اہم خبریںمضامین

آپ کو یاد ہے یا بھول گئے !،،،محسن شیخ کی فیملی آج بھی انصاف کی منتظر ہے

maulana mubin siddiquiمولانا محمد مبین صدیقی
صدر جمیعت علماءضلع ہنگولی مہاراشٹر
Mob. 9922527627

انصاف ظالموں کی حمایت میں جائیگا
یہ حال ہے تو کون عدالت میں جائیگا
رنگ برنگی پھولوں کی طرح الگ الگ دھرموں مذہبوں سے پہچانے جانے والا ہمارا یہ دیش پچھلے کچھ سالوں سے بکھرے ہوئے چمن اور مرجھائے ہوئے پھولوں کی طرح اُجڑ چکا ہے۔ تہذیب اور ثقافت والےاس دیش میںچند ہی سالوں میں فرقہ پرست عناصر نے نفرتوں اور عداوتوں کا ایسا زہر یلا جال پچھایا ہے کہ جسکی چپٹ میں ہزاروں بے قصور اور معصوموں نے تڑپ تڑپ کر اپنی جانیں گنوادی ۔ فرقہ پرستوں کی طرف سے لگائی گئی، ہجومی تشدد ، کیاس آگ نے صر ملک کے ایک حصے کو نہیں بلکہ ملک کے کونے کونے تک اس آگ کے چپٹ میں لے لیا ہے۔ اور اس ہجومی تشدد کو حکومت کی پشت پناہی حاصل ہونے کی وجہ سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اور موجودہ سرکار کی وجہ سے یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ اور موجودہ سرکار کی خاموشی یہ بتاتی ہے کہ حکومت ۔ موب لینچنگ جیسی گھنونی حرکت پر تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اوریہ خاموشی صرف اس لیے ہے کہ ہجومی تشدد کا شکارہونے والے لوگوں کا تعلق ایک خاص طبقہ سے ہے اسکی ایک سیدھی سی مثال ہماے سامنے موجود ہے ۔ آج سے تقریباً چھ 6سال قبل 2جون 2014کو مہاراشٹر کے پونے شہر میں محسن شیخ نامی ایک سافٹ ویئر کو صرف ایک خاص طبقہ سے تعلق اور اسکی مذہبی شنآخت کی وجہ سے بھیڑ نے اسے نشانہ بنایا تھا اس بے گناہ معصوم نہتے نوجوان کو فرقہ پرست غنڈوں نے پتھروں اور لاٹھیوں سے مار کر اسکے سارے جسم کو چھنی کردیا جس سے تڑپ رٹ پ کر محسن شیخ کی جا ن چلی گئی ۔

محسن کے قتل کا واقعہ صوبہ مہاراشٹرا ے ساتھ ساتھ پورے دیش میں آگ کی طرح پھیلا اور ملک سے محسن شیخ کے انصاف کے مطالبے کی آوازیں بلند ہونے لگی خود محسن شیخ کے ضعیف والد اور اسکے بھائی نے پرزور انداز میں ریاستی حکومت سے انصاف کا مطالبہ کیا۔ ریاستی سرکار نے شروعاتی مرحلے میں اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کا ڈھونگ رپایا اور محسن شیخ کے فیملی کو انصاف کی امید دلائی گئی لیکن بدنیت حکومت کا اصلی چہرہ اس وقت سامنے آیا جب اس مقدمہ کی پیروی کررہے اسپیشل سرکاری وکیل اجول نگم نے خود کو اس مقدمہ سے الگ کرلیا اور اجول نگم نے ایک چینل کو دیے گئے انٹرویو میں اس کیس کو چھوڑنے کی ایک معمولی نہ ہضم ہونے والی وجہ بتائی۔ جب محسن شیخ کی مظلوم باپ کو اس بات کی اطلاع ملی تو یہ خبرمحسن کے والد اور انکی فیملی پر بجلی کی طرح گری جس پر انہوں نے ایڈوکیٹ اجول نگم سے رابطہ کرنے کی بار بار کوشش کی لیکن نتیجہ کے طور پر مایوسی ہی ہاتھ لگی جسکا بہت برااثر محسن شیخ کی فیملی پر ہوا جس سے انکے لڑنے کی طاقت اورکمزور ہوگئی۔ حکومت محسن کی فیملی کے ساتھ اسی طرح سے آنکھ مچولی کھیلتی رہی اور ادھر محسن کی فیملی نے حکومت سے انصاف کی آس لگائے رکھی۔

