اہم خبریں

اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کا مہاراشٹر کی سیاسی کشمکش پر بڑا بیان؛ شیوسینا میں چل رہی سیاست کو بتایا بندروں کا ناچ

نئی دہلی: فی الحال کوئی نہیں جانتا کہ مہاراشٹر میں جاری سیاسی کشمکش کب ختم ہوگی۔ ایک طرف جہاں ایک ناتھ شندے کا دھڑا خود کو اکثریت کا دعویٰ کر رہا ہے وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے پارٹی کے ساتھ حکومت بچانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ مہاراشٹر میں شیوسینا کے اندر چل رہی اس اندرونی لڑائی پر اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اپنا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے ہفتہ کو کہا کہ میں مہاراشٹر میں جاری کھیل پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہاں بندر کیسے ناچ رہے ہیں۔ کوئی ایک درخت سے دوسرے درخت اور کبھی ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگ لگا رہے ہے۔
دوسری طرف شیوسینا میں آپسی اتار چڑھاؤ کا دور جاری ہے۔ ایکناتھ شنڈ دھڑا اور ادھو ٹھاکرے دھڑا ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں۔ دونوں دھڑے شیوسینا پر اپنا دعویٰ کر رہے ہیں۔ ہفتہ کو باغی دھڑے کے ایم ایل اے دیپک کیسرکر نے این ڈی ٹی وی سے خصوصی بات چیت میں پارٹی پر اپنا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں ہر چیز کا فیصلہ اکثریت سے ہوتا ہے۔ فی الحال ہمارے پاس اکثریت ہے تو شیوسینا ہماری ہو گئی۔ دوسری طرف، ادھو ٹھاکرے کے دھڑے نے پہلے ہی باغی ایم ایل اے کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں ڈپٹی اسپیکر کو عرضی دی ہے۔ اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر نے باغی ایم ایل اے سے دو دن کے اندر جواب دینے کو بھی کہا ہے۔ بتادیں کہ یہ درخواست ادھو ٹھاکرے کے دھڑے نے اس وقت دی جب ڈپٹی اسپیکر ودھان بھون پہنچے۔ جن ایم ایل اے کے خلاف درخواست کا مسودہ تیار کیا گیا ہے ان میں سدا سراونکر، پرکاش ابیتکر، سنجے ریمولکر اور رمیش بورنارے شامل ہیں۔ ایک بار یہ عرضی منظور کر لی گئی۔ ان چاروں ایم ایل ایز کو نااہل قرار دینے کے مطالبے کے بعد ایسے ایم ایل ایز کی کل تعداد 16 ہوگئی ہے۔
ایسے میں 12 باغی ایم ایل اے کو نااہل قرار دینے کی درخواست دی گئی تھی۔شیو سینا کے ادھو ٹھاکرے دھڑے نے پارٹی کے 12 ایم ایل اے کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ عرضی دی تھی۔ اس میں باغی گروپ کے لیڈر ایکناتھ شندے اور بھرت گوگاوالے کا بھی نام ہے۔ این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اروند ساونت نے کہا تھا کہ جمعرات کی سہ پہر ہم نے 12 ایم ایل اے کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ این سی پی کی میٹنگ تھی، اس لیے نرہری جھروال (ڈپٹی اسپیکر) نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ 44 صفحات کی درخواست ہے اس لیے وقت لگا۔ پارٹی کی جانب سے وہپ جاری کرنے کے باوجود وہ اجلاس میں نہیں آئے اس لیے ان کی رکنیت منسوخ کی جائے۔ ہماری درخواست قبول کر لی گئی ہے۔(بشکریہ این ڈی ٹی وی)

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: