مضامین

رمضان، قرآن اور حل

SHEEBAN FAEEZازقلم :
شیبان فائز ، جلگاﺅں مہاراشٹر

بسمہ اللہ الرحمٰنِ الرحیم
رمضان کا مبارک مہینہ سایہ فگن ہوچکا ہے ۔ہر طرف نور ہی نور ہے ۔لوگ عبادتوں و نمازوں میں مسرور ہے ۔ ہر آن نورانی ، قرآنی و روحانی کیفےتوں کا سماں بندھا ہوا ہے ۔ ےہ وہ مہینہ ہے جس کا سارا عالمِ اسلام انتظار کرتا ہے چاہے وہ امیر ہو ےا غریب ، کالا ہو ےا گورا ، عربی ہو ےا عجمی ۔ اس مہینہ کی سب سے خاص خصوصیت یہ ہے کہ اس مہینہ میں وہ معجزہ دنےا کے سامنے پیش کیا گیا جو تا قےامت انسانوں کی رہنمائی کرے گا ، جو مظلوموں کو ظلم سے نجات دلائے گا ، جو بے گناہوں کو انصاف سے آراستہ کرے گا ، جو بھوکوں کو کھانا کھلانے کا ذرےعہ بنے گا اور جو ےتیموں کے لےے خیر خواہی کی چادر تان دے گا ۔ میری مراد اس افضل ترین کتاب سے ہے جو حضرت محمد ﷺ پر اتاری گئی اور جسے میں اور آپ قرآنِ مجید سے تعبیر کرتے ہیں ۔
آج پوری دنےا پر نظر ڈالے تو معلوم ہوگا کہ حالات طاقت کے محتاج ہے ۔ جو طاقت رکھتا ہے وہی حالات پر قدرت رکھتا ہے ۔ طاقت ہی وہ شئے مان لی گئی ہے جو عدالتوں سے لے کر اےوانوں تک ہر کسی کو خرید سکتی ہے ۔ آج ایک بڑا طبقہ اسی کے ماتحت زندگی گزار رہا ہے ۔ لیکن فی الوقت چند افراد ایسے بھی ہے جو اس گھپ اندھیرے کو مٹانے کی سوچ رکھتے ہیں ۔ جو بہت تحقیق کررہے ہیں کہ کیسے اس غبار کو ختم کیا جائے ۔ مگر شاےد انھیں بہت سارے علم کے ساتھ ساتھ تھوڑی حکمت کی بھی ضرورت ہے ۔ حکمت اس بات کی جو سوالات کھڑا کرے کہ دنےا بھر کے مختلف ممالک سپر پاور ہونے کے باوجود بھی عوام پریشان کیوں ہے ؟ سوال ےہ کہ بجٹ کی بہتر سے بہتر اسکیم پیش کرنے کے بعد بھی غریبی کا ازالہ کیوں ممکن نہیں ؟ سوال ےہ کہ Rapist کی تعداد گھٹنے کی بجائے بڑھ کیسے رہی ہے َ ؟ اور ےوں سمجھ لیں کہ ہزاروں مشکلیں ہیں ساتھ ہی اسے حل کرنے کے لےے دنیا کے بڑے سے بڑے قانون ، ادارے و عملے موجود ہیں۔ لیکن آخر سب ناکام کیوں ؟ تو حکمت ےہ کہتی ہے کہ ضرورت ان اصولوں کو پیش کرنے کی ہے جو ۰۰۴۱ سال پہلے ساری دنےا کے لےے امید کی کرن بنے تھے ۔ جن کی وجہ سے لوگ خوشحال و ممالک جرائم سے پاک تھے ۔ جس کی ہیبت سے گناہ تک کانپتا تھا ۔ جس کے تحت بنائے گئے حکمران خود کو صرف خادم سمجھتے تھے بلکہ اس کا عملی نمونہ بھی پیش کرتے تھے ۔ جن کی سرگرمےاں اقتدار میں آنے کے لےے نہیں بلکہ ذمہ داری کو مکمل ادا کرنے کے لےے ہوتی تھی ۔ جن کے قلب و جگر میں حکمراں ہونے کے باوجود جواب دہی کا شدید احساس تھا جو ان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا تھا ، عوام کی فکر انھیں راتوں میں سلانے سے قاصر تھی اور ان کی سوچ ہر آن فلاح بہبود کے لےے حاضر تھی ۔ میں جن اصولوں کی بات کررہا ہوں وہ بلاشبہ قرآنی اصول ہیں ۔ آج دنےا بھر میں حقوقِ انسانی کے جھوٹے پاسدار فلاح و بہبودی کا جھوٹا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں لیکن حقیقت ہمارے سامنے ہے کہ پھر بھی ظلم کا بول بالا ہے ،امیر امیر ترین اور غریب غریب ترین بنتا جارہا ہے ،بھوک مری اپنے عروج پر ہے اور بیوائیں و ےتیم اپنے حقوق کے لےے ترس رہے ہیں ۔ مگر ذرا بھی ماےوسی اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کےونکہ قرآن و سنت ان سب مسائل کا حل پیش کرتی ہے ۔ قرآن و سنت ایک ایسی Society کا ماڈل ہمارے سامنے پیش کرتی ہے جہاں جاہلےت کے دستور کو پاش پاش کیا گیا ہے ۔ جہاں عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ۔ ایک نظام ایک خاندان کا تصور پیش کرتے ہوئے بتاےا گےا ہے کہ ہر کوئی آدم کی اولاد ہے نہ کوئی غلام ہے نہ کوئی بادشاہ ۔ اسی بات کو علامہ اقبال نے ےوں قلم بند کیا ہے کہ ۔۔۔
ً
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و اےاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
مزید ےہ کہ مسلمانوں کو اخوت کا درس دیا گیا ۔ غلاموں کے لےے کہا گیا کہ جو خود کھاﺅ وہی ان کو کھلاﺅ اور جو خود پہنو وہی ان کو پہناﺅ ۔ سودی نظام کا خاتمہ کردیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ جو کوئی سود کا لین دین کرے گا اللہ کا اس کے خلاف اعلانِ جنگ ہے ۔ عورتوں کے معاملات سے آگاہ کراتے ہوئے کہا گیا کہ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو عورتوں کا تمھارے اوپر حق ہے ۔ بچوں سے شفقت سکھائی گئی بڑوں کے آداب سے روشناس کراےا گےا ۔ ےہاں تک کہ جانوروں، پرندوں اور بے زبان مخلوقات کے ساتھ میںرحمدلی کی تعلیم دی گئی ، صفائی ستھرائی کو نصف ایمان سے تعبیر کیا گیا ۔ سیاسی و معاشرتی تعلیم سے آگاہ کراےا گےا اور ےہاں تک کہ نوعِ انسانی کی چھوٹی سے چھوٹی ضرورت سے لے کر بڑی سے بڑی ضرورت تک کو سامنے رکھ کر ایک ایسا نظامِ حےات پیش کیا گیا جس نے انسان کو انسانےت سے ملاےا ، جس نے نہ کبھی ظلم کیا اور نہ ہی کبھی ظلم کو سہا اور تو اور جس نے ہزاروں سالوں کی دنےاوی سلطنتوں کے تختے الٹ دےے تھے ۔ رومن اور پرشےن امپاےر جیسی طاقتوں کو گھٹنے ٹےکنے پر مجبور کردےا تھا ۔ قرآن میں باقائدہ خاص طور پر ان باتوں کو پیش کیا گیا جن کو ہمیشہ سے اگنور کردیا جاتا تھا اور جو آج بھی اپنے مسائل کے حل کے لےے تڑپ رہی ہے ۔ متعدد مقامات پر مسکینوں کو کھانا کھلانے کو کہا گےا ، ےتیموں کا حق دینے کو کہا گےا ، نیکی کا حکم اور برائی سے روکنے کو کہا گےا ، مانوں وہ نظامِ زندگی پیش کردیا گیا ہے جس کی آج دنےا کو اشد ضرورت ہے ۔
ماہِ رمضان کی صورت میں ہمارے پاس ایک ایسا موقعہ ہے جو ہمیں اللہ سے اس امید کے ساتھ قریب ترین کرسکتا ہے کہ ماےوسی کے ےہ کالے بادل ےقیناً چھٹ جائےں گے ۔ ےہ موقعہ ےتیموں کو ان کا حق دلا سکتا ہے ، بھوکوں کی بھوک اور پےاسوں کی پےاس مٹا سکتا ہے ۔ ضرورت مندوں تک ان کی ضرورت کو پہنچا سکتا ہے ۔ ےہ مہینہ جہاں ہمیں اللہ سے بہت قریب کرنے کا ضامن ہے وہی ےہ غمگساری کا درس بھی دیتا ہے ۔ ےہ دلوں کو موم اور شخصےت کو اوصافِ پارینہ کا گہوارہ بنا سکتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مہینہ کے مقاصد سے واقف ہوجائے اور خالص للّٰہےت کے ساتھ اس کے حصول کے لےے کو‘شاں ہوجائے ۔ اللہ ہمیں ذکر و اذکار اور عبادتوں کے صحیح مفہوم سے آگاہ کرائے ۔ ہم سے دین کی خوب خدمت لے اور ہماری تمام کوششوں و کاوشوں کو شرفِ قبولےت بخشے ۔
آمین ےا اب العالمین

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!