عالمی خبریں

امریکی حکمرانوں نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا ہے !

عمر فراہی

وہ جو دہشت گرد تھے انہیں جیلوں سے رہا کیا گیا۔ ان کے پاسپورٹ جاری کئے گئے اور ایک عرب ملک میں ان سے باقاعدہ ان کی شرائط پر گفتگو کی شروعات کی گئی ۔سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ Global war on terror کے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گیا ۔نہیں ایسا نہیں ہے جس طرح وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی اپنی ترجیحات اور مزاج میں فرق واقع ہونا فطری بات ہے باشعور قوموں اور ملکوں کی اپنی سیاسی حکمت عملی اور ترجیحات میں بھی تغیر ہونا لازمی ہے۔امریکی صدر اوبامہ نے افغانستان میں اپنے خلاف نوشتہ دیوار کو پڑھ لیا تھا۔انہوں نے محسوس کیا کہ اب اگر امریکہ افغانستان اور عراق سے اپنی فوجوں کی واپسی کا فیصلہ نہیں کرتا ہے تو امریکہ کیلئے اپنے وجود کو قائم رکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے ۔اوبامہ نے افغانستان اور عراق کی جیلوں میں قید حریت پسندوں کو سیاسی قیدی قرار دیتے ہوئے انہیں عالمی دھارے میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا ۔افغانستان کے جن قیدیوں کو رہائی دی گئی انہیں سیاسی قیدی قرار دے کر good طالبان کا نام دیا گیا ۔اوبامہ کے اس فیصلے کا کچھ حلقوں میں مذاق اڑایا گیا مگر 15 اگست 2021 کو طالبان نے کابل میں پرامن طریقے سے داخل ہو کر ثابت کر دیا کہ بارک حسین اوباما صحیح تھا !اور ان کی اپنی ترجیحات اور مزاج میں بھی فرق واقع ہوا ہے ۔
امریکہ کے صدر جوبائیڈن جو اوبامہ کی وزارت میں وزیر خارجہ جیسے کئی اہم امور کی ذمہ داری سنبھال چکے تھے اقتدار سنبھالتے ہی نہ صرف اوبامہ کے اس ادھورے کام کو پورا کرنے کا عزم کیا کابل سے اپنے فوجوں کی واپسی پر اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ وہ یہ جنگ امریکہ کے پانچویں صدر تک منتقل نہیں ہونے دیں گے ۔وہ لوگ جو افغانستان میں امن نہیں دیکھنا چاہتے وہ جوبائیڈن کے فیصلے پر بھی تنقیدیں کر رہے ہیں جبکہ اوبامہ اور جو بائیڈن کے فیصلے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اب امریکہ کی اپنی ترجیحات میں اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا موضوع شامل نہیں ہے ۔دوحہ معاہدے میں امریکہ نے یہ بھی تسلیم کر لیا ہے کہ اسلام ایک عالمی سیاسی نظریہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں دنیا کی کوئی بھی طاقت شکست نہیں دے سکتی ۔ اس کے علاوہ پوری دنیا کے ممالک جس زبردست معاشی بحران کا شکار ہیں دنیا کا ہر ملک معاشی طور پر نظام عالم کی تشکیل نو کا منتظر ہے ۔دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کوکچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ عالمی معیشت جو اتھل پتھل کا شکار ہے اسے کیسے صحیح رخ دیا جائے ۔شاید اسی لئے چین نے سنکیانگ سے پاکستان کی بندرگاہ گوادر تک CPEC سی پیک کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے جسے چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے نام سے جانا جاتا ہے ۔کہتے ہیں کہ افغانستان دنیا کے بہت سے ممالک کی تجارتی سرگرمیوں کا چوراہا ہے جو ایشیا ، وسطی ایشیا ،یوروپ اور مشرق وسطی کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے ۔
اگر یہ ملک اکیسویں صدی میں بھی شورش کا شکار رہا تو دنیا کے بہت سے ممالک جو ایک دوسرے سے کاروبار کرنا چاہتے ہیں وہ ایک دوسرے سے آسان اور سستی تجارت کے اہل نہیں ہو سکتے ۔چونکہ دنیا کے ہر کاروبار میں سازو سامان کے حصول کیلئے آمد و رفت کے ذرائع کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اس لئے ابھی تک وہ چاہے روس ہو کہ چین ان‌ممالک کیلئے افغانستان کے زمینی راستوں سے نہ صرف ایک دوسرے تک پہنچنا آسان نہیں تھا بلکہ ایک غیر مستحکم حکومت کی وجہ سے روس اور چین آسانی کے ساتھ ایران کے راستے عرب ممالک کو بھی سستے مال درآمد نہیں کر سکتے ہیں ۔شاید اسی لئے روس اور چین نے سب سے پہلے افغانستان کی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا اشارہ دے دیا ہے اور کابل میں ان کے سفارتخانے بھی کھلے ہیں ۔امریکہ نے بھی کچھ شرائط کے ساتھ اس حکومت کو تسلیم کرنے کی بات کہی ہے ۔ان تینوں سپر پاوروں نے اگر طالبان حکومت کو تسلیم کر لیا تو کم سے کم مسلم ممالک کیلئے ملا برادر کی اس حکومت کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز بھی نہیں رہ جاتا ۔اس بارے میں بھارت کی حکومت کا اپنا موقف ابھی تک واضح نہیں ہے لیکن اسے بھی بدلتی ہوئی دنیا کی سیاست کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہی ہو گی ۔
ویسے بھارت کیلئے طالبان اتنے بھی اچھوت نہیں ہیں ۔2013 میں جب تہلکہ کے ایڈیٹر ترون تیجپال نے گوا میں تھنک فیسٹیول کا انعقاد کیا تھا تو ٹائمس آف انڈیا کی خبر کے مطابق اس فیسٹیول میں طالبان کے اہم رہنما اور ترجمان ملا عبدالسلام ضعیف اور محمود مدنی بھی مدعو تھے ۔ترون تیجپال کے اس فیسٹیول سے تو ملا حضرات کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر ایسا لگتا ہے کہ جب اوبامہ نے افغانستان سے اپنی فوجوں کی واپسی کا اعلان کیا اور طالبان کو good Taliban کا نام دیکر ان سے گفتگو کی بات کی تو ہماری حکومت نے بھی محسوس کیا کہ اگر افغانستان دوبارہ طالبان کے قبضے میں جاتا ہے تو ان کا مفاد خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ شاید اسی نظریے کے تحت اس وقت کی منموہن سرکار نے طالبان سے قریبی روابط کیلئے اپنی سرکاری ایجنسیوں کو متحرک کرنا شروع کر دیا تھا ۔ اس طرح ملا عبدالسلام ضعیف کے سامنے محمود مدنی صاحب کو مسلمانوں کے ایک طاقتور چہرے کے طور پر پیش کیا گیا ۔
بدقسمتی سے 2014 کی مودی حکومت اور ان کی نگرانی میں کام کر رہی خفیہ ایجنسیاں حالات کا درست اندازہ نہیں لگا سکیں یا اس حکومت نے اوبامہ کے جانے کا انتظار کیا اور اسے یہ امید تھی کہ ٹرمپ جسے مسلم مخالف سمجھا جاتا ہے وہ افغانستان میں طالبان کے تعلق سے سخت رویہ اختیار کرے گا ۔اقتدار سنبھالتے ہی ٹرمپ نے مسلم ممالک کے تئیں اپنا سخت رویہ ظاہر بھی کیا لیکن امریکہ کا کوئی بھی صدر اپنی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔طالبان کے تعلق سے تھوڑا سا سخت ہونے کے بعد بالآخر اس نے بھی اوبامہ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے افغانستان سے اپنی فوجوں کی واپسی کا فیصلہ کر لیا۔یہاں پر یہ کہنا پڑتا ہے کہ امریکہ کا نالائق صدر بھی کہیں نہ کہیں اپنے ملک کی سلامتی کیلئے ضد اور ہٹ دھرمی چھوڑ کر دانش مندی کا مظاہرہ کرتا ہے مگر بھارت کے سیاستدانوں میں شعور کا فقدان ہے ۔اس کے برعکس امریکی صدور اوبامہ ٹرمپ اور جو بائیڈن تینوں کا فیصلہ درست تھا کیوں کہ وہ افغانستان کے دلدل میں غرق ہو رہے تھے ۔قومیں وہی کامیاب ہوتی ہیں جن کے حکمراں اور قائد وقت سے پہلے نوشتہ دیوار کو پڑھ لیں ۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!