اس اثنا میں وقتی طور پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی چکر میں پرتھوی راج چوہان کی حکومت نے محسن شیخ کی فیملی کو مدد کے طور پر 50لاکھ روپئے اور اسکے چھوٹے بھائی مبین شیخ کو سرکاری نوکری دینے کی یقین دھائی کرائی لیکن محسن کے فیملی کو کیا معلوم ان سے کیا جانے والا یہ وعدہ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ پوری طرح کھو کھلا ثابت ہوگا۔ وہ مظلوم باپ نے اپنے بیٹے محسن کو انصاف دلانے کیلئے اور فیملی کو ملنے والی مدد اور نوکری کے لئے مسلسل ایک لمبی لڑئی لڑی۔ لیکن وہ مظلوم اور لاچار اکیلاباپ ہمدردی کا ڈھونگ رچانے والے کھوکھلے سسٹم سے کب تک لڑتا آخر کارانصاف کے ملنے سے پہلے ہی اﷲ کو پیارا ہوگیا۔ نوجوان بیٹے کا غم اور صدمہ اتنا تھا کہ وہ غم اور پریشانی کی وجہ سے اپنی بیماری کا صحیح علاج بھی نہیں کروا سکے اور اس لاپرواہی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرض بڑھتا گیا اور ایک دن دل کا دورہ پڑنے سے انکی موت ہوگئی۔ مظلوم محسن کے والد نے انصاف کی آس میں سسک سسک کر دم توڑدیا۔ جبکہ ظالم درندے ضمانت پر آزاد کسی اور مظلوم لاچار وہ بے بس محسن کی تلاش میں گھوم رہے ہیں۔ انصاف میں تاخیر انصاف نہ ملنے کے برابر ہے ۔

سرکاری وکیل اجول نگم کے کیس لڑنے سے انکار کے بعد اس مقدمہ میں آخری درجہ کی لاپرواہی برتی گئی اور حکومت کی ہے توجہی اور اجول نگم کیدستبرداری کا یہ نتیجہ نکلا کے ان ظالم درندوں کو آسانی سے ضمانت مل گئی اور بمبئی ہائے کورٹ نے ایک عجیب سا ترک دیا کے قتل میں شامل ان ملزمین کو قتل کے لئے اکسایا گیا تھا یہ کہتے ہوئے انہیں ضمانت دیدی جس پر سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کےاس فیصلہ پر تعجب کا اظہار کیا۔ لیکن یہ تمام چیزیں رسمی باتوں تک ہی محدود بنکر رہ گئی۔ جبکہ ایک انٹرویو میں محسن کے بھائی مبین شیخ نے کہا کہ محسن کے قتل میں تمام چیزیں واضح تھی، ملزم پکڑے جاچکے تھے گواہ بھی موجود تھے لیکن اسکے باوجود انصاف میں تاخیر کی گئی میرے والد جس سماج پر اوراسکے عدلیہ پر اعتماد کے ساتھ جی رہے تھے اسنے انکے اعتماد کو توڑ دیا میرے بھائی کے ساتھ ہوئی ناانصافی کا درد لیکر میرے والد بلکتے رہے اور یہاں تک کہ وہ چل بسے اب اگر انصاف ہوگا بھی تو وہ میرے لئے عدالت کا فیصلہ ہوگا۔ مبین شیخ نے کہا کہ محسن کے حادثہ نے میرے والدین کو بہت گہرا صدمہ پہنچایا دن رات میرے والد محسن کو یاد کیا کرتے تھے ۔ شولاپور سے پونے کورٹ کے چکر لگایا کرتے تھے میں بھی انکے ساتھ جایا کرتا تھا میرے بیٹے کو انصاف ملیگا۔ اسی اُمید میں وہ جی رہے تھے۔

الغرض دوستوں لیکن انہیں کیا معلوم انتظامیہ انصاف دلانا ہی نہیں چاہتی تھی اور حکومت کی طرف سے پوری طرح لاپرواہی برتی گئی اسی وجہ سے دھننجے دیسائی جو اس قتل کا اصلی مجرم تھا اسکو اور اسکو ساتھیوں کو ضمانت مل گئی ۔ جیل سے باہر آتے ہی ملزم دھننجے دیسائی کے استقبال میں جنگی پیمانے پر ریلی نکالی گئی لیکن مین مسجھتا ہوں وہ ایک ریلی نہیں تھی بلکہ اقلیتی طبقہ سے تعلقہ رکھنے والے ہزاروں اور لاکھوں والدین کو ایک چیلنج تھا کے اگلا نمبر آپ کا ہے اس کو کسی شاعر نے بہت خوب کہا کہ ۔

اس کے قتل میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا
میرے قتل پے آپ بھی چپ ہے اگلا نمبر آپ کا ہے

قارئین ۔ آپ خود اندازہ لگالیجئے ایک ضعیف باپ جواپنے مظلوم اور لاچار مقتول بیٹے جسکو فرقہ پرستوں نے انتہائی بے دردی سے قتل کیا تھا اسکے مجرموں کو سزا دلانے کے لئے دن رات اپنی صحت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تڑپ رہا ہو اس باپ کے سامنے اسکے بیٹے کا قاتل کو رہا کردیا گیا ہو اور وہ قاتل سارے شہر میں آزاد گھوم رہا ہو تو اس باپ کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی۔ میں اور آپ اسکا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ آج بھی محسن شیخ کی فیملی انصاف ملنے کی منتظر ہے۔ اور ظالم قاتل ضمانت پر گھوم رہے ہیں اور پورا سسٹم تماشائی بنا ہوا ہے۔ انصاف کی لڑائی میں اب محسن کی فیملی میں بس انکا بھائی اور انکی والدہ رہ گئی ہے۔ انصاف کو لیکر انکا بھروسہ ٹوٹ چکا ہے۔ لیکن ایسے سنگین اور مایوس کن حالات میں وہ خود کو اکیلا بے سہارا اورپریشان محسوس کررہے ہیں انکی اس تڑپ کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے کچھ نوجوان محسن شیخ کی فیملی کو انصاف دلانے کے لئے ایک مضبوط اور مستحکم حوصلہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان زندہ دل ملت کا درد رکھنے والے نوجوانوں نے پچھلے کچھ سالوں سے جسٹس فارمحسن کے نام سے ایک مضبوط اور جاندار مومنٹ چلایا ہے جسکا بہت بڑا اثر حکومت پر پڑرہا ہے ۔ اور محسن شیخ کی فیملی کو بھی اس مومنٹ سے بہت ساری امیدیں وابستہ ہے تو آئیں ہم اور آپ ملکر آنے والی 2جون کو جسٹس فار محسن کے پلیٹ فارم سے پورے ملک میں انصاف کی آواز کو بلند کریں اور محسن کو انصاف دلانے کے لیے 2جون کو جسٹس فار محسن مومنٹ کی طرف ہونے والے اس پروٹسٹ میں پوری طرح حصہ لیں۔

اُسکے قتل پے میں بھی چپ تھا میرا نمبر اب آیا
میرے قتل پے آپ بھی چپ ہے اگلا نمبر آپ کا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: انتباہ:مواد محفوظ ہے