مضامین

مولانا ابوالکلام آزاد ،ایک کثیر الجہات شخصیت

نکہت انجم ناظم الدین

مولانا ابوالکلام آزاد صرف ایک ذات ہی نہیں بلکہ علم و عمل کی ایک مکمل کائنات تھے- صلاحیت، ذہانت متانت، تحریر، تقریر ،فلسفہ،اور منفرد اسلوب کی صحافت بلا مبالغہ مولانا آزاد کی شخصیت کے اوصاف رہےہیں۔ امام الہند حضرت مولانا سید محی الدین احمد کلام آزاد ۱۸۸۸ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔مولانا کے والد حضرت سید خیرالدین اپنے وقت کے باعمل صوفی اور جید عالم تھے ۔ابوالکلام آزاد کے بیان کے مطابق ان کے آباءو اجداد بابر کے زمانے میں سے ہندوستان آئے تھے۔ کچھ عرصہ یہ لوگ آگرہ میں مقیم رہے اور پھر دہلی آگئے اور یہیں انہوں نے مکمل سکونت اختیار کر لی۔ مولانا آزاد کی والدہ عرب نژاد تھیں۔ ان کے والد شیخ محمد ظاہر وتری عالم تھے اور عرب دنیا میں ان کی بہت شہرت تھی۔ان کے والدین صوبہ سرحد سے ہجرت کر کے مکہ معظمہ أگئے تھے۔ مولانا أزاد کی والدہ نے مکہ میں رہتے ہوئے اردو سیکھ لی تھی اور اردو زبان میں بات چیت کر لیتی تھیں۔مولانا ابوالکلام آزاد کے والد نے ان کا تاریخی نام فیروز بخت رکھا تھا۔اس مصرعے سے تاریخی سال کا استخراج کیا تھا ۔
جواں بخت وجواں طالع جواں باد

مولانا آزاد نے نام فیروز بخت کبھی استعمال نہیں کیا۔ وہ مختلف اوقات میں اپنا مختلف نام مختلف انداز میں لکھتے رہے ہیں۔
غلام محی الدین آزاد(خط عبدالرازق کانپوری) (خدنگ نظر لکھنؤ۱۹۰۰)
ابوالکلام محی الدین آزاد (خدنگ نظر لکھنؤ)
ابوکلام محی الدین أزاد احمد(مخزن)
ابوالکلام آزاد دہلوی(لسان الصدق)
احمدالمکنی بابی الکلام آزاد دہلوی (الہلال)
احمد( تذکرہ)
ابوالکلام (رسالہ مسلئہ خلافت و جزیرہ عرب)
مولانا ابوالکلام آزاد(خط نقش آزاد 117)

