مہاراشٹر

مالیگاؤں میں کورونا مریضوں کی انتہائی کم تعداد کی جانب حکومت متوجہ ؛ ہیلتھ یونیورسٹی کر رہی ہے سروے ؛ منصورہ کاڑھے” کی پوری دنیا میں گونج

مالیگاؤں: (سیّد علی انجم رضوی) : کورونا کے قہر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ ہر کوئی اس بیماری کے خوف سے کانپ رہا ہے۔ اب تک اس کے تین دور ہم نے دیکھ لیے ہیں۔ ہر دور دوسرے دور سے زیادہ مہلک ثابت ہورہا ہے۔ اب کرونا کا ایک نیا روپ دنیا کے سامنے اومی کرون ویری انٹ کے نام سے آیا ہے۔ ایک مرتبہ پھر ہر طرف کورونا کی وجہ سے ہاہاکار مچا ہوا ہے۔ اس بیماری کا خوف ہر طرف پھیلتا جا رہا ہے۔ مگر ان تشویشناک حالات میں بھی کچھ چیزیں ایسی ضرور ہیں جو ہمیں راحت کا احساس دلاتی ہیں ۔
جب اس وبا کا زور بہت زیادہ تھا اور لوگ بڑے پیمانے پر موت کا شکار ہو رہے تھے ، ایسے عالم میں مہاراشٹر کا ایک شہر مالیگاؤں اس کی زد سے بہت حد تک محفوظ رہا۔حیرت انگیز طور پر یہاں مریضوں کی تعداد بہت ہی کم تھی ۔ ملک کا ہر علاقہ اس وبا کی زد میں تھا۔ ہر کوئی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا تھا۔ ہر طرف ماسک والے چہرے نظر آتے تھے۔ سوشل ڈسٹنسِنگ کا شور تھا ، ایسے عالم میں بھی مالیگاؤں کی سرزمین پر اس بیماری کا بہت زیادہ خوف نظر نہیں آیا۔ پورا ملک اس بیماری کی وجہ سے پریشان تھا مگر مالیگاؤں کے حالات دیکھ کر ہر کوئی حیرت زدہ رہ جاتا تھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں کہ یہاں پر بیماری کا کوئی خوف نہیں۔ نہ ماسک کا بہت زیادہ استعمال ہے نہ سوشل ڈسٹنسنگ کی پابندی۔ اس کے باوجود حیرت انگیز طور پر بیماروں کی تعداد یہاں بہت ہی کم تھی۔
یہی بات لوگوں کا تجسس بڑھا رہی تھی کہ ایسی کیا وجوہات ہیں کہ مالیگاؤں شہر کے باشندے باوجود کہ احتیاطی تدابیر پر پوری طرح عمل پیرا نہیں ہیں پھر بھی یہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد دیگر شہروں کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ اس تجسس نے سرکاری سطح پر بھی سر ابھارنا شروع کر دیا ہے اور ریاست میں موجود صحت کے ساتھ جڑے ہوئے کئی ادارے ایسے ہیں جو اس بات پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کیا وجوہات ہیں کہ جس نے اس شہر کو اس مہلک وبا سے محفوظ رکھا ہے اور اس جان لیوا بیماری کا اثر بہت زیادہ یہاں پر نظر نہیں آرہا ہے۔ اس لئے مہاراشٹر کی ایک یونیورسٹی جس کا تعلق صحت عامہ سے ہے، "مہاراشٹر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، ناسک” یعنی ایم یو ایچ ایس (MUHS) نے اس کام کو اب اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔
ایم یو ایچ ایس نے ریاست کے کئی میڈیکل کالجز کی مدد سے مالیگاؤں میں ایک طبی سروے شروع کیا۔ اس پروجیکٹ کے ذریعہ وہ اس بات کو جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ وہ کیا وجوہات ہیں کہ کورونا جیسی مہلک بیماری سے یہ شہر محفوظ ہے۔ اس سروے کے لیے انھوں نے باقاعدہ ایک پروگرام ترتیب دیا ہے۔ اس سروے میں دھولیہ کے بھاؤ صاحب ہیرے گورنمنٹ میڈیکل کالج، ایس۔ ای۔ پی۔ ایم۔ میڈیکل کالج دھولیہ، موتی والا کالج ناسک، محمدیہ طِبّیہ کالج مالیگاؤں، الامین میڈیکل کالج مالیگاؤں وغیرہ شامل ہیں۔ ہیلتھ یونیورسٹی، ناسک نے اس پروجیکٹ کے کوآرڈِنیٹر کے طور پر ” منصورہ کاڑھا ” کے نام سے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کے کئی ملکوں میں شہرت پانے والی کورونا کی موثر دوا کے موجد کالج "محمدیہ طبیہ کالج، مالیگاؤں ” کے پروفیسر سیّد منہاج (ایم۔ ڈی۔) کا تقرر کیا ہے۔ مذکورہ بالا کالجز کے اسٹاف پر مشتمل تقریبا 19 ٹیمیں اس سروے کے کام میں لگی ہوئی ہیں۔جن میں خصوصی طور پر یونیورسٹی کے نمائندے ڈاکٹر پرشانت شوگُندے، مالیگاؤں کارپوریشن کی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سونیتا روکڑے، ڈاکٹر سپنا ٹھاکرے، ڈاکٹر ماجد، ڈاکٹر عرفان، ڈاکٹر فہمیدہ وغیرہ شامل ہیں۔
یہ ٹیمیں گھر گھر جا کر خون کے نمونے جمع کر رہی ہے تاکہ اس بات کے سائنٹِفِک ایویڈنس (سائنسی ثبوت) جمع کیے جا سکے کہ مالیگاؤں میں کورونا کے مریضوں کی انتہائی کم تعداد کے پیچھے کیا طِبّی وجوہات ہیں۔ ان کی قوتِ مدافعت (Immunity Power) آخر اتنی زیادہ کیوں ہے۔ ان کا طرزِ زندگی کیسا ہے، ان کی غذائیت کیا ہے، کون کون سی چیزیں ان کے روز مرہ کے کھانوں میں شامل ہے، وغیرہ وغیرہ۔
اب یہ طبی سروے یقیناً کئی ٹھوس ثبوت فراہم کرے گا مگر یہ ہم جانتے ہیں کہ اس وبائی مرض سے محفوظ رہنے کا ضابطہ جس پر مالیگاؤں کے باشعور اور اسلام پسند باشندے عمل کر رہے ہیں وہ نسخہء کیمیاء ” توکل علی اللہ ” ہے۔ اس سروے کے ذریعے ایک بار پھر محمدیہ طبیہ کالج کے "منصورہ کاڑھے” کی گونج چہار جانب سنائی دی گی جو کالج کے باصلاحیت اور قابل اسٹاف کے اعزاز میں مزید چاند ستارے ٹانک دے گی۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!