مضامین

ایک ایسا بھی دور: ایک مطالعہ

firdous anjum writer buldhana

از فردوس انجم شیخ آصف
بلڈانہ،مہاراشٹر

زندگی ایک سفر ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں ہر انسان ایک مسافر جیسا ہی ہے۔ اور اتنا ہی نہیں اس کو دوران سفر کئی مرحلوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ ان مرحلوں سے گزرتے ہوئے اچھی اور بری، کچھ کھٹی، کچھ میٹھی یادوں سے اس کا دامن سج جاتا ہے۔ اور یہ یادیں انسان کے چلے جانے کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں۔ ایسی ہی کچھ اپنی زیست، بیماری، اور درد و الم کی داستان، جو نہ صرف اس ایک انسان کی ہے بلکہ سارا عالم اس سے دوچار تھا۔ ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی تھی، زمین سے آسمان تک صدائیں گونجتی تھیں۔ لیکن حکم صادر ہو چکا تھا۔ حکم کی تعمیل کرنے والے سر تسلیم خم کھڑے تھے‌۔ اور انسان ’’ایک ایسا بھی دور‘‘ سے گزر رہا تھا۔
ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا اردو فکشن کا ایک معروف نام جس کے لیے یہ کہنا بجا ہے…

میں اپنی فن کی بلندی سے کام لے لونگی
مجھے مقام نہ دو میں خود مقام لے لونگی

ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا نے اپنے فن کی بلندی سے اردو ادب میں اپنا ایک منفرد اور ممتاز مقام بنایا ہے۔ وہ اردو ادب کے افق پر نمودار ایک ایسا درخشاں ستارا ہے جس کی تابانی ہر پل، ہر گھڑی بڑھتے رہتی ہے۔ وہ دور حاضر کی معروف افسانہ نگار ہیں اور دیگر نثری تخلیقات میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔ اسی بناء پر انھیں 2021/22 کا ’’کل ہند بہادر شاہ ظفر ایوارڈ‘‘ برائے تخلیقی نثر، اردو اکادمی دہلی نے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی وہ متعدد اعزازات سے نوازی جا چکی ہیں۔ اب تک ان کی 18 کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ "ایک ایسا بھی دور” نعیمہ جعفری پاشا کی "کورونا اسپتال کی ڈائری، اور چالیس سے زائد مختصر افسانوں پر مشتمل ایک ایسی کتاب ہے جس میں سارے جہاں کا درد دکھائی دیتا ہے۔ یہ اس وقت کے حالات کی ترجمانی ہے جب وہ، اسپتال کے بستر پر، آکسیجن کے ماسک کے اندر سانسوں کی ڈوری کو تھامے ہوئے کورونا (COVID 19) سے لڑرہی تھی۔ پرفیسر صادق نے اسے ایک تجربہ کہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں۔
"یہ تجریہ زیست و مرگ کے درمیان اپنے عزیز واقارب کے اپنی دنیا کے حیات و مرگ کے اور خود اپنے بارے میں ذہن میں آنے والے خیالات کو فنکارانہ انداز میں پیش کر دینے کا ایک غیر معمولی تجربہ ہے جو ممتاز شیریں کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔”
کتاب کا اصل حصہ "وہ سات دن” (4 مئی تا 10 مئی) سے شروع ہوتا ہے۔ جہاں ہم ایک مریضہ کی کیفیات سے آگاہ ہوتے ہیں۔ جو قیامت کی نشانیوں سے کم نہیں۔ پہلا دن اور پہلی رات جو شدید درد اور کرب میں گزرتا ہے۔ یہ ڈائری کا اہم حصہ ہے۔ مانو موصوفہ نے اپنے خون کو سیاہی کے قالب میں ڈھال کر لکھا ہو۔ ایسی باتیں، اتنا درد، ایسی کیفیات کہ آنکھوں سے اشک بہنا شروع ہو جاتے ہیں۔ دل دم بخود ہو جاتا ہے۔ سانسیں تھم جائے اتنی تکلیف، پھر بھی موصوفہ کو امید کی شعاع جھلملاتے نظر آرہی تھی۔ وہ لکھتی ہیں۔
"میں تنہا تھی، لیکن میرا کمرہ کشادہ ہو گیا تھا، کھڑکی سے دودھیاسی روشنی پھوٹ رہی تھی، بند دروازے کی جھڑیوں سے شعاع امید کے دھاگے جھلملا رہے تھے۔”
