مضامین

‘ایک ایسا بھی دور’ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا کی تصنیف کا مختصر جائزہ

مبصرہ -نکہت انجم ناظم الدین
کتاب کا نام :- ایک ایسا بھی دور
مصنفہ :- ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا
کتاب’ایک ایسا بھی دور’ ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا کےافسانچوں اورڈائری کے صفحات پر مشتمل ہےجسے انھوں نے’ایک ایسا بھی دور (کورونا کی ڈائری، وہ سات دن اور چندافسانچے). اس عنوان سے تحریر کیا ہے ‘سخن معتبر’میں پروفیسر صادق نے مختصرا ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا کا تعارف دیا ہے اور ساتھ ہی کورونا کی عالمگیر وبا کے دوران مصنفہ کے ہاسپٹل میں گزرے سات اذیت ناک دنوں کا بھی ذکر کیا ہے -نعیمہ جعفری پاشا کا تعارف دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ "نعیمہ جعفری پاشا ناول نگار بھی ہیں اور افسانہ نگار بھی- وہ ان دونوں اصناف کے حدود سے بخوبی واقف ہیں -ان کے افسانچے منٹو کے سیاہ حاشیے والے افسانچوں سے مختلف اور منفرد ہیں”- اس کے بعد ‘اظہار خیال’ میں مصنفہ نے کورونا وبا کی آمد’اثرات’ اس وقت سے بچنے کے لیے کی جانے والی تدابیر اور بعد میں خود اس وبا سے متاثر ہوجانے والے حالات کو بیان کیا ہے- شوہر کی وفات،اپنی اینجیوپلاسٹی اور اس کے بعد کورونا پازیٹیو ہونے تک کے سفر کو مصنفہ نے اس طرح سے بیان کیا ہے کہ قاری تحریر کے ساتھ بندھ جاتا ہے -اس کرب کو اپنے دل پر محسوس کرتا ہے- اس کے بعد’ وہ سات دن’ (جو 4 مئی تا 10 مئی 2021 پر مشتمل ہیں)’ اسپتال کی ڈائری’ کےعنوان سے مصنفہ نے کورونا اسپتال کی ڈائری لکھی ہے-‘اسپتال کے بستر پر آکسیجن کے ماسک کے اندر سانسوں کی ڈوری کو تھامتے ہوئے کچھ جلتی بجھتی یادیں’ ذیلی عنوان باندھا ہے-
پہلی رات کو بیان کرتے ہوئے مصنفہ لکھتی ہیں کہ”جب میں یہاں لائی گئی تومیں ہوش اور بے ہوشی ،حواس اور بے حواسی کی خندقوں کے درمیان جھول رہی تھی- ہاسپٹل کا یہ پہلا دن اور پہلی رات کورونا سے متاثرہ مریض کے لیے کس قدر اذیت ناک ہو سکتی ہے -اسے پڑھ کر قاری کو اندازہ ہوتا ہے-‘رات’کو بیان کرتے ہوئے مصنفہ لکھتی ہیں کہ پھر غالبا رات ہوئی- بہت سخت، بہت پرہول ،بہت خوفناک، بہت مایوس کن، جیسے اپنے ساتھ اجل کے کارندوں کو بھی لائی تھی-‘ دوسرا دن دوسری رات’ کو مصنفہ نے’ کرب تنہائی’ سے موسم کیا ہے- اس تحریر میں وہ کورونا کے ایک متاثرہ مریض کی موت کو اس طرح بیان کرتی ہیں-"نیلگوں لفافوں میں ملفوف مسیحا آخری کوشش کر کے ہار گئے -سر جھک گئے ہاتھ نیچے گر گئے- خاموشی نے اپنے بے رحم پنجے در و دیوار میں پیوست کر دئیے- تھکے قدموں سے ہارے ہوئے مسیحا قطار بنا کر لوٹ گئے – کوئی اپنا نہیں تھا-کوئی سسکنے والا نہیں تھا”- ان سطروں سے قاری کو کورونا سے ہونے والی اموات کس قدر دردناک تھیں اس کا اندازہ ہوتا ہے۔ ‘تیسرا دن تیسری رات ‘میں أپ بیان کرتی ہیں کہ "ایک لایعنی، بے معنی ،بے کاری کی دھند نے ذہن کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا- بس اگر کچھ نمایاں تھا تو وہ تھا- درد! درد ہی درد ہے اور درد کی تفسیر یہ ہے
درد بیداری بھی ہے خواب بھی تعبیر بھی ہے. درد کرب آہوں اور سسکیوں کے جنگل میں گھرے کورونا کے مریضوں کا حال، زندگی اور موت کی کشمکش کومصنفہ نے اس طرح غالب کے شعر سے بیان کیا ہے کہ
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
EK AISA BHI DAUR

چوتھا دن چوتھی رات شب قدر ساتھ لائی- اس رات شب قدر کے امکان کو بیان کرکے مصنفہ لکھتی ہیں کہ "شب قدر کی روشنی نے جھلک دکھائی لیکن گناہوں کا اندھیرا اس قدر گہرا ہے کہ وہ ٹہر نہ سکی- ڈوب گئی اور میں آج بھی تہی دست کھڑی ہوں۔ "پانچواں دن” یوم مادر کے طور پر طلوع ہوا- مصنفہ کو خبر ہی نہ تھی بعد نماز بچوں کے گلدستوں، نیک خواہشات ،محبت اور عقیدت کے گلہائے رنگا رنگ سے مصنفہ کا موبائل اسکرین گلزار بنا تو آپ کو یاد آیاکہ آج یوم مادر ہے۔ نعیمہ جعفری پاشا’ بین الاقوامی یوم مادر’ منانے کی پرزور حامی ہیں- ماں کی مامتا کو بیان کرتے ہوئے آپ لکھتی ہیں کہ "ماں دراصل سراپا دل ہوتی ہے -دل سے سوچتی ہے -دل کی کرتی ہے اور دل کو اولاد پر نچھاور کرکے بھی ڈرتی رہتی ہے کہ کہیں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی!” پانچویں رات اور چھٹا دن” (حدیث دیگراں دردغیر کا احساس)میں مصنفہ نے اپنے ہی ساتھ روم میں متمکن لڑکی کا ذکر کیا ہے جو مغرورہے اور خود میں گم رہتی ہےلیکن أخر میں امید وبیم کی کیفیت میں وہ مصنفہ سے پوچھتی ہےکہ” آنٹی !میں ٹھیک ہو جاؤ گی نا؟” اور جاتے ہوئے مصنفہ کا شکریہ ادا کرتی ہے- "چھٹی رات اور ساتواں دن "میں نعیمہ جعفری پاشا 60 سالہ ہندوستانی عورت کا ذکر کرتی ہیں- جو ہندوستانی ہونے کے باوجود امریکن اسٹائل میں انگریزی بولتی ہے اور کافی نازنخرے کرتی ہے -ساتواں دن مصنفہ کے لیے خوشخبری لاتا ہے اور انہیں اسپتال سے ڈسچارج مل جاتا ہے- اور سات دنوں کی یہ کرب انگیز روداد آسودگی اور الحمداللہ پر ختم ہوتی ہے-
دوسرے حصے میں ‘دو باتیں’ کے عنوان سے اپنی بات انگریزی کے مشہور کہاوت Pen is mighter than sword. سے شروع کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ” منی کہانیاں, مختصر افسانے ,یا مائیکروفکشن, میرے ذہن پر جو وارد ہوگیا اور جیسے وارد ہوگیا صفحہ قرطاس پر اتر گیا -اب اہل خرد و نقد و نظر یعنی قارئین خود ہی حکم لگائیں-” اس کے بعد 42 افسانچےتحریر کیے گئے ہیں- جوموضوع ،معنی کے لئے اپنی مثال آپ ہیں- مکافات عمل، مجھے کیا برا تھا مرنا اگر۰۰،ہوم کورنٹائن ,وغیرہ افسانچے کورونا وبا کے دوران لکھے گئے ہیں- یہ کتاب 133 صفحات پر مشتمل ہے- نعیمہ جعفری پاشا کی تحریر میں موجود فکر کی گہرائی اور تاثیر قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے- امید ہے کہ اردو ادب کے قارئین اس تصنیف کو نعیمہ جعفری پاشا کی دوسری تصانیف کی طرح پڑھیں گے اور پسند بھی کریں گے-تصنیف’ ایک ایسا بھی دور’ کے لیے ڈھیر ساری دعائیں اور نیک خواہشات-

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: