مہاراشٹر

سیلاب متاثرین کو راحتی سامان کی امدادی مہم میں تال میل پایا جانا بہت ضروری ہے

جلگاوں (سعید پٹیل کی خصوصی رپورٹ):گذشتہ دنوں ریاست کے کوکن علاقہ سمیت دیگر شہروں میں موسلا دھار بارش کی وجہ سے آئے سیلاب نے باالخصوص علاقہ کوکن کے چپلون اور مہاڈ ان دونوں تحصیلوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔جس کی وجہ سے ان شہروں سمیت دیگر سبھی سیلاب زدہ مقامات کے سیلاب متاثرین کو فوری طور پر بڑا اور پختہ دلاسہ دینے کی ضرورت ہے۔جبکہ اسی دوران ملی تنظیموں نے فوری طور پر سیلاب زدہ علاقوں میں راحت پہونچانے کی کامیاب کوشش کیں۔لیکن سیلاب کی وجہ سے سب کچھ تباہ ہوچکے لوگوں کا دکھ بہت بڑا ہے۔جن کی نشاندہی کرکے انھیں مضبوط سہارے کی ضرورت ہے۔ان کی پہچان کرنا یقینی طور پر بہت مشکل کام ہے۔لیکن پھربھی کئ تنظیموں نے سیلاب زدہ علاقوں میں فوری طور پر پہونچ کر متاثرین میں راحتی سامان کی امداد کا کام تیزی سے شروع کیا ،جس میں کھانا ،راشن کٹس ،طبی خدمات اور رہائشی علاقوں میں ریلیف کے کاموں میں اپنے آپ کو جھونک دیا۔جو قابل ستائش ہے۔لیکن ایک بات یہاں واضع طور پر کہی جاسکتی ہےکہ اس امدادی کام میں تیزی کے ساتھ ساتھ سیلاب زدگان میں ضروری اشیاء ،راحتی سامان ،اناج ،گیس چولہا ،بستر ،چٹائی وغیرہ کو سیلاب زدگان میں تقسیم کرتے وقت تنظیموں میں کام اور ضروری سامان کے انتخاب میں ان کے درمیان میں تال۔میل ہونا ضروری ہے۔اسی دوران سیلاب زدہ مقامات سے آنےوالی خبروں کے مطابق تین باتیں خاص طور پر سننے کو مل رہی ہیں کہ جو تنظیمیں وہاں کام میں اپنےآپ کو جھونکے ہوئے ہیں ،ان میں راحتی سامان لیجانے میں یکسانیت پائی جارہی ،جو کہ کام کی تقسیم کے اعتبار سے ہر تنظیم کا کام مختلف ہونا چاہیئے تاکہ متاثرین کو ملنے والی مدد ایک جیسی نہ ہو ، اگر ایسا ہوا تو متاثرین کے کئ اہم تقاضے راحت رسانی سے چھوٹ نہ جائے۔ویسے کام میں یکسوی تو نمایاں اور قابل ستائش سننے اور دیکھنے کو مل رہی ہیں ، لیکن سیلاب متاثرین کے دیگر مسائل میں سب سے اہم رسوئی کا سامان ، روزگار کے ذرائع جو بڑے پیمانے پر سیلاب کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں ، لباس ایک۔ ماہ کا راشن اور موسمی امراض یا مستقل بیمار افراد کےلیئے طبی تقاضوں کو پورا کرنا جیسے مختلف مسائل پر امدادی خدمت انجام دینے والوں کے سامنے تو جہ طلب ہیں۔ملی تنظیمیں اپنے رضاکاروں کے ذریعے ریلیف کے کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے متاثرین سے ملاقاتیں کریں اور ممکنہ کوشش کریں کے انھیں کون سی چیز کی ضرورت ہیں یا پھر یہ یقین دلائے کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ہر کام منصوبہ بند طور پر ہونا چاہیے۔جن لوگوں کی تجارت ،کاروبار ،روزگار کے ذرائع ختم ہوچکے ہیں انھیں دوبارہ مدد کرکے کیسے کھڑا کیا جاسکتا ہے۔یہ پہلوں سب سے اہم ہے۔ ریاستی وزراء کے دورے شروع ہوچکے ہیں ،اور تیسرا سب سے بڑا سردرد یہ ہےکہ کام کرنے کو لےکر اس کا کریڈٹ لینے کا رحجان بھی ہے۔؟کوکن ،سانگلی ،ستارا
،کولہاپور کے سیلاب متاثرین کےلیئے صرف زبانی ہمدردی سے یہ مصیبت کم ہونے والی نہیں ہے۔اس کےلیئے ہر محاذ و اہم شعبوں پر توجہ دینے کی اور وہ بھی مختلف شعبوں کا انتخاب کرکے کیا جانا زیادہ بہتر ہوگا۔اور ہم ملی تنظیموں سے یہی امید کرتے ہیں۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!