کے مطابق، "ریاستی حکومت کو مویشی تحفظ قانون پر مؤثر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ کئی گروہ اس قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ بھینسوں پر پابندی نہ ہونے کے باوجود ان کی خرید و فروخت روک دی جاتی ہے۔ اکثر پولیس بھی ان گروہوں کے دباؤ میں آ جاتی ہے۔ گورکشک اگر کسی کو گائے ذبح کے لیے لے جاتے دیکھیں تو پولیس کو اطلاع دیں، خود قانون ہاتھ میں نہ لیں۔”
چودھری نے کہا کہ قانون کا نفاذ جانبدارانہ طریقے سے اور خاص طور پر مسلم برادری کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ "اگر ہندو کسان جانوروں کو لے جا رہا ہو تو اسے قریشی برادری کی طرح پریشان نہیں کیا جاتا، بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ قانونی فروخت کے لیے لے جا رہا ہے۔ لیکن ہمارے برادری کے لوگوں کو مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہاں تک کہ مکمل قانونی کاغذات والے جانور بھی ہجوم کے ذریعے روکے جاتے ہیں۔”
ریاست کے وزیر خزانہ اجیت پوار نے اس مسئلے پر توجہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیکن تاحال کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ مرکزی وزیر برائے سڑک و ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے قریشی برادری کے ایک وفد کو دہلی بلا کر ان کے مسائل سننے کا وعدہ کیا ہے۔ قریشی تاجروں کے مطابق مہاراشٹر میں مویشیوں کے کاروبار کی بندش سے 2000 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے۔
2024 میں بھارت نے ۳۷۴۰.۵۳ ملین ڈالر مالیت کا بھینس کا گوشت برآمد کیا۔ مرکزی وزارتِ تجارت و صنعت کے مطابق، بھارت کے پاس دنیا میں دودھ دینے والے مویشیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اب اس معاملے میں آگے کیا ٹھوس قدم اُٹھائے جاتے ہیں اس پر ہم سب کی نگاہیں رہے گی..