مضامین

محمد علیم اسماعیل کی افسانچہ نگاری: ایک جائزہ

ghani ghazi lakhanwada

از قلم: غنی غازی (صدر: محمد شریف جونیئر کالج،
لاکھن واڑہ، ضلع بلڈانہ، مہاراشٹر)
موبائل : 8806685388

نو جوان افسانہ نگار محمد علیم اسماعیل ناندورہ (ضلع بلڈانہ، مہاراشٹر) کے باشندہ ہیں۔ معلم ہونے کے ناطے انھیں مطالعے کا گہرا شوق ہے۔ اسی ذوق نے انھیں افسانے اور افسانچے لکھنے کی ترغیب دی ہے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’الجھن‘ 2018 میں شائع ہوا تھا اور 2020 میں دوسرا مجموعہ ’رنجش‘ منظر عام پر آیا ہے۔ محمد علیم اسماعیل کے افسانے اور افسانچے ملک بھر کے ادبی رسالوں اور روز ناموں میں مسلسل شائع ہو رہے ہیں اسی لیے دو برس میں دو کتابیں منصہء شہود پر آگئی ہیں۔ افسانہ نگار نے اپنے اطراف و اکناف کے حادثات اور واقعات کو اپنے تجربات کی روشنی میں پرکھ کر افسانوی پیکر میں ڈھالا ہے۔ جس کا اعتراف کرتے ہوئے خود افسانہ نگار رقم طراز ہیں۔
’’میں نے جن موضوعات پر قلم اٹھایا ہے وہ میں نے نہیں چُنے بلکہ اُن موضوعات نے مجھے چُنا ہے۔‘‘
ان کی دونوں تصانیف میں افسانوں سے زیادہ افسانچے اثر پذیر ہیں اور دل و دماغ پر کچوکے لگاتے ہیں۔ ان کے افسانچے زندگی کی حقیقت سے قریب تر ہیں۔ ان میں کذب بیان کا شائبہ تک نہیں اس کے برعکس افسانہ نگار نے گردشِ حالات کی تمازت، عُسرت کی تپش، حالات حاضرہ کا کرب، انسانی اقدار کی پامالی، مادیت پرستی کا چلن، نا مساعد حالات، انسانیت کا درد، گردشِ دوراں کی تیزابیت، زندگی کی المناکی کو بلندی خیال اور عمق فکر سے ذہن و قلب میں بیانیہ انداز سے چراغ روشن تو کردیے ہیں مگر تہذیب و تمدن کی ناقدری پر وہ دل مسوس کررہ جاتے ہیں اور پھر ان کا قلم چوٹ کرنے سے باز نہیں آتا ہے۔
محمد علیم اسماعیل کے افسانچے فن کے اعتبار سے بے عیب معلوم ہوتے ہیں۔ افسانچہ کے فن کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد ہی انھوں نے افسانچہ نگاری کا آغاز کیا۔ ان کی تیسری تصنیف ’’افسانچہ کا فن‘‘ میں محمد علیم اسماعیل نے طویل مقدمہ رقم کیا ہے جو تحقیقی مقالہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کتاب میں افسانچہ کے فن پر ممتاز اہل قلم کے رشُحاتِ قلم شامل ہیں گویا یہ کتاب افسانچہ کے فن پر دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے افسانچہ کے جزئیات پر مفصل اور جامع بحث کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس فن کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ کتاب میں افسانچوں کا انتخاب بھی بہت خوب ہے۔
افسانچہ نگاری روز بہ روز ترقی کی طرف گامزن ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔ سائنس و تکنالاجی کے دور میں طویل افسانے بلکہ مختصر افسانے بھی پڑھنے سے قارئین جی چُراتے ہیں۔ ایسے میں کم سے کم الفاظ اور نپے تلے جملوں کے ذریعے ایک مکمل کہانی کو پسند کیا جانے لگا ہے۔ دورِ جدید کی تکنالاجی، انٹرٹیٹ اور سوشل میڈیا نے نت نئی سہولیات مہیا کردی ہیں مگر اس کا غلط فائدہ اٹھانے والوں کی بھی کمی ہے۔ ’فیس بک‘ افسانچہ میں اس حقیقت پر چوٹ کی گئی ہے۔ ان کے دیگر افسانچوں میں بھی یہی کیفیت پائی جاتی ہے۔
