مہاراشٹر

دھاڑ: گستاخ رسول کے خلاف مزید 2 دفعات کا اضافہ ؛ مسلمانوں کے احتجاجی مظاہرے، و سخت کارروائی کا مطالبہ منظور

کھام گاؤں (واثق نوید) :بلڈانہ ضلع کے کلکٹر آفس کے ملازم بی ایس میرگے ، کے خلاف 5 مئی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے پر دھاڑ پولیس اسٹیشن میں تعزیرات ہند 1860 دفعہ 195( A ) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ملزم کو بھی جلد گرفتار کرکے عوام کو مطمین کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن بلڈانہ ضلع کے مسلمانوں میں اس واقعے سے سخت ناراضگی ،و غم و غصّہ پایا جارہا تھا۔ ضلع کے مختلف شہری، و دیہی علاقوں سے عوام نے اس گستاخ رسول کے خلاف مذمتی ممورنڈم دیکر سخت سے سخت قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مسلمانوں کی یہ تحریک کامیاب رہی ،اج دھاڑ پولیس اسٹیشن کے تھانیدار انیل پاٹل نے مقدمے کی نزاکت ، مسلمانوں کے احساسات وجذبات کو دیکھتے ہوئے ملزم بی ایس میرگے کے خلاف مزید دو دفعات کا اضافہ کردیا ہے۔ ملزم میرگے کے خلاف 195 A کے علاؤہ اب 153 (B) اور 505 کا بھی اضافہ ہوگیا ہے اس تعلق سے عدالت میں بھی تحریر طور پر اطلاع کردی گئی۔
معلوم رہے کہ 3 مئی کو دھاڑ کے ساکن عمران سوداگر کے واٹس ایپ پر عید کی مبارکباد کے پیغام کے جواب میں کلکٹر آفس کے ملازم میرگے نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق سے نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے من گھڑت باتیں پوسٹ کی تھی ۔ جس کی اطلاع ملتے ہی پورے ضلع کے مسلمانوں میں ناراضگی و بے چینی پیدا ہوگئی تھی۔ حالات کو قابو میں کرنے کے لئے پولیس نے ملزم کے خلاف صرف 195 A کے تحت ہی مقدمہ درج کیا تھا۔ جس کے خلاف مسلمانوں نے آواز اٹھائی ۔ جس پر آج مزید 2 دفعات کا اضافہ کردیا گیا۔ واضح رہے کہ اس درمیان ضلع کلکٹر نے ملزم کو ملازمت سے معطل کردیا ۔ جبکہ عدالت نے ملزم کو 3 دنوں کے لیے پولیس حراست رکھنے کا حکم دیا تھا۔ اس معاملے میں پولیس کی کارروائی قابل ستائش ہیں۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: