مہاراشٹر

عظیم قومی شخصیات کی یوم پیدائش کی فہرست میں مہاراشٹر حکومت نے مولانا ابوالکلام آزاد کا نام شامل نہیں کیا جو نہایت ہی افسوس ناک ہے ; ڈاکٹر فیضان عزیزی ; کاوش جمیل کی خبر کا اثر ، ڈاکٹر فیضان عزیزی نے کی وزیر اعلیٰ سے شکایت

کھام گاؤں (واثق نوید) : موجودہ سیکولر حکومت کے دور میں بھی مولانا ابوالکلام آزاد کو نظر انداز کرنے پر کاوش جمیل نے مفصل خبر لگائی تھی ۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ حکومت کے اس حکم نامے کے خلاف مسلم رہنماؤں میں کچھ حد تک بیداری پیدا ہوئی ۔ مرکزی حکومت کے زیر اہتمام اقلیتی تعلیمی سرگرمیوں کی نگراں کمیٹی کے سابق رکن ڈاکٹر فیضان عزیزی نے اس ناانصافی کی جانب توجہ دیں اور اس ضمن میں ایک شکایت ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کو تحریری طور پر کی۔ اس شکایت میں تحریر کیا ہے کہ، مہاراشٹر حکومت کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ نے 31/12/2021 کو سرکلر منفرد کوڈ نمبر 202112311449569207 www.maharashtra.gov.in۔ پرجاری کیا جس میں بھارت رتن مرحوم مولانا ابوالکلام آزاد اور پہلی مسلم معلمہ فاطمہ شیخ کا نام سال 2022 کی عظیم قومی شخصیات کی یوم پیدائش اور قومی دن منانے کے پروگراموں کی فہرست میں شامل نہیں کیا ہے، جبکہ آنجہانی بال ٹھاکرے کا نام شامل گیا ہے مولانا کو نظر انداز کرنا تعجب خیز ہی نہیں بلکہ افسوسناک کے ساتھ قابل مذمت ہے ۔ مہاراشٹر حکومت مولانا جیسی عظیم شخصیت کا نام سرکلر میں شامل کر اسے دوبارہ جاری کرے۔ ڈاکٹر فیضان عزیزی نے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ جناب ادھو ٹھاکرے ، مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے اور مہاراشٹر حکومت کے اقلیتی وزیر نواب ملک کو اس طرح کے مطالبے کے سلسلے میں ایک خط لکھا اور اسی خط اور سرکلر کی کاپی کانگریس سربراہ و صدر سونیا گاندھی کو بھی بھیجا اور یاد دلایا کے مولانا ابوالکلام ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے دوران سب سے زیادہ بااثر مجاہدین آزادی میں سے ایک تھے۔ وہ ایک ممتاز سیاسی رہنما تھے اور 1923 اور 1940 میں انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے۔ مسلمان ہونے کے باوجود وہ اکثر جناح جیسے لیڈروں کی بنیاد پرست پالیسیوں کے خلاف کھڑے رہے۔ وہ ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔ انہیں 1992 میں بعد از مرگ ہندوستان کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ‘بھارت رتن’ سے نوازا گیا۔دوسری طرف فاطمہ شیخ کا نام بھی نہیں ہے، جب کہ دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ کمپنی گوگل نے ڈوڈل بنا کر انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ وہ ساوتری بائی پھولے کے ساتھ مضبوط کھڑی تھیں۔ 1800 کی دہائی میں ایک تعلیمی انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے ہندوستان کی وہ پہلی مسلم خاتون معلمہ بنی۔ پونے میں شیخ نے اپنے بھائی عثمان کے ساتھ مل کر جیوتی راؤ اور ساوتری بائی پھولے کو بے دخل کرنے کے بعد اپنے گھر میں پناہ دی ۔ فاطمہ نے ساوتری بائی سے اپنے گھر میں لڑکیوں کا پہلا اسکول قائم کروایا جسے سودیشی لائبریری کہا جاتا ہے۔
جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے سرکلر سے ایسی نظر اندازی نہ صرف عجیب ہے بلکہ دانشوروں کے لیے چونکانے والی بھی ہے کہ آنجہانی بال ٹھاکرے جی کا نام تو ڈالا مگر مولانا آزاد جیسی شخصیت کو کیسے چھوڑ دیا ؟ مجھے امید ہے کہ آپ بتائے گئے معززین کے نام شامل کرنے کے لیےآپ مناسب کارروائی کریں گے۔ اس خط کے ساتھ سرکلر کی ایک کاپی اس منسلک ہے۔۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!