مضامین

ایک جولائی ۲۰۲۲ اور شعبہ اردو بال بھارتی…….؛ جذبات و احساسات

وجاہت عبدالستار

۳۰ جون ۲۰۲۲ کی شام چھے بجے خان نوید الحق صاحب نے بال بھارتی کے شعبہ اردو کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہا اور سرکاری دستور ، اصول وضوابط اور قوانین کے مطابق ریٹائر ہوگئے ۔مجھ سمیت ان کے کئی چاہنے والے اس قیمتی لمحے کو اپنی یادوں میں قید کرنے کے لیے وہاں موجود تھے ۔ فاروق سید صاحب کی ایما پر خان صاحب کو پھولوں کی برسات میں لال قالین سے گذارتے ہوئے بال بھارتی کے صدر دروازے تک لایا گیا جہاں ان کے قریبی دوست ریاض الحسن صاحب انھیں بمبئی لےجانے کے لیے گاڑی لیے تیارکھڑے تھے ۔ یحییٰ نشیط صاحب (امراوتی) ڈاکٹر محمد اسداللہ صاحب(ناگپور) عاقب حسنین صاحب (پوسد،اکولہ) یاسین اعظمی سر (مالیگاؤں) شیخ نازیہ ،انتخاب عالم (جُنّر ،پونے) امجد قادری (اورنگ آباد) سرفراز مرمکر ، عامر قریشی (بھیونڈی) میں (سولاپور) اور خان بابا کی منہ بولی بیٹی نمیتا (جو شعبہ اردو کی کلرک تھیں) ۔۔۔ سب نے نم آنکھوں سے انھیں الوداع کہا ۔۔۔ خود خان صاحب ہماری طرف بھیگی بھیگی نظروں سے دیکھتے ، ہچکیاں لیتے ، ہمکتے ،سسکتے کار میں بیٹھ کر ممبئی کی طرف روانہ ہو گئے ۔۔۔۔
باقی تمام لوگ بھی اپنے اپنے آشیانے کی طرف لوٹنے لگے تو میں اور اسداللہ صاحب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ہماری ٹرین چونکہ دوسرے روز تھی اس لیے ہمیں چارونا چار وہیں رکناتھا ۔ ہم اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے ۔
دوسرے دن ۔۔۔۔۔
کیلنڈر کا پنّہ پلٹا ۔۔۔۔
تاریخ بدل گئی۔۔۔
۳۰ جون اب ایک جولائی میں تبدیل ہوگئی۔۔۔
دن بھر کی بھاگ دوڑ کی وجہ سے جسمانی کسل مندی تو تھی ہی ، دل و دماغ پر بھی بوجھل سی کیفیت طاری تھی اس لیے صبح جلدی آنکھ کھل نہیں پائی۔ کچھ نو بجے کا وقت ہوگا، تکیے کے قریب رکھے موبائیل نے غرّانا شروع کیا تو جھنجھلاہٹ میں ، میں نے فون کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اس کا گلا دبا سکوں مگر اسکرین پر نمیتا کا نمبر نظر آتے ہی جھنجھلاہٹ غائب ہو گئی ۔غنودگی ہی کے عالم میں، میں نے کہا ۔
’’ ہیلو ۔۔۔‘‘
’’ گڈ مارننگ سر جی ۔۔‘‘ نمیتا کی سریلی آواز سنائی دی ۔ میں نے بھی جواباً گڈ مارننگ کہا ۔
’’ ناشتہ کر لیا سر آپ نے ۔۔۔؟ ‘‘
’’ابھی کہاں کا ناشتہ !۔۔۔۔۔تمہارے فون سے ہی تو جاگا ہوں ۔‘‘
’’ جلدی سے اٹھ کر ناشتہ کر لیجیے سر ۔ میں انشا اللہ دس بجے تک آفس پہنچ جاوں گی ۔‘‘
نمیتا کی زبان سے انشا اللہ سن کرمجھے کافی اچھا لگا کہ اس لڑکی پر خان صاحب کی صحبت کا کافی اثر ہوا تھا اور کیوں نہ ہو ۔۔۔وہ خان بابا کی بیٹی ہی تو ہے، منہ بولی ہے تو کیا ہوا۔۔۔رشتہ تو احساس ہی کا ہوتا ہے ۔۔ورنہ آج کل ۔۔ خون کے رشتے بھی ایک دوسرے کو شرمندہ کردیتے ہیں ۔
’’ اوکے ۔ آ جانا دس بجے تک ۔کل کے پروگرام کی تصاویر شیئر کریں گے۔‘‘ کہتے ہوئے میں بستر سے کود گیا ۔
اسداللہ صاحب کے بستر کی طرف دیکھا تاکہ انھیں جگا سکوں لیکن وہ کب کے جاگ کر کچھ لکھنے میں مصروف تھے ۔ آدمی یوں ہی بڑا نہیں بنتا ۔ اس کے پیچھے محنت ، لگن اور جستجو ہوتی ہے ۔کامیابی کے چند اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان کو صبح سویرے جاگ جانا چاہیے ۔ اسداللہ صاحب کے کامیاب انشائیہ نگار ہونے کا راز میرے سامنے تھا ۔۔میں نے سلام کرتے ہوئے کہا ۔’’ ناشتے کے لیے چلیں؟ ‘‘
اسداللہ صاحب نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ ’’ بس آپ کے جاگنے کا انتظار کررہا تھا ۔‘‘
’’ جی بس ابھی آتا ہوں۔‘‘ کہہ کر میں نے جلدی جلدی برش کیا ۔ گرم پانی سے غسل کیا تاکہ کسلمندی دور ہو اور پانچ منٹ میں تیار ہوکر اسداللہ صاحب کے سامنے حاضر ہوگیا ۔۔۔’’ جی ۔۔۔ چلیے ۔ ‘‘
ہم دونوں لفٹ سے نیچے آئے تو دیکھا پارکنگ ایریا میں گزشتہ شب کی برسات کاپانی رکا ہوا ہے۔ اسداللہ صاحب نے کہا ۔
’’ لگتا ہے رات میں برسات جم کر ہوئی ہے ۔‘‘
’’ ہاں ۔۔۔‘‘ میں نے کہا۔’’ خان صاحب کے جانے کے بعد آسمان تو روتا ہی رہا ،سڑکوں نے بھی اپنے کنارے بھگو دیے ۔‘‘
میرے اس جملے سے اسداللہ صاحب کافی جذباتی ہوگئے اور کہنے لگے ۔’’ خان صاحب کے جانے کے بعد بال بھارتی میں یہ ہمارا پہلا ۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔ شاید آخری ناشتہ ہے ۔‘‘
میں بھی ان کا جواب سن کر جذبات کی شدت سے مغلوب ہو گیا اور ہم دونوں پر خاموشی طاری ہو گئی ۔ ایک بے کراں خاموشی جو ناشتے کے میز پر بھی نہیں ٹوٹی ۔ واپسی پر ہم دونوں نے محسوس کیا کہ نہ صرف ہمارے دلوں میں۔۔۔۔بلکہ سڑکوں پر بھی ایک عجیب قسم کی سوگواری طاری ہے ۔ ہم اپنے کمرے کی طرف لوٹے تو میں نے کہا ۔’’ نمیتا نے کہا تھا کہ دس بجے تک آ جائے گی ۔ دس بج چکے ہیں ۔۔آفس کی طرف چلتے ہیں ۔‘‘
’’ ہاں بس ! اتنا مضمون مکمل کر لوں ۔۔آپ آگے چلیے ۔۔میں آتاہی ہوں ‘‘ یہ کہہ کر وہ پھر سے اپنی قلم کاپی لے کر لکھنے بیٹھ گئے ۔
میں آفس کی طرف چل پڑا ۔ شعبہ اردو کا آفس رہائشی کمروں کی بلڈنگ سے متصل ہی ہے ۔ آفس پہنچا تو دروازہ بند تھا ۔
’’ یہ نمیتا اب تک کیوں نہیں آئی ۔‘‘ سوچتے ہوئے میں نے دروازہ دھکیلا اور بوجھل قدموں سے اندر داخل ہوکر لائٹ آن کی ۔
کمرہ روشن ہوا تو سب سے پہلے خان صاحب کی خالی کرسی پر نظر پڑی ۔۔۔۔ دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔۔
وہی دروازہ ۔۔۔وہی کھڑکیاں۔۔۔
وہی میز۔۔۔وہی کرسیاں ۔۔۔
لیکن اب کے ان میں وہ نور، وہ رونق باقی نہیں ہے ۔۔ میں نے خالی کرسی کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں گویا ہوا۔
’’ آج تم اتنی بے وقعت کیوں لگ رہی ہو؟ ‘‘
کرسی نے جیسے میرے دل کی بات سن لی اور کہنے لگی۔
’’ ساری رونقیں تو وہ لے گیا جس کی جدائی میں تمہارے چہرے پر بھی مردنی چھائی ہوئی ہے ۔‘‘
بروقت اور برجستہ چوٹ کرنے کی خان صاحب کی عادت اب اس کرسی میں آگئی تھی ۔ میں نے کرسی کا جواب سن کر منہ پھیر لیا اور دیوار کی طرف دیکھا جس پرگزشتہ شب کے برسات کی وجہ سے نمی آ گئی تھی ۔۔ نہ جانے کیوں مجھے محسوس ہوا کہ آفس کی دیوار بھی خان بابا کے جانے کے بعد دیر تک روتی رہی ہوگی ۔ میں نے وقت گزاری کے لیے میز پر پڑی ایک کتاب اٹھا لی لیکن یہ کیا ! کتاب سے الفاظ نکل نکل کر میز پر گر رہے تھے اور سوال کررہے تھے ۔
’’ وجاہت صاحب۔۔ہمارا والی وارث کہاں چلا گیا ۔۔سچ سچ بتاؤ ۔۔کیا ہم یتیم ہوگئے ؟‘‘
کتاب کے اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔جھنجھلا کر میں نے اسے پٹخ دیا اور فون اٹھا لیا کہ نمیتا کو کال کروں ۔۔اتنی دیر تو وہ کبھی نہیں کرتی تھی ۔۔ لیکن فون لگانےسے پہلے ہی نمیتا کے سینڈل کی کھٹ کھٹ کانوں تک پہنچی ۔۔۔ مجھے کچھ اطمینان ہوا ۔نمیتا سامنے آئی تو میں نے بلا سوچے سمجھے طنز کا تیرداغتے ہوئے کہا ۔’’ باپ کی موجودگی میں تو کبھی دیر سے نہیں آئیں ۔۔باپ کیا ریٹائرہوا۔۔۔آزاد ہوگئیں۔؟ یہ وقت ہے آنے کا ؟ ‘‘
’’ باپ نہیں ہے اسی لیے دیر سے آئی ہوں سر ۔۔۔لیکن ۔۔‘‘ نمیتا نے کچھ توقف کے بعد مردہ لہجے میں جواب دیا ۔
’’ باپ کے ہوتے کسی مائی کے لال نے مجھے کبھی گیٹ پہ نہیں روکا ۔باپ کیا چلا گیا ، چیونٹیوں کے بھی پر نکل آئے ۔‘‘
نمیتا کی زبان سے خالص اردو سن کرمزید حیرت ہوئی ۔
’’ واچ مین نے مجھے گیٹ پہ روک لیا تھا سر۔۔۔کہتا ہے ، تمہارا کانٹریکٹ خان صاحب کے ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ختم ہو گیا ۔۔اب تم آفس میں نہیں جا سکتیں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرّا گئی ۔ میں بھی اپنی جلد بازی پہ افسوس کرنے لگا ۔
’’ بڑی منت سماجت کرکے آئی ہوں سر ۔‘‘
ُ’’ اوہ ۔۔۔ آئی ایم سوری نموو ۔۔۔‘‘ میں نے پانی کا گلاس نمیتا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔
’’ اٹس اوکے سر ۔۔۔ زندگی نے سکھا دیا کہ لڑکی کے سر پہ باپ کا ہاتھ ہونا کتنا ضروری ہوتا ہے ۔‘‘
میں مزید اموشنل ہوگیا۔اتنی دیر میں اسداللہ صاحب بھی آگئے ۔جب انھیں علم ہوا کہ نمیتا کا کانٹریکٹ بھی خان صاحب کے ساتھ ہی ختم ہو گیا تو وہ بھی افسردہ ہو گئے ۔ کچھ دیر تک ہم تینوں یوں ہی پرانی باتیں کرتے رہے ، یاد کے طور پر تصاویر بھی کھینچ لیں پھر نمیتا ہی نے یاد دلایا ۔۔
’’ آج جمعہ ہے ۔۔آپ لوگوں کو نماز کے لیے بھی تو جانا ہوگا ۔‘‘
’’ ہاں ۔۔بس نکلتے ہی ہیں۔۔‘‘ میں نے کہا تو نمیتا نے گاڑی کی کنجی آگے بڑھاتے ہوئے کہا ۔’’ میری بائیک لے جایئے ۔۔ایسے موسم میں آٹو کے لیے کہاں خوار ہوتے رہیں گے ! ‘‘
میں نے چابی لیتے ہوئے کہا ۔’’ تمہاری اردو تو اب اتنی اچھی ہوگئی ہے کہ کسی بھی اردو اسکول میں اردو پڑھا سکتی ہو ۔‘‘
نمیتا کے مرجھائے چہرے پر مسکان آگئی ۔
’’ جائیے جائیے ۔۔ مسکا مت لگائیے ۔نماز کا وقت ہو رہا ہے ۔۔‘‘ کہہ کر نمیتا نے مجھے بھگا دیا ۔اسداللہ صاحب کو بائیک پہ بٹھا کر میں نے گاڑی اسٹارٹ کی اور گیٹ سے گاڑی نکال لے گیا ۔ مسجد پہنچے ۔ نماز ادا کی ۔ واپسی میں اسداللہ صاحب نے کچھ پھل خریدے ۔۔کچھ مجھے دیے ۔کچھ خود رکھ لیے ۔ میں نے کہا ۔’’ کھانا کھا لیتے ہیں ۔‘‘
’’ نہیں ۔۔سفر میں میں احتیاط رکھتا ہوں ‘‘ کہہ کر اسداللہ صاحب نے پیکنگ شروع کردی ۔کچھ دیر بعد وہ ناگپور جانے کے لیے تیار تھے ۔میں نے انھیں بھی الوداع کہا ۔میری ٹرین چھے بجے تھی ۔۔میں آفس لوٹا اور کنجی نمیتا کو تھما دی ۔نمیتا نے پوچھا ۔’’ کھانے میں کیا کھانا پسند کریں گے سر ؟ ‘‘
میں نے کہا ۔ ’’ میرا تو کھانے کا موڈ نہیں ہے لیکن اس بات کی خوشی ہے کہ نمیتا اپنے خان بابا کی مہمان نوازی کی روایت نہیں بھولی۔ ‘‘
میرے اس جملے نے نمیتا کو اداس کردیا ۔ شاید خان بابا کی یاد آگئی ۔ میں نے کنکھیوں سے دیکھا ۔وہ اپنے دوپٹے سے آنکھوں کے گوشے پونچھ رہی تھی ۔ یہ جذباتی منظر دیکھ کر میری بھی پلکیں بھیگ گئیں اور میں اپنے آنسوؤں کو چھپانے کے لیے اٹھ کر کھڑکی تک آگیا اور باہر دیکھنے لگا ۔
’’ کیا ہوا سر ۔۔آپ کو بھی میرے ابو یاد آگئے نا ! آپ بھی رو رہے ہو نا ؟ ‘‘
نمیتا نے گویا میری دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا ۔
