مضامین

9/11 حملے یا سازش؟ مسلمانوں نے 20 سالوں میں بیش بہا قیمت چکائی

Abdul wahab habib aurangabad
عبدالوہاب حبیب
9970073214

امریکا میں گیارہ ستمبر 2001ء کی سازش کو بیس سال مکمل ہو چکے ہیں۔ جس ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا وہاں اب ایک نئے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ساتھ ہی مرنے والے تین ہزار افراد کی یادگار بھی تعمیر ہوگی۔ حملے کو بیس برس ہو چکے ہیں ا، امریکہ اسے بھولا نہیں ہے یا یوں کہےیے کہ بھلایا نہیں گیا ہے کیونکہ عالمی میڈیا جو 90 فیصد سے زائد امریکہ کنٹرول کرتا ہے وہ ہر روز ایسی خبریں لے کر آتی ہی ہیں جس سے اس واقعہ کی یاد تازہ ہو جائے۔ اس حملہ نے پوری دنیا کی سیاسی، معاشی مذہبی اور صنعتی رجحانات تبدیل کردیے ہیں۔ حملہ کے محرکات جو بتائے جا تے ہیں اسے اسلامی دنیا سے راست جوڑ کر دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس سازش نے امریکا سمیت تمام دنیا پر جو گہرے نقوش چھوڑے ہیں اس کے پس منظر میں مسلم فوبیا اور مسلم دشمنی کا جو بیج بویا گیا ہے اس کی بیج کے درخت ہر ملک کی میڈیا اپنے اپنے ممالک میں بانٹتی پھر رہی ہے۔ حالانکہ حملہ میں ۳ ہزار کے لگ بھگ لوگ مارے گئے تھے لیکن میڈیا کے ذریعہ جس طرح ذہن سازی کی گئی ، امریکہ نے خلیجی ممالک میں جس طرح حملے کیے اس سے اندازہ ہے کہ اب تک ایک ملین سے زیادہ لووں کی جان جا چکی ہے لیکن انہیں یاد نہیں کیا جاتا کیونکہ مرنے والوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ اور امت مسلمہ کو خود جس طرح اس نے نائن الیون کے بعد قیمت چکائی ہے اس کا اندازہ بھی نہیں۔ عراق اور افغانستان پر حملے، مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے واقعات، ایشیائی ممالک میں لنچنگ، آسٹریلیا اور افریقی براعظموں میں دہشت گردی کے نام پر ہلاکتیں، قید اور صعوبتوں کا جو دور ہے وہ اتنا تاریک ہے کہ گانتناموبے اور ابو غریبکی جھلکیاں بھی سارے عالم کو محو حیرت کر دیتی ہے۔ نائن الیون حملوں کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خَاف عالمی جنگ کرنے کا اعلان کیا تھا اور ہوا بھی یہیں کہ امریکہ سمیت ناٹو اور دیگر ممالک نے ایک محاذ کھولا جس میں صرف امریکہ کے حملوں میں عراق، افغانستان، شام ، یمن، لیبیا اور دیگر ممالک میں وانشنگٹن میں واقع براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اب تک 8 لاکھ 1 ہزار لوگوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں، لاکھوں لوگ نقل مکانی کرنے مجبور ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے نام پر ہونے والی اس جنگ یا یوں کہیے یکطرفہ حملوں کے سب سے زیادہ متاثرین میں مسلم ممالک شامل ہیں۔ امریکہ نے 20 سال افغانستان پر اپنا قبضہ رکھا اور جب یہںا سے نامراد ہو کر ذلت کے ساتھ واپسی کیا تو افغانستان ایک تباہی کے ڈھیر پر ہےجہاں انفرااٹرکچر انتہائی خستہ حالت میں ہے۔جرمنی کے تھنک ٹینک ایس ڈبلیو پی سے منسلک ماہر ژوہانس تھم کے بقول، ”دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 9 لاکھ تیس ہزار انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور یہ تمام افراد براہ راست جنگ میں مارے گئے۔ ان میں سے قریب چار لاکھ عام شہری تھے۔اس جنگ پر آنے والی لاگت یا تخمینے کے مطابق صرف امریکا کو اربوں ڈالر کی ناقابل تصور قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ امریکی مؤرخ اسٹیفن ورتھ ہائم کہتے ہیں، ”امریکا اپنی اتنی بڑی آبادی اور وسیع وسائل کو نائن الیون کے حملوں کے تخریبی رد عمل کے بجائے متعدد تعمیری کاموں پر صرف کر سکتا تھا۔ یہ تو بات ہوئی اس حملہ کے رد عمل کی جسمیں تین ہزار لوگ مارے گئے تھے لیکن کیا یہ حملہ واقعی حملہ بھی تھا؟ یہ سوال ۲۰ سال بعد بھی میڈیا کےلئے پہیلی ہے۔ حالانکہ جس طرح کے دستاویزات، ثبوت، حالات، چشمدید کے بیانات، اور ماہرین کے خدشات ہیں اس سے یہ مکمل طور پر ایک انسائڈ جاب قرار دیا جا چکا ہے ۔ انسائڈ جاب یعنی حکومت کے ذریعہ تیار کردہ منصوبہ یاسازش،۔ اس کہانی کے اندر اتنے داخلی تضادات ہیں اور اس کے سو فی صد جعلی ہونے کے اتنے یقینی ثبوت سامنے آچکے ہیں کہ کوئی بھی ہوش مند شخص اسے تسلیم نہیں کرسکتا۔زیٹ گیسٹ نامی ایک ڈاکیومنٹری بنی ہے جس میں تمام تر دستاویمات کو یکجا کیا گیا ہے کہ کسطرح ایک سازش کو من گھڑت طریقہ سے دہشت گردی کے نام سے جوڑا گیا۔ ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کرنے کی کہانی گھڑی گئی۔ سعودی عرب کے شہریان کے شامل ہونے کی بات کہی گئیوہ بھی اس امریکہ میں جہاں ہر جہاز کے معمولی غلط سمت میں جانے پر بھی رڈار موجود ہوتی ہے اور ہر جہاز پر نگرانی ہوتی ہے۔ اس کے بعد دوسرا جھوٹ عمارتوں سے ٹکرانے کا ہے لیکن عمارت کے اسٹرکچرل انجینئرز کے مطابق جس طرح یہ معارتیں گری وہ ہوائی جہاز سے گر ہی نہیں سکتیں۔ جس طرح عمارت کے اسٹیل کے بڑے بڑے پلرس پگھل کر گرے وہ ممکن ہی نہیں۔ ہوائی جہاز کے ٹکرانے سے قبل ہی عمارت کو ایک کنٹرولڈ ڈیمولیشن سسٹم سے گرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ حالانکہ جو جہاز کے ٹکرانے کی ویڈیوز ہیں وہ پینٹاگون اور ورلڈ ٹری، سینٹر کے اوپری منزلوں کی ہیں لیکن حملے کے وقت موجود لوگوں کے مطابق انہیں ریسیپشن پر یا نیچے کے فلور سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ گیارہ ستمبر کو ان عمارتوں سے ایک بلاک آگے WTC7 نامی47 منزلہ عمارت بھی ٹوئن ٹاورز کی تباہی کے سات گھنٹے بعد بالکل اسی طرح محض پانچ چھ سیکنڈ میں زمین بوس ہوگئی جبکہ اس سے کوئی طیارہ نہیں ٹکرایا تھا۔ سرکاری طور پر اس واقعے کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی حتی کہ جولائی 2004ء میں ‘نائن الیون کمیشن’ کی جو نام نہاد تحقیقی رپورٹ آئی، اس میں اس واقعے کا کوئی ذکر ہی نہیں کیا گیا ۔ سوال یہ ہے کہ طیاروں کی ٹکر کے بغیر ہی یہ فلک شگاف عمارت کس طرح لمحوں میں زمین بوس ہوگئی اور امریکی حکومت اور مین اسٹریم میڈیا نے اسے چھپانے کی کوشش کیوں کی؟پنٹاگون کی عمارت سے 757 جیسا دیوہیکل جہاز ٹکرایا مگر اس کی عمارت کو ٹوئن ٹاورزکے مقابلے میں برائے نام نقصان پہنچا جبکہ دوسری عمارت موقع پر ہی راکھ میں تبدیل ہو گئی ۔ اگر جہاز ٹکرانے سے ٹوئن ٹاورز زمین بوس ہوسکتے تھے تو پنٹاگون کی عمارت کو اتنا معمولی نقصان کیوں پہنچا؟امریکی انتظامیہ کو تحقیقات کے لیے جہازوں کے فولادی ڈھانچوں میں سے تو کچھ نہیں ملا اور کہہ دیا گیا کہ بے پناہ حرارت کے سبب وہ بخارات بن کر اُڑگئے، لیکن ڈی این اے ٹسٹ کے لیے مسافروں کے گوشت کے لوتھڑے مل گئے، پلاسٹک اور کاغذ کے بنے پاسپورٹس مل گئے، ۲ ہزار سینٹی گریڈ پر جو لوہے کی بڑی بڑی شہتری پگھل گئی اس میں پلاسٹک کے آئی کارڈس مل جانے یقینا عجوبہ تھا جو آج تک پتہ نہیں چلا کہ آخر یہ عجوبہ کیسے رونما ہوا؟ خود سی آئی اے کے سابق ایجنٹس، دیگر خفیہ اہلکاروں نے حملے کے پورے واقعہ کو ایک بڑی سازش قرار دی ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں حملے کے وقت موجود لوگوں کے انٹرویوز میں صاف کہا جا رہا ہے کہ انہو ں نے دھماکوں کے متعدد آوازیں سنیں۔ ایسیا نہیں ہے کہ اس حملے سے پہلے یا سازش سے پہلے کچھ کلیوز کچھ سیکریٹ میسجز نہیں بتائے گئے ہیں۔ خود امریکی مرکزی ایمرجنسی مینجمنٹ یعنی فیما کے 1997 کے مینوئیل میںشائع کیا گیا جا چکا ہے جس میں نشان ٹویٹ ٹاور کو کیا گیا ہے۔ پینٹاگون میں بھی حملو ںکے ایک سال پہلے یعنی اکتوبر0 200 میں ایک آپریشن مسکل نام سے ہوائی جہازوں کے ٹکرانے کی مشق کی گئی تھی۔ اے بی سی چینل کی رپورٹ کے مطابس ایف بی آئی کو 11-9 حملوں سے چھہ مہینے سے قبل 52 مرتبہ حملوں کے اندیشی ظاہر کیے گئے تھے۔ پوری طرح سے حملوں کے اندیشوں کو نظر انداز کیا گیا ۔ 12 ملکوں نے بھی امریکہ کو حملو ںکے مد نظر پیشگی حدشات ظاہر کیے تھے جسپر اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔میڈیا ئی رپورٹس کے مطابق حملوں کا مساٹر مائن جنرل احمد تھا جس نے اسی دن ۱۱ ستمبر 2001 کو امریکی عہدیداروں کے ہمراہ ناشتہ کیا۔ سی بی ایس چینل کے مطابق جن 11 ہائی جیکرز کا نام رپورٹ میں لیا گیا ہے اس میں سے دو ہائی جیکرز امریکی خفیہ ایجنسی ایف بی آئی کے مخبروں کے ساتھ رہ رہے تھے۔ نائن الیون کا حملہ سازش ہے اس کےلئےل کئی ڈاکیومنٹریز بنائی جا چکی ہیں جس میں