یہ بات مبنی پر حقیقت ہے کہ افسانچہ لکھنے والوں کی نہ صرف مہاراشٹر بلکہ ملک بھر میں باڑھ آچکی ہے۔ نو آموز قلمکار اسے آسان سمجھتے ہیں جبکہ افسانچہ نگاری حساس ذہن، دردمند دل اور گہرے مطالعے کی متقاضی ہے۔ ایسے ہی قلمکاروں نے افسانچہ کو لطیفہ یا اقوالِ زریں بنا کر رکھ دیا ہے۔ اسی لیے تو یہ صنف مقبول ہونے کے باوجود تنقید نگاروں نے اسے خاطر میں نہیں لایا اور تن آسان لکھنے والوں ’سہل پسند قلمکاروں‘ فوری طور پر شہرت پانے والوں، اخباروں میں چھپنے کے شوقین اور عجلت پسندوں کی صنف قرار دے کر بدنام کر دیا۔ تنقید نگار چاہے جو رّویہ اختیار کر لیں فن کی کسوٹی پر کھرا اترنے والا افسانچہ آج کی ضروت ہے۔ اس صنف پر تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں اور آئندہ بھی تحریر ہوں گے۔ معروف و ممتاز افسانہ نگاروں نے بھلے ہی افسانچہ سے بے نیازی برتی ہو مگر نوجوان قلمکاروں کی یہ پہلی پسند ہے، مستقبل میں بھی رہے گی اور بادِ مخالف کے باوجود افسانچہ کا چراغ جلتا ہی رہے گا۔ شرط یہ ہے کہ افسانچہ کہانی سے خالی نہ ہو،اس کا آخری جملہ ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دے اور فنکار کی انگلیاں قاری کی نبض پر رکھی ہوں۔
سعادت حسن منٹو کے ’سیاہ حاشیے‘ سے لے آج تک کے افسانچے نے تقریباً پون صدی کا سفر طے کیا ہے۔ طویل افسانوں سے جب قارئین اوب گئے تو مختصر کہانیوں کا چلن عام ہوا بالآخر فکشن کی تاریخ میں ہیشت کی تبدیلی اور تجربہ کی صورت میں افسانچہ ہی کامیاب ٹھہرا۔ اب تو اس صنف کی پذیرائی نے ماحول ساز گار بنا کر اس کی اہمیت کو مسلم قرار دے دیا ہے۔ صرف افسانچہ نگار کے جذبات، اس کے احساسات اور تاثرات کو سمجھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔
محمد علیم اسماعیل کی افسانچہ نگاری میں حقیقت کا پہلو اس قدر عیاں ہے کہ قلب قطر اور ذہن کے عدم ارتباط کا شائبہ تک نہیں ہوتا بلکہ ان کے جملے روح کو چھو کر گزر جاتے ہیں۔ وہ ستائش کی تمنا اور صلہ کی پروا کئے بغیر اپنے فن کو نکھار نے کے لیے ہر لمحہ کوشاں ہیں۔ اور خوب سے خوب تر کی طرف گامزن بھی۔ سچے فنکار کی پہچان بھی یہی ہے کہ وہ عام قاری اور عام آدمی کی سوچ و فکر سے بہت آگے سوچتا اور لکھتا ہے۔
منٹو کے بہت بعد ڈاکٹر مظفر حنفی اور جوگند رپال جیسے قد آور قلمکاروں نے افسانچہ کو پہچان دلائی بعد ازاں افسانچہ نگاری کو نئے قلمکاروں نے اپنایا بلکہ اس فن پر تحقیقی مقالے بھی لکھے گئے۔ اورنگ آباد کے عظیم راہی اور رونق جمال جیسے قلم کاروں نے تو افسانچہ نگاری کے لیے خود کو وقف کر دیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ جلد بازی، نا تجربہ کاری، کہانی کا فقدان، بلا ضروت طوالت، بے جا الفاظ کی بھرمار، فن سے کم آگہی نیز حقیقت سے ناشناسی افسانچہ کو مقصدیت کی منزل سے بھٹکا دیتے ہیں اور افسانچہ محض ایک عبارت ہو کر رہ جاتا ہے۔
محمد علیم اسماعیل جیسے نوجوان افسانچہ نگاروں سے امید بندھی ہے کہ وہ اس فن کو مزید سنواریں گے اور اس پر عائد الزامات کی اپنے فن کی روشنی میں شدومد سے تردید کریں گے صرف خیال رہے کہ موضوعات کے انتخاب میں عجلت نہیں بلکہ انفرادیت اور احیتاط سے کام لیں تاکہ فنکار نہیں بلکہ فن پارہ پہچان بن جائے۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!