’’ نہیں تو! ۔۔ بھلا میں کیوں ۔۔۔‘‘ میں نے جھوٹ بولنے کی کوشش کی مگرآواز نے دھوکا دے دیا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ جھوٹ بولنا کتنا مشکل کام ہے اور لوگ اتنی صفائی سے کیسے جھوٹ بول لیتے ہیں ۔ یہاں تو ایک شخص بھلایا نہیں جا رہا ، جس سے خون کا رشتہ بھی نہیں ۔ نہ جانے لوگ کیسے اپنوں کو بھلا دیتے ہیں ۔ سچ ہے ۔احساس کی دولت ایک عظیم نعمت ہے ۔جس کو مل گئی وہ مالا مال ہوگیا ۔۔
میں نے کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ یکبارگی برسات کی ایک ہلکی سی جھڑی کے کچھ چھینٹے چہرے پر آگئے ۔۔میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور سنبھالا لیتے ہوئے نمیتا سے کہا ۔’’ پاگل ہو کیا ۔۔میں کہاں رو رہا ہوں ۔۔یہ تو برسات کی بوندیں چہرے پہ آگئی تھیں ۔‘‘ یہ کہہ کر میں نے اپنا چہرہ پونچھ لیا اور اسی بہانے آنسو بھی صاف کر لیے ۔۔ برسات کی بوندوں نے بھرم رکھ لیا ورنہ شاید ان بوندوں کی جگہ آنکھوں سے بوندیں نکل آتیں ۔ میرے بھی ۔۔اور نمیتا کےبھی ۔۔۔
کچھ دیر بعدنمیتا کے فون پر خان صاحب کی اہلیہ عارفہ باجی کی کال آئی ۔۔وہ خان صاحب کے کچھ کاغذات لینے آئی تھیں ۔ چونکہ گھٹنوں کے درد کی وجہ سے وہ اوپر نہیں آ سکتی تھیں اسلیے ہم خود ہی نیچے کینٹن پہنچ گئے ۔ ان سے بھی باتیں ہوئیں ۔۔گزشتہ روز کی باتوں کو یاد کرکے دل ملول ہو رہا تھا ۔۔۔لیکن میری ٹرین کا وقت بھی ہو چلا تھا ۔۔ کاغذات عارفہ باجی کی تحویل میں دینے کے بعد میں نے باجی سے رخصت لی ۔ باجی نے ڈھیر ساری دعاؤں سے نوازا ۔ پھر وہ بھی چلی گئیں ۔۔ میں بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھا ۔۔سامان پیک کیا ۔۔۔ باہر آکر نمیتا سے ملاقات کی ۔ اب بال بھارتی کو الوداع کہنے کا وقت آ گیا تھا ۔ دل میں عجیب سا ملال لیے ، پژمردہ کندھوں کے ساتھ بال بھارتی کے گیٹ سے باہر نکلا ۔ آٹو میں بیٹھ کر ایک بھرپور نظر بال بھارتی کی عمارت پر ڈالی اور دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہو کر کہا ۔۔’’ تجھ سے تعلق صرف ایک شخص کی وجہ سے تھا ۔ اب وہ نہیں تو ہم بھی نہیں ۔‘‘
آٹو رکشا دھیرے دھیرے پونے اسٹیشن کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ ٹریفک کا کافی شور بھی رہا ہوگا لیکن دل میں ایک عجیب سا سنّاٹا ،ایک خالی پن سا تھا اور میں اپنے آشیانے کی طرف لوٹ رہا تھا ۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: