ممبئی

مسئلہ فلسطین عالمی ضمیر پر ایک بوجھ ہے : سعادت اللہ حسینی

حماس اور فلسطین کی دیگر مزاحمتی قوتیں اپنے حقوق کی قانونی لڑائی لڑ رہی ہیں، وہ یہودیوں کیخلاف نہیں صہیونیت کے خلاف برسر پیکار ہیں : ڈاکٹر باسِم نعیم

ممبئی: جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر نے مسئلہ فلسطین کے حقائق سے ہندوستانی عوام کو روشناس کرانے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ایک بین الاقوامی ویبنار منعقد کیا جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی ہند سید سعادت اللہ حسینی نے کی اور ملکی و عالمی شخصیات نے اس سے خطاب کیا۔

سید سعادت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ مقررین نے فلسطین کی تاریخ بیان کی ہے۔ ۱۹۴۸ سے قبل اسرائیل نام کا کوئی ملک نہیں تھا۔ اسے وجود میں لانے والی استعماری قوتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی اس کی تاریخ کو سمجھنے اور پھر اہل وطن کو بھی بتانے کی ضرورت ہے۔

امیر جماعت نے کہا کہ مسئلۂ فلسطین عالمی ضمیر پر ایک بوجھ ہے اور یہ بوجھ اس لئے ہے کہ سب کچھ جانتے سمجھتے ہوئے بھی دنیا اسرائیل کے ظلم کو روکنے اور فلسطینیوں کے حقوق دلانے میں ناکام ہے۔ سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اسرائیل محض مذمتی قراردادوں سے باز نہیں آنے والا۔ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا اپنے ضمیر کی آواز پر متوجہ ہو اور اسے یکہ و تنہا کرکے اسے اس کے جرائم کی سزا دے۔ اس کے بغیر فلسطینیوں کے درد کا مداوا نہیں ہوگا۔

امیر جماعت نے فلسطینیوں کی حالیہ کامیابی کیلئے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینی ہی ہیں جنہوں نے بے دریغ قربانیاں دے کر اپنی پیش قدمی کو جاری رکھا ہے۔

امیر جماعت نے انگریزوں سے ہندوستان کو اور جنوبی افریقہ کو نسل پرست حکومت سے آزاد کرانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کو بھی ان شاء اللہ اسی طرح اپنی تحریک آزادی میں کامیابی ملے گی۔ اس دنیا کی آخری استعماری قوت کو ختم کرکے دنیا کے ضمیر کو اس بوجھ سے آزاد کرانا ہے ۔

ڈاکٹر سلیم خان رکن مرکزی مجلس شوریٰ اور جماعت اسلامی مہاراشٹر کے معاون امیر حلقہ نے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ صہیونیوں کے پاپ کا گھڑا بھر چکا ہے۔ وہ عنقریب اپنے انجام کو پہنچنے والے ہیں۔ اسرائیل کا جنگ بندی کیلئے مجبور ہونا اس کا بین ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر سے یوں تو دنیا کا کوئی خطہ خالی نہیں ہے مگر فلسطین وہ جگہ ہے جہاں ڈنکے کی چوٹ پر اسرائیل انسانی حقوق کی کھلے عام دھجیاں اڑاتا ہے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ اسے دنیا کے کئی طاقتور ممالک کی بالواسطہ یا بلا واسطہ حمایت حاصل ہے۔

حماس نے اپنی محرومیوں کا ماتم کرنے کی بجائے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ حماس نے پتھروں سے شروع ہونے والی انتفاضہ کو راکٹ کے دور میں پہنچادیا ہے اور اسرائیل کو یہ جتا دیا ہے کہ اسے بہر صورت فلسطینیوں کی زمین واپس کرنی ہوگی۔ اس صورتحال نے عالم اسلام میں عموماً اور فلسطینیوں میں خصوصاً خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کا اپنے وطن لوٹنا اور یہودیوں کا ساری دنیا میں پھر سے بکھر جانے کا دور شروع ہونے والا ہے۔

ڈاکٹر باسیم نعیم، جو پیشہ سے ڈاکٹر اور فلسطین و عرب دنیا کی معروف شخصیت ہیں اور سابق فلسطینی حکومت میں وزیر صحت بھی ہیں، نے کہا کہ حماس نے جو کچھ کیا وہ قانون کے دائرے میں کیا وہ اپنی زمین اور اپنے مستقبل کیلئے جد و جہد کررہے ہیں ان کی تحریک آزادی اور وقار کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف فلسطینیوں کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری عرب دنیا اور سارے مسلمانوں کا ہے۔ مسجد اقصیٰ پوری امت کا مسئلہ ہے۔ہماری جد و جہد یہودیوں کیخلاف نہیں، صہیونیت کیخلاف ہے جنہوں نے ہماری زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے-

انہوں نے کہا کہ ہم نہیں کہتے کہ دنیا ہماری بات ہی تسلیم کرے بلکہ عالمی طور پر تسلیم شدہ جو قوانین بنے ہوئے ہیں اسی کی بنیاد پر مسئلہ فلسطین کو سمجھے۔ اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ اس قانون کے مطابق بھی غیر قانونی ہے۔ فلسطینیوں کی مزاحمت عالمی قوانین کے مطابق ہی ہے۔

ڈاکٹر باسیم نعیم نے سلامتی کونسل میں ہندوستان کی فلسطین کو حمایت کا خیر مقدم کیا نیز امید جتائی کہ ہندوستان کی یہ حمایت مستقل رہے گی۔ انہوں نے فلسطین کی جنگ آزادی کو ہندوستان کی جنگ آزادی کے مشابہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ گاندھی جی سے لے کر آزادی کے بعد کی ساری حکومتوں نے فلسطینیوں کی حمایت کی مگر اب پالیسی کی تبدیلی سے انہیں دکھ ہے۔
اسرائیل کیخلاف عالمی رائے عامہ کی تبدیلی پر روشنی ڈالتے ہوئے مڈل ایسٹ مانیٹر لندن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر داؤد عبدالله نے فرمایا کہ فلسطین کی حمایت میں دنیا کے نقطۂ نظر میں کافی تبدیلی ہوئی ہے۔ چند ماہ قبل ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ فرانس اور یو ایس کے ایوانوں میں اسرائیل کو متعصب ریاست قرار دیے جانے پر بحث ہوگی۔ آج حالات یہ ہیں کہ ویسٹ انڈیز میں آتش فشاں پھٹنے کی پریشانیوں کے باوجود لوگ فلسطین کی حمایت میں راستوں پر اتر آئے ہیں۔

پروفیسر رام پنیانی نے کہا کہ فلسطین ہی اصل ملک ہے اور فلسطینی ہی اس کے باشندے ہیں۔ اسرائیل ایک مصنوعی ملک ہے جسے امریکی و برطانوی استعمار نے تخلیق کیا ہے۔

فلسطینی اس بار کیوں اسرائیل پر بھاری رہے؟ اس تعلق سے رام پنیانی نے کہا کہ فلسطینی پہلے سے زیادہ بیدار ہوئے ہیں وہ نہ صرف اسرائیل کا مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ وہ اپنے حقوق اور اسرائیل کے طریقہ کار کو بھی آسانی سے جان گئے ہیں اسی لئے انہوں نے اس بار اسرائیل کو جنگ بندی کے سمجھوتہ پر مجبور کیا ۔انہوں نے کہا اسرائیل کیخلاف عالمی رائے عامہ بیدار ہورہی ہے ، جس وقت غزہ پر اسرائیل کا حملہ جاری تھا اس وقت یوروپ کے اکثر ممالک میں اسرائیل کیخلاف احتجاج ہورہا تھا۔ یہ بہت بڑی تبدیلی کی جانب اشارہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم بھارت میں جن آندولن کے ذریعہ حکومت پر فلسطین کی حمایت کرنے کا دباؤ بنا سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: انتباہ:مواد محفوظ ہے