9/11 The Myth and The Reality, The Tuth and the lies of 9-11, Improbable Collapse, 9-11 Mystries, Painfyl deceptions, What really Happened on 9/11, 911 the Great Conspiracy,

ایسی کئی دستاویزی ڈاکیمنٹریز ہیں جو یہ ثابت کرتی ہیں کہ نائن الیون کا حملہ دراصل باہری طاقتوں کا حملہ نہیں بلکہ خود امریکی سازش کا ایک حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ پروفیسر اسٹیون جونز ، پروفیسر ڈیوڈ رے گریفن اور سابق امریکی نائب وزیر خزانہ پال کریگ رابرٹس سمیت کئی مغربی محققین نے دلائل اور ثبوت و شواہد سے اس حقیقت کو پوری طرح بے نقاب کردیا ہے کہ افغانستان پر فوج کشی کے لیے نائن الیون واقعات، بش انتظامیہ اور امریکی ایجنسیوں کا خود ساختہ خونی ڈراما تھے تاکہ افغانستان پر حملے اور قبضے کے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے لیے جواز مہیا کیا جاسکے۔ہالی ووڈ کے فلم ڈائریکٹر افسانوی فلمساز ، تجربہ کار اداکار ، پروڈیوسر ، آسکر ایوارڈ یافتہ اسکرین رائٹر اسپائیک لی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ نائن الیون کے سازشی نظریات پر یقین رکھتے ہیں۔ انہو ںنے آٹھ گھنٹے طویل ایک دستاویزی فلم نیویارک ایپیسینٹرزبھی بنائی جس میں 9/11 کے حقائق پر گفتگو کی گئی ہے ۔اب بات کرتے ہیں کہ اگر یہ سازش ہے تو اس سے فائدہ کیا ہوا؟ کسے اور کیسے فائدہ ہوا تو سب سے پہلے بات امریکی سیاستدانوں اور کارپوریٹ گھرانوں کی کہ امریکہ میں اس حملے سے قبل تیل کی قلت انتہائی عروج پر تھی۔ لوگوں کو قطار میں تیل حاصل کرنا پڑتا تھا۔ اب خلیجی ممالک میں تیل کے کنووں پر امریکہ کی بالراست بالادستی ہے۔ دہشت گردی سے جنگ کے نام پر ہر ملک میں کھربوں روپیوں کی تجارت ہوئی جسمیں سب سے زیادہ سیاستداں اور کارپوریٹ گھرانے شامل ہیں۔ ٹارگٹ مسلمانوں کو بنایا گیا جوکہ اب صلیبی جنگوں کی تبدیل شدہ شکل ہے۔ دھیرے دھیرے ہتھیاروں کے سوداگر امریکہ کے ہتھیاروں کی فروخت میں انتا اضافہ ہو گیا کہ سارے ممالک خوف کے سائے میں اربوں روپیوں کے ہتھیار خریدنے لگے۔ امریکہ کی سوپر پاور کی شناخت جو اس نے سویت یونین کو توڑ کر حاصل کی تھی وہ دھندلی ہوتی جا رہی تھی اس کا احیاء کرنا ضروری تھا۔ اور سب سے آخر میں ڈر کا جو ماحول پیدا کیا گیا ہے اس کے تحت اپنی پالیسیاں پورے عالم پر تھوپنے کی جو مثال ہے وہ امریکہ سے زیادہ کہاں مل سکتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے امریکہ بھی صیہونی نرغے میں ہیں جہاں سب سے زیادہ مالدار صیہونی، ساستداں صیہونی، فیڈرل بنک صیہونی قبضہ میں، میڈیا اور کارپوریٹ گھرانے یہودیوں کے قبضہ میں تو اصل امریکہ کو چلانے والے اور امریکی جن کی کٹھ پتلی بنا ہوا ہے وہ حقیقی طور پر صیہونی انتہاپسند ہیں جو امریکہ کو ایک پالے ہوئے غنڈے کی طرح استعمال کرتے ہیں۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!