مولانا آزاد نے مختلف وقتوں میں اپنا نام مختلف انداز میں بھلے ہی لکھا ہو لیکن وہ ادب اور ہندوستانی سیاست میں مولانا ابوالکلام آزاد کے نام سے جانے جاتے ہیں۔پانچ سال کی عمر میں آزاد کی بسم اللہ کی رسم ادا کی گئی ۔بہت جلد انہوں نے قرآن مجید مکمل کیا اور کچھ سورتیں زبانی حفظ کیں۔ مولانا خیر الدین اور مولوی یعقوب سے انہوں نے عربی اور منطق پڑھی ان کے والد خیرالدین نے مولانا کو فارسی اور عربی پڑھانے پر اتنی توجہ دی کہ اردو بالکل نظر انداز ہوگئ۔ مولانا أزاد کو اردو پڑھنے کا شوق ہوا اور انہوں نے اپنی بہن أبرو بیگم اور حافظ بخاری سے اردو پڑھی ۔ابتدا میں فسانہ عجائب ,باغ و بہار اور قصہ حاتم طائی یہ داستانیں پڑھی ۔اسی کے ساتھ ساتھ مولوی عبدالحلیم شرر کا ناول ملک العزیز ورجینا وغیرہ پڑھے۔ ۱۷ سال کی عمر میں انہوں نے سرسید کے مضامین پڑھے۔مضامین سر سید میں تعلیم کے بارے میں سرسید کے خیالات کا مولانا آزاد پر بہت اثر ہوا ۔انہوں نے محسوس کیا کہ جب تک کوئی شخص فلسفہ، ادب اور جدید سائنس کا مطالعہ نہیں کرتا ہے تو صحیح معنوں میں وہ تعلیم نہیں حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے انگریزی پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ مولوی محمد یوسف جعفری نے انہیں انگریزی کی ابجد سکھائی۔ پیارے چند سرکار کی پہلی کتاب پڑھنے کے لیے دی۔ زبان کی تھوڑی سی معلومات ہونے کے بعد اینجل پڑھی۔ انگریزی لغت کی مدد سے اخبار پڑھے اور پھر انگریزی کتابیں پڑھنے لگے۔ جب الہلال دوسری مرتبہ نکلا تو مولانا آزاد نے انگریزی مضمون کا ترجمہ کیا۔
سال کی عمر میں مولانا آزاد کی شادی زلیخا بیگم سے ہوئی۔ زلیخا بیگم پر لکھے گئے حمیدہ سلطان کے مقالے کے مطابق زلیخا بیگم کا قلمی چہرہ اس طرح بیان کیا گیا ہے:
"نرگسی آنکھیں، دراز پلکیں، جٹی بھنویں، پگھلے ہوئے سونے کا سارنگ، بیضوی چہرہ یاقوتی لب، ساون کی گھٹاؤں کے مانند کالے لمبے بال، بوٹا سا قد ،مائل بہ گداز ،دل أویز جسم ،سفید کالی کسنہ کی سوتی ساری، بے پروائی سے لپیٹے ،مشرقی حیا آمیز اداؤں کا قافلہ اپنے جلو میں لیے، میں نے اسی دنیا کی حور کو دیکھا ۔وہ سلیقہ شعار بھی تھیں اور خانہ داری کے امور سے بھی واقف ،مہمان نواز بھی تھیں اور ہنس مکھ شیریں زبان بھی۔ سسرال والوں پر بھی جان چھڑکتی تھیں اور شوہر پر بھی فدا تھیں۔”
مولانا آزاد کی زندگی سیاست اور قید و بند کی صعوبتوں سے اس قدر گھر ہوئی تھی کہ ان کے پاس زلیخا بیگم کی طرف توجہ کرنے کا وقت ہی نہیں تھا ۔ایک طرف مولانا آزاد وطن کی آزادی کی جدوجہد کی لڑائی لڑ رہے تھے تو دوسری طرف زلیخا بیگم کی قربانی کسی مجاہد آزادی سے کم نہیں تھی۔ مالی طور پر مستحکم نہ ہونے، شوہر سے جدائی اور تنہائی نے ان کی صحت پر مضر اثرات مرتب کیے اور وہ دق جیسے مرض کا شکار ہو گئیں۔دوسال مسلسل بیماری کے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔ مولانا آزاد اس وقت تک قید میں تھے۔ مولانا نے حبیب الرحمن خان شیروانی کو لکھے گئے خط میں اپنی شریک حیات کی وفات کا ذکر انتہائی درد بھرے انداز میں کیا ہے۔ پہلی اور آخری بار اپنے ذہنی کرب اور روحانی تکلیف میں کسی کو شریک کیا ہے خط کا اختتام اس شعر سے کیا ہے

سوداخدا کے واسطے کر قصہ مختصر
اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں

