مضامین

بھکاریوں کو Cashدینا بند کریں

syed farooq ahmed aurangabad
تحریر:سید فاروق احمد سید علی، اورنگ آباد(دکن)
9823913213 sfahmed.syed@gmail.com

محترم قارئین کرام: کچھ دنوں قبل واٹس ایپ پر ایک مسیج بہت گردش کررہا ہے جس میں لوگوں سے یہ اپیل کی جارہی ہے کہ اب بھیک مانگنے والوں کو کیش پیسے روپیہ دینے کے بجائے انھیں کھانا پانی دینے کی مہم شروع کی جائے۔ یہ مہم او رتحریک ممبئی پونے کے علاوہ دیگر کئی اضلاع میں بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اب سے بھیک مانگنے والوں کو پیسہ بالکل بھی نہ دیا جائے بلکہ پیسے کے بجائے کھانی اور پانی دینے کا رواج عام کریں۔ اور نیچےمزید لکھا ہوا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ حقداروں کو ان کا حق ملے اور جعلی فقیروں کا بھانڈا پھوٹے اور نشہ خوری کو لگام لگےتو ہمیں لوگوں کو پیسہ دینا بند کرنا ہوگا تب ہی اصل حقداراس کے حق سے محروم نہیں رہے گا۔۔۔۔اور نشہ خوری کرنے والے اور بھیک مانگ کر لوگوں کو سود پر پیسہ دینے والوں کو کنٹرول کیا جاسکے گا۔
یہ بہت اچھی بات ہے کہ سماج میں معاشرہ میں تبدیلی ایسے ہی آیا کرتی ہیں کہ ہم سب کو مل کر اس طرح کے اقدامات اٹھانے ہوںگے تب ہی ہم ان فقیر نما بھکاریوں کو ٹھکانے لگا پائیں گے۔ ۔۔اور ان کے اس ریکیٹ کا بھانڈا پھوڑ پائیں گے۔۔۔
میرے عزیز و:۔۔۔ پیٹ کی بھوک ختم کرنے کی خاطر تو انسان کچھ بھی کر گزرتاہے۔ اسی پیٹ کیلئے لوگ طرح طرح کے پیشے اپناتے ہیں۔ آجکل بھیک مانگنا بھی نفع بخش تجارت پیشے کی صورت اختیار کر چکاہے۔ہمارے شہراورنگ آباد کے علاوہ دیگر شہروں اور ریاستوں میں بھی فقراء کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے۔آپ بس اسٹاپ پر کھڑے ہوں یا ٹریفک سگنل پر، شہر میں ہوں یا دیہات میں ، سفر میں ہوں یا ٹرینوں اوربسوں میں ہوں ، پیدل ہوں یا سواری پر۔بس آپ کے آس پاس آپ کو ایسی آواز ضرور سنائی دے گی۔۔کہ اللہ کے نام پر کچھ ددے دو بھیا۔۔۔،دو دن سے بھوکا ہوں ،گھر میں کچھ کھانے کو نہیں، اللہ کے لئے میری مدد کریں۔۔۔۔میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے۔۔۔میں بیوہ ہوں میری تین بچیاں ہیں ان کی شادیاں کروانی ہے وغیرہ وغیرہ اسی قسم کے الفاظ آپ کے کانوں کو ضرور سننے کو ملیں گے۔
یہ الفاظ ان بھکاریوں کے رٹے رٹائے ہوتے ہیں۔اور بھیک مانگنا ایک آسان ترین کمائی کا ذریعہ بن ہے۔ناظرین ملک بھر میں پیشہ ور (Professional) بھکاریوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ فٹ پاتھوں ، چوراہوں، گھروں ، مساجد کے باہر اور مارکیٹ میں ، مزاروں کے پاس طرح طرح حیلوں بہانوں سے بھیک مانگتے نظر آتے ہیں اور ان کے بھیک مانگنے کے طریقوں سے لوگ متاثر ہوکر انہیں بھیک دے ہی دیتے ہیں۔
کبھی بیماری کا نسخہ (Prescription) ہاتھ میں پکڑے یا بیوہ بن کر تنگی اور پریشانیاں بتاکر اور خاص طور پر جوان عورتیں بھی بھیک مانگتی نظر آرہی ہیں اور اسی کی آڑ میں مکروہ دھندہ بھی کررہی ہیں۔۔۔خدا جانے ۔۔۔۔ہمارا مقصد کسی کا حق مارنا یا کسی پر تہمت لگانا نہیں ہے۔ لیکن دوستو ایسا ہورہا ہے۔۔۔ بعض بھکاری جو واقعی معذور ہوتے ہیں،پیدائشی معذور ہوں یاکسی حادثے کی وجہ سے معذور ہوگئے ہوں وہ تو صحیح ہے ،لیکن زیادہ تر بھکاری وہ ہوتے ہیں جو جان بوجھ کر جھوٹ موٹ معذور بنے ہوتے ہیں۔ان میں کچھ نابیناہونے کا ڈھونگ کرتے اور کچھ نقلی طور پر زخم لگائے ہوتے ہیں اوریہ لگتا ہے جیسے واقعی گہرا زخم ہے حالانکہ یہ زخم اصلی نہیں ہوتا۔ بعض بھکاری بازویا پیر پر پٹی باندھے ہوتے ہیں جس سے دیکھنے والوں کا دل پسیج جاتاہے اور یہ لوگ اس قدر ڈرامائی انداز سے بھیک مانگتے ہیں کہ پتھر دل انسان بھی موم ہوجاتاہے اور وہ فوراً بھیک دینے پر آمادہ ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔۔ سچائی یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کیلئے بھکا ریوں نے بھیک مانگنے کے بہت سے طریقے اختیار کئے ہوئے ہیں۔۔۔۔ہمارے شہر اورنگ آباد میں بھی کچھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔بھیک مانگنے والوں کو کچھ امت کے جیالوں نے روک پر پوچھ تاچھ کی۔ ۔۔۔پہلے تو ان بھکاریوں نے اپنا نام مسلمانوں کی طرح بتایا پھر زیادہ پوچھ تاچھ کرنے پر ان کی پول کھل گئی اور وہ غیر مسلم نکلے۔۔۔۔
کلمہ پوچھنے پر ان مکاروں نے صحیح صحیح کلمہ سناتودیا لیکن جب نمازوں کے اوقات کی بات کی گئی تو اس میں وہ پھنس گئے۔ ان کی چال چلن اور کپڑوں سے کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ مانگنے والا ہندو ہے یا کسی اور قوم کا ہے۔ بس ایسے ہی بھولی بھالی عوام کو لوٹنے کا کام جاری ہے۔۔۔۔اور وہیں آجکل ان بھکاریوں نے دینی و شرعی حیلے بہانوں سے بھی بھیک مانگنا شروع کر دیا ہے اور اس میں اِدھر دوتین برسوں میں ان کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے اور دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ گھروں اور مسجدوں میں آتے ہیں جن کے ہاتھوں میں کسی مدرسے یا مسجد کی رسید بک ہوتی ہے ،اعلان کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ فلاں مدرسہ زیر تعمیر ہے، فلاں مسجد زیر تعمیر ہے،مسجد کو اتنے پیسوں کی ضرورت ہے، اتنی سیمنٹ مدرسے کیلئے اور مدرسہ کے بچوں کیلئے کپڑوں اور دوسری چیزوں کی ضرورت ہے۔کیونکہ گذشتہ میں ایسے رسید بک والے فرضی مدرسے والے افراد پکڑے گئے ہیںجن کا نہ کوئی مدرسہ تھا اور نہ ہی کوئی بچے وغیرہ تھے۔۔۔
باضابطہ ان کا ایک پورا نٹ ورک ہے جو بڑے ہی منظم انداز میں کام کر رہا ہے۔ اسی طرح بہت سی خواتین بھی زیادہ سے زیادہ بھیک اکٹھی کرنے میں شامل ہیںیا پھر برقع پوش خواتین گھروں محلوں اور مسجدوں کے دروازہ پر نماز کے بعد یاجمعہ کی نماز کے بعد کھڑی ہوجاتی ہیں۔
