مضامین

آہ : شیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی ؒ بھی رخصت ہوگئے۔آج آسمان پر جشن منایا جارہا ہوگا!

از: قاری ضیاء الرحمن فاروقی (نائب صدر مجلس احرار مہاراشٹروڈائریکٹر تحفظ دین میڈیا)

آج کا موضوع بہت درد بھرا ہے، عجیب کیفت ہے اس وقت، زبان لڑکھڑارہی ہے، سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کہاں سے شروع کروں، جیسا کہ آپ سبھی جان چکے ہونگے کہ رئیس الاحرار ثانی، شاہی امام پنجاب، شیر اسلام حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی جو اب رحمۃ اللہ علیہ ہوگئے ہیں، انکا کل رات انتقال ہوگیا، بہت مبارک دن حضرت کو اللہ پاک کی طرف سے بُلاواآیا، یہ تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو اس رات کی فضیلت کو جانتے ہیں۔ خیر جب سے یہ خبر معلوم ہوئی ،دل پر عجیب کیفیت طاری ہے، دل غمگین اُداس ہوگیا ہے، کیونکہ حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی جیسی شخصیت شاید اب ہمیں کبھی ملیگی، اور حضرت کے انتقال کے بعد جو خلا پیدا ہوگئی ہے ،دوردور تک سوچنے کے بعد بھی کوئی ثانی نظر نہیں آتا، حضرت کا انتقال ملت اسلامیہ کیلئے ناقابل تلافی نقصان ہے، اللہ پا ک حضرت والا کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، اعلیٰ درجات میں مقام عطاء فرمائے ،اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے تحفظ کا جو کام کیا حضرت نے اللہ پاک اس عظیم خدمت کے بدلےجنت میں حضرت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاساتھ نصیب کرے۔ آمین یارب العالمین۔
قارئین حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب ثانی لدھیانوی رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے تھے، اسی لیے وہ اپنے نام کے ساتھ ثانی کا لاحقہ لگایا کرتے تھے، آپ کے دادا رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن صاحبؒ کی ولادت: 1892ءمیں ہوئی جب کہ وفات: 1956ءمیں ہوئی،یہ ایک باصلاحیت تحریک ساز عالم دین تھے۔
آپ لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ مجلس احرار کے سرگرم رکن تھے۔ ان کے والد حضرت مولانا زکریاؒ بھی ایک ممتاز عالم دین تھے۔ مولانا حبیب الرحمن نے تحریک خلافت اور بعد میں تحریک احرار میں بڑے انہماک اور تن دہی سے حصہ لیا اور متعدد بار جیل گئے۔ بہت اچھے خطیب اور آزاد خیال رہنما تھے۔
تحریک خلافت کے خاتمے کے اعلان کے بعد خلافت پنجاب کے رہنماؤں حضرت امیر شریعت علمامہ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، مفکر احرار چودھری افضل حق، مولانا سید محمد داؤد غزنوی، شیخ حسام الدین، خواجہ عبد الرحمن غازی اور مولانا مظہر علی اظہر رحمہم اللہ جیسے سر بکف مجاہدوں نے ایک انقلابی جماعت مجلس احرار کی بنیاد رکھی تھی، مجلس کے تاسیسی اجلاس میں رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم نے مجلس احرار کی بنیاد رکھی، اللہ کا شکر ہے کہ مسلمانوں نے ہماری آواز کو سنا اور قبول کیا۔ اگر ہم صدق دل سے کام کرتے رہے تو میرا یقین ہے کہ عنقریب ہر گوشے میں مجلس احرار اسلام کا نظام پھیل جائے گا۔
آزادی کے ساتھ ہی پاکستان بنا تو یہ تنظیم دو حصوں میں منقسم ہوگئی، مجلس احرار پاکستان اور مجلس احرار ہند۔
حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب ثانی لدھیانوی جو شیر اسلام، شیر پنجاب اور شاہی امام پنجاب سے جانے جاتے تھے، آپ نے مجلس احرار اسلام ہند کے ذریعے صوبۂ پنجاب میں خوب کام کیا، پنجاب کے درجنوں مساجد کو سکھوں اور غیر مسلموں سے بغیر لڑے جھگڑے آزاد کرایا اور انہیں آباد کیا۔ آپ پنجاب کے مسلمانوں کے لیے ایک مضبوط قلعہ کی حیثیت رکھتے تھے، پنجاب کی سرکاریں بھی آپ کا لحاظ کرتی تھیں اور آپ کی باتوں پر عمل پیرا ہوتی تھیں۔