جیل سے رہا ہو کر مولانا أزاد زلیخا بیگم کی قبر پر گئے اور دیر تک روتے رہے۔

۱۹۰۸ میں مولاناآزاد مصر، ترکی اور وہاں سے فرانس گئے۔ وہاں انہوں نے فرانسیسی سیکھنی شروع کر دی اور مختصر سے وقت میں فرانسیسی کی کتابیں آسانی سے پڑھنے لگے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے ترکی بھی سیکھی۔ مولانا آزاد لڑکپن سے ہی کتابیں پڑھنے کے شوقین تھے۔ کھیلوں کے مقابلے کتابیں پڑھنے کو ترجیح دیتے اور گوشہ تنہائی میں کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔مولانا آزاد ہندوستان کی سیاست میں حصہ لینے کے باوجود، ایک ادب دوست شخصیت ہونے کے باوجودخلوت پسند واقع ہوئے تھے اپنی خلوت پسندی کا ذکر غبار خاطر میں اس طرح کرتے ہیں:
"میں جب کبھی قید خانے میں سنا کرتا ہوں کہ فلاں قیدی کو قید تنہائی کی سزا دی گئی ہے تو حیران رہ جاتا ہوں کہ تنہائی کی حالت آدمی کے لئے سزا کیسے ہو سکتی ہے اگر دنیا اس کو سزا سمجھتی ہے تو کاش ایسی سزائیں عمر بھر کے لئے حاصل کی جا سکیں۔”
انھیں سگریٹ اور چائے بے حد مرغوب تھے۔ غبار خاطر کے کی خطوط میں انہوں نے اپنی چائے نوشی کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔غبار خاطر کے ایک خط میں سگریٹ اور چائے کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:
"شاید آپ کو معلوم نہیں کہ چائے کے باب میں میرے بعض اختیارات ہیں۔ میں نے چائے کی لطافت کو، شیرینی کو، تمباکو کی تندی و تلخی سے ترکیب دے کر کیف مرکب پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں چائے کے پہلے گھونٹ کے ساتھ ہی متصلا سگریٹ کا بھی ایک کش لیتا رہوں گا۔ علی اصطلاح میں اس صورت حال کو علی سبیل التوالی و التعاقب کہیے۔اس طرح اس سلسلہ عمل کی یہ کڑی چائے کے گھونٹ اور سگریٹ کے ایک کش کے باہمی امتزاج سے بتدریج ڈھلتی ہے ۔اورسلسلہ کارد راز رہتا ہے ۔کیا کہوں ان دو از این دو لطیف کی آمیزش سے کیف و سرور کا کیسا معتدل مزاج ترقی پذیر ہوگیا ہے۔”
مولانا آزاد نے ابتدا میں شعر کہے ہیں اور بعد میں نثر نگاری کی طرف توجہ دی۔ دس گیارہ برس کی عمر میں مولانا نے شاعری کا آغاز کیا۔ مولانا عبدالواحد سہرسا می کی صحبت میں رہ کر مولانا کو شعر کہنے کا شوق پیدا ہوا۔
‘ارمغان فرخ’کی طرح

پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی

میں مولانا نے جوغزل کہی اس کے کچھ اشعار مندرجہ ذیل ہیں۔

نشتر بہ دل ہے آہ کسی سخت جان کی
نکلی صدا تو فصہ کھلے گی زبان کی
گنبد ہے گرد بار تو ہے شامیانہ گرد
شرمندہ میری قبر نہیں سائبان کی
آزاد بے خودی کے نشیب و فراز دیکھ
پوچھی زمین کی تو کہی آسمان کی

ارمغان فرخ میں مولانا آزاد کا یہ کلام پہلی بار شائع ہوا۔ انجمن اردو کے قیام سے لے کر مولانا کے آخری دنوں تک مولانا آزاد کا انجمن سے تعلق رہا ہے ۔لسان الصدق کے پہلے شمارے میں مولانا نے انجمن ترقی اردو پر ایک نوٹ لکھا ۔
مولانا آزاد کے ادبی کارنامے

اعلان الحق ۔۱۹۰۳
قولِ فیصل۔ ۱۹۲۲(اس کتاب میں مولانا آزاد نے حکومت کے ذریعے لگائے گئے بغاوت کے الزام کا فخر کے ساتھ اعتراف کیا ہے۔)
ترجمان القرآن۔(تین جلدوں میں،اور تیسرے ایڈیشن میں چار جلدوں میں)
تذکرہ۔۱۹۱۹( خود نوشت سوانح )
کاروان خیال ۔(مجموعہ خطوط) ۱۹۴۶
نقش آزاد۔( مرتبہ غلام رسول مہر) غالب پر لکھی گئی مولانا آزاد کی تحریریں بھی اس میں شامل ہیں۔
تبرکات آزاد ۔(مرتبہ غلام رسول )خطوط اور مضامین شامل ہیں۔
انبیائے کرام۔(مرتبہ غلام رسول مہر) مولانا آزاد کے مقالات کا مجموعہ ہے
ارمغان آزاد۔(مرتبہ ابو سلیمان )ابو کلام آزاد کے ابتدائی مضامین

مولانا آزاد کا حافظہ بلا کا تیز تھا۔ حبیب الرحمن شیروانی کے نام لکھے اپنے خط میں لکھتے ہیں:
"بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی بات برسوں تک حافظہ میں تازہ نہیں ہوتی گویا کسی کونے میں سو رہی ہو۔پھر کسی وقت اچانک اس طرح جاگ اٹھے گی جیسے اسی وقت دماغ نے کئی بار کھول کر اندر لے لیا ہو۔ اشعار و مطالب کی یاد داشت میں اس طرح کی واردات اکثر پیش آتی رہتی ہیں ۔تیس چالیس برس بیشتر کے مطالعے کے نقوش کبھی اچانک اس طرح ابھر أئیں گے کہ معلوم ہوگا ابھی ابھی کتاب دیکھ کر اٹھا ہوں۔ مضمون کے ساتھ کتاب یاد آ جاتی ہے، کتاب کے ساتھ جلد، جلد کے ساتھ صفحہ اور صفحے کے ساتھ یہ تعین کے مضمون ابتدائی سطروں میں تھا یا درمیانی سطروں میں یا آخری سطروں میں۔ نئے صفحے رخ کے داہنی طرف تھا یا بائیں طرف کا۔”
مولانا آزاد کی زندگی کا کثیر وقت ادبی اور سیاسی صحافت میں گزرا ہے ۔مولانا آزاد نے مدیر ،نائب مدیر اور مضمون نگار کی حیثیت سے مندرجہ ذیل رسائل و اخبارات پر کام کیا ہے۔
نیرنگ عالم۔ ۱۸۹۹میں مولانا آزاد نے نیرنگ عالم رسالہ جاری کیا۔
المصباح۔۱۹۰۰میں مولانا نے ہفت روزہ اخبار المصباح جاری کیا۔
احسن الاخبار۔ ۱۹۰۱میں کلکتہ سے احسن الاخبار نکلنا شروع ہوا۔ اس کے ایڈیٹر سید احمد حسن تھے اور ادارت کا بیشتر کام مولانا کے سپرد تھا۔
خدنگ نظر- اس ماہنامہ میں مولانا آزاد کی غزلیں شائع ہوتی تھیں۔
الندوہ۔۱۹۰۳میں مولانا آزاد نے علامہ شبلی کے ماہانہ الندوہ میں ادارت کا کام کیا۔
اس کے علاوہ وکیل، دارالسلطنت، ریویو، پیغام، الجامعہ، پیام، لسان الصدق، الہلال وغیرہ رسائل اور اخبارات سے بھی وابستہ رہے۔ مولانا آزاد کی پوری زندگی استقامت علم و عمل، صداقت، بصیرت اور فکر ونظر کی پختگی کا جیتا جاگتا نمونہ تھی۔
۱۹ فروری۱۹۵۸ کو مولانا پر فالج کا حملہ ہوا۔ چار دن کی بے ہوشی کی کیفیت کے بعد مولانا آزاد نے داعی اجل کو لبیک کہا ۔انہیں جامع مسجد اور لال قلعہ کے درمیان دفن کیا گیا۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: