اہم خبریں

20 سال سے لاپتہ ممبئی کی خاتون حمیدہ بانو کا چلا پتہ ؛ پاکستان کے سوشل میڈیا پر دیکھی گئی خاتون ؛ اہل خانہ میں خوشی کی لہر

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :آج سوشل میڈیا ہماری زندگی سے بہت جڑا ہوا ہے۔ بچے ہوں یا بوڑھے، عام شہری ہوں یا مشہور شخصیات آج تمام سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ سوشل میڈیا بعض اوقات مددگار ثابت ہوا ہے۔ اس بار سوشل میڈیا کی مدد سے ممبئی کی ایک خاتون نے اپنی والدہ کو ڈھونڈ نکالا جو گزشتہ 20 سال سے پاکستان میں لاپتہ تھیں۔ ممبئی کی رہائشی یاسمین شیخ کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ باورچی کا کام کرنے دبئی گئی تھیں لیکن وہ واپس نہیں آئیں۔ یاسمین شیخ نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا، "مجھے اپنی والدہ کے بارے میں 20 سال بعد پاکستان کے ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے معلوم ہوا، جس نے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا۔”
"وہ اکثر 2-4 سال کے لئے قطر جاتی تھی لیکن اس بار وہ ایک ایجنٹ کی مدد سے گئی اور کبھی واپس نہیں آئی۔ ہم نے اس کا سراغ لگانے کی کوشش کی لیکن تمام کوششیں رائیگاں گئیں۔ ہم شکایت بھی درج نہیں کر سکے کیونکہ ہمارے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔”
یاسمین شیخ کا مزید کہنا تھا کہ ان کی والدہ حمیدہ بانو دبئی میں باورچی کے طور پر کام کرنے گئی تھیں اور پھر کبھی اپنے گھر والوں سے رابطہ نہیں کیا۔ "جب ہم اپنی ماں کے ٹھکانے کے بارے میں جاننے کے لیے ایجنٹ کے پاس جاتے تھے، تو وہ (ایجنٹ) کہتا تھا کہ میری والدہ ہم سے ملنا یا بات نہیں کرنا چاہتیں۔ ہمیں یقین دلایا کہ وہ ٹھیک ہیں. ان کا کہنا تھا کہ ’ویڈیو آنے اور ہمارے پاس پہنچنے کے بعد ہی ہمیں ماں کے پاکستان میں رہنے کے بارے میں معلوم ہوا، ورنہ ہمیں یہ معلوم تھا کہ وہ دبئی، سعودی یا کہیں اور ہے‘۔
منظر عام پر آنے والی ویڈیو دیکھنے کے بعد حمیدہ بانو کی بہن شاہدہ نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے شوہر، بہن بھائیوں اور رہائش گاہوں کے نام درست لیے تو وہ انہیں پہچاننے لگے۔ شاہدہ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اس کی بہن کا سراغ لگانے کی ہر ممکن کوشش کی اور ایجنٹ سے رابطہ کیا جو مبینہ طور پر کچھ دیر بعد بھاگ گیا۔ لیکن پھر بھی انہوں نے امید نہیں چھوڑی۔ یاسمین شیخ چاہتی ہیں کہ حکومت انہیں جلد از جلد واپس لانے کے لیے کچھ انتظامات کرے۔ (بشکریہ این ڈی‌ ٹی وی)

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: