اہم خبریں

ISISکے الزام میں پانچ سال قید با مشقت کے بعد ضمانت پر رہاہونے والے اقبال احمد کی دفترجمعیۃعلماء مہاراشٹرتشریف آوری قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی اور وکلاءکا شکریہ ادا کیا

ممبئی 19؍ اگست: گذشتہ پانچ سالوں سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اقبا ل احمد کبیر احمد کی آج بروز جمعرات تلوجہ جیل سے رہائی عمل میں آئی ، جیل سے رہا ہونے کے بعد ملزم نے اسے قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی سے ملاقات کی اور اسے قانونی امداد دیئے جانے خصوصاً اس کی ضمانت پر رہائی کے لیئے کوشش کرنے کے لیئے شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر اقبال احمد کے والد کبیر احمد نے کہا کہ جمعیۃ علماء کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے اتنا کم ہے کیونکہ ایک ایسے موقع پر ان کے لڑکے کے لیئے جمعیۃ علما ء نے تعاون کیا جب انہیں اس کی بہت ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہمیں پہلی مرتبہ جب ممبئی جمعیۃ علماء کے دفتر آیا تھا اس وقت گلزار احمداعظمی نے کہا تھ اکہ ہم جھوٹے دعوے اور وعدے نہیں کرتے ۔اور خدمت کے تعلق سے ہم اللہ کو جواب دہ ہیں ،اس لئے ہم سے جتنا ممکن ہو سکے گا،ہم آپ سے تعاون کریں گے،اور آج 5؍سال بعد تمام گرفترا شدگان میں سے صرف اقبال کو ضمانت پر رہائی حاصل ہوئی ،جو جمعیۃ کے وکلاء کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
اقبال احمد نے بھی اس موقع پر کہا کہ گذشتہ دو سالوں سے ان کی ضمانت عرضداشت ممبئی ہائی کورٹ میں التواء کا شکار تھی لیکن ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے پہل کرتے ہوئے سب سے پہلے ضمانت عرضداشت کو سماعت کے لیئے لسٹ کرایا پھر سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی کی خدمت حاصل کی جن کی کامیاب بحث کے بعد ممبئی ہائی کورٹ کو ضما نت دینا پڑی ورنہ ملزم رئیس احمد کی ضمانت عرضداشت ان سے پہلے ممبئی ہائی کورٹ میں داخل کی گئی تھی جو ابھی بھی التواء کا شکار ہے۔لیکن اب جبکہ میری کی ضمانت منظور ہوگئی ہے،امید ہیکہ رئیس کو بھی اس کا فائدہ ملے گا اور ہائی کورٹ سے ضمانت ملے گی۔
اس ضمن میں گلزار اعظمی نے کہا کہ ہم نے کبھی کسی سے جھوٹا وعدہ نہیں کیا بلکہ پوری ایمانداری سے کوشش کرنے کی یقین دہانی کرائی اور اللہ تبارک و تعالی کا کرم ہیکہ آج اقبال احمد جیل سے رہا ہوکر ہمارے دمیان موجود ہے ، یہ سب وکلاء کی کوششوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے ہر موڑ پر مقدمہ کو حکمت عملی سے لڑا، قابل مبارکباد ہیں ایڈوکیٹ شریف شیخ اور ان کے رفقاء ایڈوکیٹ متین شیخ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، ایڈوکیٹ کرتیکا اگروال،
ایڈوکیٹ ارشدشیخ، ایڈوکیٹ رازق شیخ ، ایڈوکیٹ قربان حسین و دیگر جنہوں نے نامساعد حالات میں بھی کوشش جاری رکھی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ اگر این آئی اے ملزم اقبال احمد کی ضمانت منسوخی کی درخواست سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کرتی ہے ہم اس کی مخالفت کی تیاری کرلی ہے اور اس کے لیئے ہم نے پہلے ہی سپریم کورٹ میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال کے ذریعہ کیویٹ داخل کردیا ہے۔
ملزم اقبال کی ضمانت لینے کے والے سید قادر سید خواجہ کا بھی گلزار اعظمی نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ تین دنوں سے ممبئی میں اپنا کاروبار چھوڑ کر خیمہ زن ہیں ،تاکہ اقبال احمد کی جیل سے رہائی ہو سکے۔
آج جس وقت ملزم اقبال احمد تلوجہ جیل سے رہا ہوکر دفتر جمعیۃ علماء پہنچے ان کے ہمراہ قاری عبدالرشید حمیدی(صدر جمعیۃ علماء ضلع پربھنی)مولانا محمد عیسیٰ خان کاشفی (خازن جمعیۃعلماءعلاقہ مراٹھواڑہ)سید عبد القادر سید خواجہ، ایڈوکیٹ عبد الرحیم بخاری ،الطاف بھائی میمن ،عبد العلیم ،شیخ کبیراحمد شیخ حیدر،شیخ محمود بھائی،مختار احمد (پربھنی )موجود تھے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزمین اقبال احمد ، ناصر یافعی، رئیس الدین اور شاہد خان سمیت پر تعزیرات ہند کی دفعات 120(b),471, ، یو اے پی اے کی دفعات 13,16,18,18(b), 20, 38, 39 اور دھماکہ خیز مادہ کی قانون کی دفعات 4,5,6 کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وہ آئی ایس آئی ایس کے رکن ہیں اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں نیز انہوں داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا ہے اور اس تعلق سے عربی میں تحریر ایک حلف نامہ (بیعت نامہ) بھی ضبط کرنے کا پولس نے دعوی کیا ہے حالانکہ ملزمین کے اہل خانہ کا یہ کہنا ہیکہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے جھوٹے مقدمہ میں ان کے لڑکوں کو گرفتار کیا ہے کیو نکہ پولس نے ملزمین کے قبضہ سے ایسا کوئی بھی مواد ضبط نہیں کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ وہ ممنوع تنظیم داعش کے رابطہ میں تھے اور وہ ہندوستان میں کچھ گڑ بڑ کرنا چاہتے تھے بلکہ شوشل میڈیا اور یوٹیوب کی مبینہ سرگرمیوں کو گرفتاری کی وجہ بتایا گیا ہے ۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!