بعض لوگ نماز مسجد کے اندر پڑھتے ہیں اور امام کے سلام پھیرتے ہی فوراً کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مانگنا شروع کر دیتے ہیں اور مجبوری بتاکر رونے لگتے ہیں۔۔۔۔ جس طرح ہٹے کٹے اور جعلی فقیر و مسکین کا بھیک مانگنا درست نہیں اسی طرح ان پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دینا بھی درست نہیں۔ بھیک مانگنا انتہائی گھٹیا حرکت ہے اور ان لوگوں کیلئے بالکل ہی ڈوب مرنے کا مقام ہے جو اچھے خاصے صحت مند ہونے کے باوجود بھیک مانگتے ہیں۔۔۔بہت ساری ہندو عورتیں ہندوانہ ٹیکہ چھپاکر اللہ کے نام پر بھیک مانگتی ہیں۔۔۔اب ناظرین۔۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ اگر ان بھکاریوں کو بھیک دینا جائز نہیں تو پھر واقعی حاجت مندکی پہچان کیسے ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سب سے زیادہ حقدار اپنے قریبی لوگ ہیں۔ ان میں رشتہ دار، دوست احباب اور وہ لوگ ہیں جن کو آپ جانتے ہیں کہ یہ لوگ واقعی ضرورت مند ہیں۔تو آپ پہلے ان کو دیں اس کے بعد تمام لوگوں کے چاہئے کہ اپنے اپنے علاقے اور محلہ میں تلاش کریں کہ کون ایسے شریف لوگ ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور سوال نہیں کرتے ، شرماتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر ان کو ان کا حق دیا جائے۔ اس طرح مستحق افراد کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی ضرورت کو پورا کرنے کرنے کیلئے کوئی ایسی راہ نہ تلاش کریں جو صحیح نہ ہو۔ آپ نے مکمل احتیاط کے ساتھ کسی کو حقدار سمجھ کر دے دیا تو یہ آپ کے دل کا معاملہ ہے۔ جیسی نیت ویسی برکت۔
جس آدمی کے پاس ایک دن کا کھانا ہو اور ستر ڈھانکنے کےلیے کپڑا ہو اس کے لیے لوگوں سے مانگنا جائز نہیں ہے، اسی طرح جو آدمی کمانے پر قادر ہو اس کے لیے بھی سوال کرنا جائز نہیں، البتہ اگر کسی آدمی پر فاقہ ہو یا واقعی کوئی سخت ضرورت پیش آگئی ہو جس کی وجہ سے وہ انتہائی مجبوری کی بنا پر سوال کرے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن مانگنے کو عادت اور پیشہ بنالینا بالکل بھی جائز نہیں ہے، حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص بلا ضرورت مانگتا ہے تو قیامت کے دن اس کا یہ مانگنا اس کے چہرے پر زخم بن کر ظاہر ہوگا۔ایک روایت میں ہے کہ جو اپنا مال بڑھانے کے لیے سوال کرتاہے تو یہ جہنم کے انگارے جمع کررہاہے، اب چاہے تو کم جمع کرے یا زیادہ۔۔۔
خیر میری آپ تمام سے گذارش ہے کہ جن لوگوں نے یہ مہم شروع کی ہے کہ بھیک مانگنے والوں کو پیسہ نہیں دیا جائے گا بلکہ انہیں صرف اور صرف کھانا دیا جائے گا۔۔اس مہم کو ہر محلہ اور ہر گلی تک ہمیں پہنچانا ہے جمعہ کے بیانات میں بھی اس موضوع پر بات ہونی چاہئے ۔۔۔یہ مہم اتنی عام ہونی چاہئے کہ ہٹے کٹے بھیک مانگنے والے اور جعلی فقیر بھیک نہ مانگنے پر مجبور ہوجائیں۔۔۔بس آپ یہ کام اپنی ذات سے شروع کردیجئے۔۔۔۔باقی اللہ پر چھوڑ دیجئے۔۔۔۔
اللہ آپ تمام کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔۔۔۔ہم تمام کو تنگ دستی سے بچائے رکھے۔ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے ہم سب کی حفاظت فرمائے۔۔۔۔بولا چالا معاف کرا۔۔۔زندگی باقی تو بات باقی رہے نام اللہ کا۔۔۔۔اللہ حافظ ۔۔۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!