اہم خبریں

یتی نرسمہانند کو خواتین کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس کے معاملے میں کیا گیا گرفتار؛مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقریرکے معاملے میں نہیں! پولیس کا خلاصہ

نئی دہلی: یتی نرسمہانند، جس نے گزشتہ ماہ اتراکھنڈ کے ہریدوار میں مسلمانوں کے قتل عام کی اپیل کی تھی، کو نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں نہیں بلکہ خواتین پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع نے نرسمہانند کی گرفتاری کے ایک دن بعد این ڈی ٹی وی کو یہ بات بتائی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر کیس میں مذہبی رہنما کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے، ساتھ ہی اس کیس میں بھی ان کا ریمانڈ لیا جائے گا۔
پولیس افسر نے کہا، "یتی نرسمہانند کو خواتین کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کے لیے گرفتار کیا گیا ہے نہ کہ ہریدوار نفرت انگیز تقریر کیس میں، ابھی تک صرف اس معاملے میں نوٹس جاری کیا گیا ہے، تاہم نفرت انگیز تقریر کیس میں، اسے بھی ریمانڈ پر لیا جائے گا۔ اور اس کی کارروائی جاری ہے۔ ہم ریمانڈ کی درخواست میں نفرت انگیز تقریر کیس کی تفصیلات بھی شامل کریں گے۔
نرسمہانند کے خلاف موجود خواتین کے خلاف توہین آمیز ریمارکس مبینہ طور پر "معمولی” ہیں کیونکہ یہ قابل ضمانت ہے۔
یتی نرسمہانند ان لوگوں میں شامل ہیں جو گزشتہ ماہ ہریدوار میں منعقد "دھرم سنسد” میں نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں درج ایف آئی آر میں درج ہیں۔ جتیندر نارائن سنگھ تیاگی، جو تبدیلی مذہب سے پہلے وسیم رضوی تھے، اب تک اس کیس میں گرفتار ہونے والے واحد شریک ملزم ہیں۔ واقعہ کے تقریباً ایک ماہ بعد سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!