اسپتال کا دوسرا دن، دوسری رات کو تنہائی کا کرب کہا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسپتال میں مریض کو تنہائی کا کرب برداشت کرنا ہوتا ہے‌۔ لیکن مصنفہ ایک ایسے مرض کی مریضہ تھی، جس میں مریض کو کورنٹائین کیا جاتا ہے۔ وہاں صرف اسپتال کا عملہ ہی مریضوں کی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ وہ بھی صرف ضرورت کے اوقات میں باقی وقت مریض اور اس کی تنہائی، اسپتال ایک واحد جگہ ہے جہاں نیند کبھی کسی پر مہربان نہیں ہوتی۔ جب میں نے اس حصے کی قرأت شروع کی تو کچھ سمجھ نہیں آیا ہے کس کی آمد کی طرف اشارہ ہے لیکن پھر ان سطور کو پڑھا۔
"روشنی بجھ گئی۔
ہتھیلی سلگ گئی۔ آنکھیں جل اٹھیں۔
آخری موم بتی کی آخری بوند نے بڑا سا چھالا بنا دیا۔ گھڑیاں گزر گئیں
وہ نہیں آئی!
وہ نیند تھی۔”
اتنا انوکھا انداز۔۔۔!! الفاظ کی ندرت، جملوں کی بنت، اس قدرت سے بنی گئی کہ قلم بیان سے قاصر ہے۔ شاعری میں شاید نیند کے متعلق کچھ انوکھا مل جائے لیکن نثر میں نیند کو اس طرح بیان کرنا پہلی بار پڑھا۔
کتاب میں تیسرے دن، اور تیسری رات کی روداد کچھ اس طرح ہے کہ یہاں اسپتال کی تمام کارگزاریاں درج ہیں، ڈاکٹر، نرس، کینٹین، مرض، مریضوں کا کھانا، انجیکشن، ڈریپ، سیرینج اور وہاں کی گہما گہمی یہ سارا کچھ اس حصے کی زینت ہے۔ اسی کے ساتھ مصنفہ کی درد اور نیند کے ساتھ جنگ بھی برابر جاری ہے۔ وہ لکھتی ہیں:
"نہ جانے درد رات کو ہی کیوں جوان ہوتا ہے!!! اور نیند کی دیوی کیوں روٹھ کر میخانوں میں پناہ لیتی ہے!!!”
یوں ہی درد، تنہائی اور نیند سے جنگ کرتے ہوئے چوتھا دن اپنی پوری شادابی اور رعنائی کے ساتھ وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اور جب چوتھی رات کی شام ڈوب جاتی ہے تو موصوفہ کو اپنے بچوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آج شب قدر ہے۔ مصنفہ کا احساس جاگ جاتا ہے۔ چونکہ ہاتھوں میں نلکیاں لگی ہوئی تھیں، اس لیے وہ پانی کا استعمال نہیں کر سکتی تھی، وہ کہتے ہیں نا … جہاں چاہ وہاں راہ… اس صورت حال میں بھی وہ اپنے لیے تیمم کا انتظام کر لیتی ہیں۔ اور اپنی آنکھیں موند کر اس لا شریک کی حمد و ثناء میں لگ جاتی ہے۔
اب آتا ہے پانچواں دن۔ یہ دن بہت خاص ہے۔ کیوں کہ آج یوم مادر (Mother’s Day) ہوتا ہے۔ اسپتال میں ان سب کا احساس کہاں لیکن مصنفہ کو اپنے موبائل کے ذریعے یوم مادر کا پتہ چلتا ہے۔ یوم مادر کے متعلق جو کچھ اس حصے میں مصنفہ نے تفصیل پیش کی ہے میں اس سے اتفاق کرتی ہوں۔ ماں کے لیے ان کے الفاظ ملا خطہ فرمائیں:
"ماں تو وہ ہے جو اپنی محبتوں، قربانیوں، خدمتوں اور جذبوں کی تمام تر سچائیوں کے ساتھ ہمیشہ آس پاس ہی مہکتی رہتی ہے۔ تب ہی تو خالق کائنات نے زر و جواہرات کے طشت (ٹرے) میں فردوس بریں سجا کر اس کے قدموں تلے رکھ دی ہے۔ ”
پانچویں رات اور چھٹا دن اس حصے میں مصنفہ نے ایک 30/32 سال کی لڑکی کا کردار بیان کیا ہے۔ جو اپنی دنیا میں مگن ہے، جسے ہم فون کی دنیا کہہ سکتے ہیں۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں پر آنے کے بعد انسان اپنے اطراف کی چیزوں اور انسانوں سے بے گانہ ہو جاتا ہے۔ اپنے موبائل کی دنیا میں مست رہتا ہے۔ ساتھ ہی ڈسچارج کی کاروائیوں کو بھی بیان کیا ہے۔ جہاں امید کی صبح نظر آتی ہے لیکن ساتھ ڈر بھی ہے کہ ڈسچارج ہوگا یا نہیں۔شکیل بدایونی کا شعر دیکھیے:
نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے
یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے

چھٹی رات ساتواں دن… اس حصے میں مصنفہ نے انسان کی بدلتی کیفیات کا ذکر کیا ہے کہ جب کوئی نہیں تھا تو صرف وہ تھا، لیکن جیسے ہی انسان ناامیدی کی دھند پر فتح پاتا ہے تو۔۔۔
"ذہن وسوسوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے اور اپنی ڈگر سے ہٹ جاتاہے۔ بقول کبیر کے…
دکھ میں سمرن سب کریں سکھ میں کرنے نہ کوئی
جو سکھ میں سمرن کریں تو دکھ کاہے کو ہوئے
اس حصے میں مصنفہ نے ایک عجیب و دلچسپ کردار کا ذکر بھی کیا ہے۔ جو ہندوستانی فرنگی خاتون ہے۔ جو صرف اسپتال کو اور وہاں کی چیزوں کو برا بھلا کہتی ہے۔ اسی طرح اس ڈائری کا آخری دن نمودار ہوتا ہے، اور یہاں مصنفہ کی زیست و مرگ کی جنگ کا خاتمہ کچھ اس طرح ہوتا ہے:
"شام کے دھندلکے میں ایک وہیل چئیر کھڑ کھڑاتی ہوئی اسپتال کے باہر نکل آئی جہاں میرا بیٹا میرا انتظار کر رہا تھا۔ الحمد للہ
یہاں مصنفہ کے "وہ سات دن” کورونا کی ڈائری، اپنی زیست و مرگ کی لڑائی کا اختتام الحمد للہ (خدا کے شکر) سے کیا ہے۔ جیسا کہ مصنفہ نے بتایا کہ وہ کورونا کی ڈائری کو اسپتال میں ہی مکمل کر چکی تھیں۔ یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ زندگی اور موت سے لڑائی کے دوران بھی موصوفہ نے قلم کو اپنے سے دور نہیں رکھا۔ اس شدید درد ، و الم کی راتوں میں انھوں نے اس قدر خوبصورت عبارتیں صفحہ قرطاس پر بکھیر دیں۔ یہی ایک اعلی فنکار کی پہچان ہے کہ وہ ہر حال میں اپنی قلم کا دامن تھامے رکھیں۔
اب کتاب کا دوسرا حصہ دیکھتے ہیں۔ جو "دو باتیں” اس عنوان سے شروع ہوتا ہے۔ اور بقیہ حصے میں مصنفہ کے کہے کے مطابق مختصر افسانے، مائیکرو فکشن یا افسانچے شامل ہیں۔ یہ انھوں نے قاری پر چھوڑا ہے کہ قاری انھیں پڑھنے کے بعد جو نام دینا ہے دے دیں۔ لیکن سچ کہو، یہ سارے افسانچے اس قدر متاثر کن ہے کہ میرے پاس الفاظ نہیں۔ ہر ایک کا موضوع الگ، ان میں دیا پیغام الگ، اس میں چھپی اصلاح و فلاح الگ، الفاظ، بنت غرض ہر لحاظ سے پر افسانچے ہیں۔ تمامی افسانچوں میں درد و الم کی داستان موجود ہے۔ جو قاری کے بند دریچوں کو وا کرتے نظر آتے ہیں، تکمیل کائینات، مٹی کی خوشبو، مکافات عمل، پابند شریحہ، شیشے کی دیوار، ہیپی ٹیچرس ڈے، نا ممکنات کا امکان، دوسرا کنس، ساحرہ، بصیرت، یہ وفا کی سخت راہیں، وغیرہ ایسے افسانچے ہیں جن کی قرأت میں نے کئی بار کی تب بھی تشنگی دور نہیں ہوئی۔ "ساحرہ ” اس افسانچے میں "اردو زبان” کا سحر قاری کے ذہن و دل کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اقتباس دیکھیے:
