مہاراشٹر

مہاراشٹر کی سیاسی صورتحال : ایکناتھ شندے کی بغاوت سے ٹھاکرے سرکار کو خطرہ ؛ جانئے سیاسی حساب

ممبئی: مہاراشٹر میں ٹھاکرے سرکار مشکل میں دکھائی دے رہی ہے۔ پہلے راجیہ سبھا اور اب ایم ایل سی انتخابات میں دھچکا لگنے کے بعد مہاویکاس اگھاڑی حکومت پر بحران کے بادل گہرے ہونے لگے ہیں۔ وزیر اور شیوسینا کے سینئر لیڈر ایکناتھ شندے کے ساتھ تقریباً 21 باغی ایم ایل اے بی جے پی کے زیر اقتدار گجرات کے سورت کے ایک ہوٹل میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ تاہم، دیکھتے ہیں کہ مہاراشٹر کی قانون ساز اسمبلی کی سیاسی حساب کیا کہتا ہے:
مہاراشٹر کی قانون ساز اسمبلی کی کل تعداد 288 ہے۔ ایک ایم ایل اے کی ڈیتھ ہوچکی ہے، اس لیے اس وقت صرف 287 ممبراسمبلی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اعتماد کے ووٹ کی صورت میں اسمبلی میں اکثریت کے لیے 144 ایم ایل ایز کی ضرورت ہوتی ہے۔
شیوسینا، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور کانگریس کی مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے پاس فی الحال 152 ایم ایل اے ہیں۔ اتحاد کچھ آزاد امیدواروں کی حمایت کا بھی دعویٰ کرتا ہے۔
شیو سینا کے پاس 56 ایم ایل اے ہیں۔ ان میں سے 22 ایم ایل اے سورت کے ایک ہوٹل میں رُکے ہوئے ہیں۔ اگر یہ ایم ایل اے وزیر ایکناتھ شندے کی قیادت میں استعفیٰ دیتے ہیں تو شیوسینا کی تعداد 34 رہ جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی سدن میں مہا وکاس اگھاڑی کی تعداد کم ہو کر 130 ہو جائے گی۔ 22 ایم ایل ایز کے استعفیٰ کے بعد ایوان میں اکثریت کی نئی تعداد 133 ہو جائے گی۔
بی جے پی اب دعویٰ کر رہی ہے کہ ان کے پاس 135 ایم ایل اے ہیں، جو کہ اکثریتی تعداد سے دو زیادہ ہے۔ لیکن اگر شیو سینا کے یہ 22 ایم ایل اے اقتدار بدلنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں انحراف مخالف قانون کے تحت استعفیٰ دینا پڑے گا اور ضمنی انتخاب میں دوبارہ منتخب ہونا پڑے گا۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

error: Content is protected !!