مولانا حبیب الرحمٰن ثانی لدھیانویؒ ہندوستانی سطح پر حکومت کے ہر غلط فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے میں پیش پیش رہتے تھے، آپ نے ہمیشہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کیا، میڈیا پر مکمل بے باکی سے بیان دینا اور مسلمانوں کے حوصلوں کو بڑھانا ان ہی کی شان تھی۔
آپ کی خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ آپ ہمیشہ اپنے ساتھ تلوار رکھا کرتے تھے، بیان کرنے بیٹھتے تب بھی تلوار ہاتھوں میں ہوا کرتی تھی۔
آپ اس مسلمان سے بہت خوش ہوتے تھے جو جری اور بہادر ہوتا نیز جس کے زیادہ بچے ہوتے تھے اس سے بھی بڑے خوش ہوتے تھے اور انعام سے بھی نوازتے تھے۔
حضرت بہت بے باک انداز میں بات کرتے تھے، این آر سی شاہین باغ کے وقت حضرت نے گودی میڈیا کو دھول چٹادی تھی، اس بر گودی میڈیا نے بوکھلاہٹ میں حضرت کے خلاف بھڑکائو خبریں شائع کی تھی، اور اتفاق کی بات گود ی میڈیا نے حضرت کے جو بیانات تھے وہ تحفظ دین میڈیا کے چینل سے نکال کر ہی توڑ مروڑ کرپیش کیا تھا، لیکن وہ ناکام رہا،کیونکہ اسکا کوئی اثر ہی نہیں ہوا، بلکہ گودی میڈیا خود ذلیل ہوگیا اور اس کو منہ کی کھانی پڑی۔
حضرت مولانا حبیب الرحمن ثانی لدھیانوی مرکز تحفظ دین میڈیا کے سرپرست اعلیٰ بھی تھے، حضرت کا تحفظ دین میڈیا اور بطور خاص میرے والد محترم حضرت مولانا محفوظ الرحمن فاروقی رحمانی سے بہت گہرا تعلق تھا، حضرت ہمیشہ جب بھی بات ہوتی تھی سب سے پہلے والد محترم کی خیریت دریافت کرتے اور کہتے تھے کہ یہی اصل سرمایہ ہے، مجھے فخر ہوتا ہے جب میں آپ جیسے نوجوانوں کو نبی کی ختم نبوت کا کام کرتا ہوادیکھتا ہوں اور یہ سوچتا ہوں کہ جس کی یہ اولاد ہے اس کے ماں باپ کتنے عظیم مرتبت والے ہونگے۔
حضرت نے لاک ڈائون سے قبل تقریباً 3 سال پہلے لدھیانہ پنجاب میں ایک تاریخی شہدائے تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی تھی، حضرت نے مجھے کال کیا اور کہا کہ ہم لوگ ایک پروگرام لے رہے ہیں اور میری خواہش ہے کہ تحفظ دین میڈیا کے ذریعہ اس پروگرام کو نشر کیا جائے، آپ کو ہر حال میں آنا ہوگا کیونکہ یہ صرف ایک پروگرام نہیں ہے بلکہ تحفظ ختم نبوت پر خدمت انجام دینے والوں کیلئے اعزاز ہے، میں نے حضرت کی دعوت کو بلا کسی تاخیرقبول کرلیا، اور تحفظ دین میڈیا کی پوری ٹیم کے ساتھ ہم لدھیانہ پہنچے، بہت تاریخی پروگرام رہا، حضرت نے ہماری مہمان نوازی میں کوئی کثر نہیں چھوڑی، ہماری ہر چھوٹی بڑی سہولت کا خیال رکھا، اور ایک تاریخی انٹریو حضرت نے تحفظ دین میڈیا پر دیا۔
حضرت نے بہت قیمتی باتیں بتائی ان میں سے کچھ باتیں بہت اہم اور قیمتی تھی، حضرت نے کہا تھا کہ ہمیشہ اپنے کام سے وفاکرنا، اگر ختم نبوت کی خدمت آپ کررہے ہیں تو سمجھ لینا کہ شیطان ہرطرح سے آپ کو اس سے روکنے کی کوشش کریگا، الگ الگ شکلوں میں حملہ کریگا، لیکن یاد رکھنا کہ کبھی اپنے حوصلوں کو کمزور مت ہونے دینا، لوگ اشکالات کرینگے، اعتراضات کرینگے، الزامات لگائینگے لیکن آپ جمے رہنا، کیونکہ اس ختم نبوت کے تحفظ کی خدمت کے بدلے جنت کی بشارتیں ہیں، اور جنت کے بدلے اگر اس طرح کے اشکالات،الزامات اور اعتراضات بلکہ گالیاں اور مار بھی کھانا پڑے تو کھالینا، کیونکہ اس سے سستا سودا جنت کا کوئی نہیں ہوسکتا۔
حضرت نے ہمیشہ ہماری ہمت افزائی اور حوصلہ افزائی کی ، اور ہر طرح سے ہمارا ساتھ دیا اور ہمیشہ یہ کوشش کرتے تھے کہ یہ کام جو تحفظ دین میڈیا کے ذریعہ ہورہا ہے اس کو کیسے مضبوط کیا جائے۔ اب جب حضرت اس فانی دُنیا سے چلے گئے تو حضرت کی ایک ایک بات یاد آکر بیچین کررہی ہے۔ اللہ پاک حضرت کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء کرے، اور حضرت کی قبر کو نورسے بھردے۔ آمین یارب العالمین۔
حضرت سے ملاقات کے وقت حضرت نے مجھ سے کہا کہ قاری صاحب مجلس احرار کا جو مشن ہے وہ پنجاب تک ہی محدود ہے، میری خواہش ہے کہ آپ اس مشن کو اپنے علاقہ مہاراشٹر میں بھی پھیلائیں، اس کو مضبوط طریقہ سے عام کرنے کی کوشش کریں، اور کہا کہ میں آپ کو مہاراشٹر کیلئے ذمہ داری دینا چاہتاہوں، اس وقت میں نے معذرت کرلی، کیونکہ میں اس قابل نہیں ہوں، مجھ گناہ گار اور کمزور کیلئے اتنی بڑی ذمہ داری کو نبھانا بہت مشکل کام تھا، ہم پروگرام کرکے رُخصت ہوگئے اور واپس اپنے شہر اورنگ آباد پہنچ گئے، کچھ دنوں بعد حضرت کے مرید خاص مولانا محمد عمیر ندوی ناندیڑمہاراشٹرسے حضرت نے کہا کہ قاری صاحب سے ملاقات کرکے انھیں مہاراشٹر کی ذمہ داری کے تعلق سے بات کرو، مولانا عمیر نے مجھے کال کیا اور اس تعلق سے بات کی ،میں نے وہی بات جو حضرت نے مجھ سے کہا تھا بتائی،لیکن وہ نہیں مانے، اور مولانا عمیر نے اورنگ آباد کا سفر کیااور مستقل اصرار کرتے رہےیہاں تک کہ مجھے مہاراشٹر کے نائب صدر کی حیثیت سے منتخب کردیا، یہ میرے لیئے بہت سخت مرحلہ تھا، لیکن ساتھ ہی یہ بات میرے لیئے کسی اعزاز سے کم نہیں تھی، کیونکہ احرار جیسی عظیم تحریک کو مضبوط کرنے کیلئے حصہ بھی لگ جانا بڑی بات تھی، یہ ایسا ہی تھا میرے لیئے انگلی کٹاکر شہیدوں میں نام لکھانا۔
خیر اس کے بعد سے حضرت سے ہمیشہ تعلق رہا، حضرت کی طبیعت کافی ناساز چل رہی تھی،حضرت سے فون پرہوتی رہتی تھی، حضرت سے میں نے ملاقات کیلئے آنے کی اجازت مانگی،حضرت نے کہا کہ ابھی تھوڑی طبیعت ناساز ہے، کچھ دنوں میں طبیعت ٹھیک ہونے پر ضرور آئیں، اور ہم نے لدھیانہ پنجاب جانے کی ترتیب بھی بنالی تھی اکتوبر کے آخری ہفتہ میں،لیکن قدرت کو کچھ اور ہی کرنا تھا، ہماری خواہش ادھوری رہ گئی اور حضرت نے ہم سب کو الوداع کہہ دیا۔
قارئین کرام ہم کوشش کرینگے کہ حضرت نے جو ذمہ داری ہمیں دی مجلس احرار اور حضرت کا جو مشن خاص ہے اس کو کس طرح ہم عام کرسکتے ہیں ضرور کرینگے اور کررہے ہیں، بس اللہ پاک ہم کو حضرت کی نقل کرنے کی صلاحیت دیدے، حضرت کے جیسا تو کوئی شاید ہی کرسیگا، نقل ہی ہم سے ہوجائے یہی اصل ہے۔
ہماری اس سفر میں حضرت کے ہونہار صاحب زادے حضرت مولانا عثمان لدھیانوی نائب شاہی امام پنجاب سے بھی ملاقات ہوئی، مولانا عثمان صاحب بھی حضرت کی طرح جری اور بہادر ہیں، مولانا عثمان صاحب ایک باصلاحیت عالم دین اور نیک دل، ملنسار انسان ہیں، انہیں ہم مدرسے میں “عثمان بھائی” سے یاد کرتے تھے، آج بھی ان سے وہی تعلق ہے، کبھی رابطہ ہوتاہے تو اپنوں کی طرح سے پیش آتے ہیں، اللہ پاک نے انہیں اپنے والد کا ان ہی کی شان کے مطابق نائب بنایا ہے، انہیں اپنے والد کی علمی، تحریکی اور تشجیعی وراثت کو سنبھال کر رکھنے کی بخوبی صلاحیت حاصل ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اللہ پاک ان سے خوب کام لے گا۔
آج بتاریخ دس ستمبر 2021ء بروز جمعہ حضرت مولانا حبیب الرحمٰن صاحب ثانی لدھیانوی امیر احرار اسلام ہند و شاہی امام پنجاب کا صبح صادق سے قبل لدھیانہ میں انتقال ہوگیا ہے، اللہ پاک ان کی تمام خدمات کو قبول فرمائے، مغفرت فرمائے، جنت میں بلند درجات عطا فرمائے۔ اور ان کے پسماندگان، متعلقین و محبین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!