"ان گنت میدانوں، پہاڑوں، ساحلوں اور جنگلوں سے گزرتے ہوئے سفر کے آخری پڑاؤ میں تھکے مسافر ایک سبزہ زار میں پہنچے جہاں ایک حسین و جمیل دوشیزہ نے روپہلی قلم جیسی نازک انگلیوں کو چاند سی پیشانی تک لے جاکر ان کا استقبال کیا۔ کیا حسن تھا، کیا تمکنت تھی، کیا ادا تھی! رشک غزال آنکھوں کی سپیدی، سیاہی اور سرخی میں مے دو آتشہ کا خمار تھا۔ ہر ادا میں تہذیب تھی، سلیقہ تھا۔ جب وہ لب کشاہوئی تو ان فرنگیوں کو لگا جیسے جل ترنگ بج اٹھا ہو، چاندی کے گنھگھرو گنگنائے ہوں، جیسے خالص شہد قطرہ قطرہ کانوں میں گھل گیا ہو، جیسے الفاظ سحر پھونک رہے ہوں۔
ایک نے پوچھا "اے شیرین دہن حسینہ تمھارا نام کیا ھے”؟
نازنین نے حجاب آلود نظریں اٹھائیں اور گلاب کی پنکھڑیوں کو جنبش ہوئی "نا چیز کو اردو کہتے ہیں۔”
لفظوں کی اس قدر جادو گری میں نے اس سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد کی "غبار خاطر "میں دیکھی اور پڑھی۔ وہی کیفیت‌ اور وہی چاسنی اس کتاب کو اور اس میں شامل افسانچوں کو پڑھ کر محسوس ہوئی۔
موصوفہ نے لفظوں کی اس مالا میں درد، رنج، خوشی، اصلاح، فلاح، رشک، پیغام، متانت، جذبات و احساسات کو اس خوبصورتی سے پرویا ہے کہ میری آنکھیں حیراں اور قلم کچھ لکھنے سے قاصر ہیں۔ ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا کو زبان پر قدرت حاصل ہے۔ قاری ان کی تحریروں میں کھو جاتا ہے۔ نہایت آسان، سادہ سلیس زبان میں بڑے سے بڑی بات کو بیان کرنے کا ہنر ان کے یہاں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ جیسا کہ مصنفہ نے کہاں کہ "خالق کائنات نے زر و جواہرات کے طشت میں فردوس بریں سجا کر اس کے قدموں تلے رکھ دی ہے۔”
میں یہ کہنا چاہوں گی کہ” تخلیق کار نے لفظوں کی طشت میں "ایک ایسا بھی دور” سجا کر قارعین کے ہاتھوں میں رکھ دیا ہے۔”

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: