مہاراشٹر

"وقف بورڈ کا آفس ہرضلع میں قائم ہوگا ؛ رجسٹریشن کے لیے آن لائن بھی عریضہ دیا جا سکے گا” وقف بورڈ کے چیئرمن، رکن کونسل ڈاکٹر وجاہت مرزا کی یقین دہانیاں قوم کے لیے کہیں سبز باغ نہ ثابت ہوں

جلگاؤں : (سید علی انجم رضوی) : جب بھی ہمارے سامنے وقف بورڈ کا تذکرہ کیا جاتا ہے ہمارے چہرے پر بیزاری کے تاثرات ابھر آتے ہیں۔ کیونکہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو وقف بورڈ کے تلخ تجربات ہوئے ہیں۔مساجد و مدارس کے رجسٹریشن یا چینج رپورٹ کے معاملات برسوں التواء میں پڑے رہتے ہیں۔ وقف بورڈ کا ریاستی آفس اورنگ آباد شہر میں ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو وہاں جانے میں دقت ہوتی ہے۔پھر وہاں کے اسٹاف کی بے اعتنائی اور کھلے عام جاری مبینہ رشوت ستانی سے ہر کوئی پریشان ہے۔
گزشتہ دنوں جلگاؤں کانگریس کی طرف سے وقف بورڈ کے چیئرمین ایم ایل سی ڈاکٹر وجاہت مرزا کا ایک پروگرام کلکٹر آفس کے "نیوجن بھون” میں رکھا گیا۔ موصوف نے اس موقع پر حاضرین کے سوالات کے جوابات دیئے اور شکایتوں پر مبنی میمورنڈم قبول کیے۔ آخر میں اپنے خطبہء صدارت میں کہا کہ ” مارچ 2021 میں مسلم ایم۔ایل۔اے/ایم۔ایل۔سی کوٹے سے مجھے نامزد د کیا گیا ہے۔ اس لیے ریاستی سرکار کے بدلنے سے بھی میری چیئرمین شپ کو کوئی دھوکا نہیں ہے۔ بطور چیرمن میری میعاد صرف سات مہینے ہی ہوئی ہے۔ وقف بورڈ پارلیمنٹ میں پاس کیے گئے ایکٹ کے تحت وجود میں آیا ہے۔ اسے خود مختاری بھی دی گئی ہے۔ مگر جس طرح دیگر بورڈ کے ملازمین کو ریاستی حکومت کی طرف سے تنخواہیں دی جاتی ہیں، اس طرح وقف بورڈ کے ملازمین کو ریاستی یا مرکزی حکومت کی طرف سے تنخواہیں نہیں دی جاتیں۔ ہمیں اپنے فنڈ میں سے ہی ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے۔ وقف بورڈ میں کل درکار ملازمین کی تعداد 207 ہے جبکہ صرف 28 ملازمین ہی کام کرتے ہیں۔ ان میں سے 8 ملازمین چپراسی وغیرہ ہیں۔ بقیہ 20 افسران میں سے بھی کئی سبکدوش ہو گئے ہیں۔ ملزمین کی کمی کا ہمارے سامنے بہت بڑا مسئلہ ہے۔
مہا وکاس آگھاڑی سرکار کے دور میں ہم نے سرکار سے 170 ملازمین کی بھرتی کی منظوری لے لی ہے۔ تقرری کے لیے ریکروٹمنٹ بورڈ (Recruitment Board) بنایا گیا ہے۔ اس لیے تقرریاں آخری مرحلے میں ہیں۔ بہت جلد ملازمین کی بھرتی ہو گی۔سر دست 70 ملازمین کنٹریکٹ پر بھرتی کرنے کا ہم نے فیصلہ لیا ہے۔ بہت جلد یہ ملازمین بھرتی کر لیے جائیں گے۔
پھر ہر ضلع میں وقف بورڈ کا آفس ہوگا۔ جس کے بعد آپ لوگوں کو اورنگ آباد آنے کی ضرورت نہیں رہی گی۔ آپ اپنے ہی ضلعی آفس سے اپنے کام کر سکتے ہیں۔ موصوف نے ناسک ڈویژن کے آفیسر فیاض احمد کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کل ہی جلگاؤں کے ضلعی آفس کے لیے ملازمین کی تقرری کے لیے اخبار میں اشتہار دے دیجئے اور ملازمین کا تقرر کر لیجئے۔ مختلف ٹرسٹ کے رجسٹریشن اور چینج رپورٹ منظوری کے لیے ہم بہت جلد جلد فیاض احمد کی سرپرستی میں وقف بورڈ کے ملازمین کا 2 روزہ کیمپ جلگاؤں میں لگائیں گے۔
جلد ہی وقف بورڈ کے کام آن لائن بھی ہو سکیں گے۔ تین مہینے میں یہ کام مکمل ہو جائے گا۔ پھر اس کے بعد رجسٹریشن یا چینج رپورٹ منظوری وغیرہ آن لائن بھی کی جا سکتی ہے۔ ہم آن لائن ہی دستاویزات کی جانچ کر کے فیصلہ دے سکتے ہیں۔ کئی مدارس و مساجد کے رجسٹریشن اور چینج رپورٹ کے معاملات 2004 سے التواء میں پڑے ہوئے ہیں۔ 2 ستمبر 2022 کو وقف بورڈ کی میٹنگ میں ہم نے 291 رجسٹریشن اور چینج رپورٹ کے معاملات کو فیصل کیا ہے. یہ ایک ریکارڈ ہے۔ اب باقاعدگی سے ہر مہینے وقف بورڈ کی میٹنگ ہوگی۔ لیکن دقت یہ ہے کہ کچھ سوسائٹیز کی طرف سے 12/ 12 چینج رپورٹز پیش کی جاتی ہیں۔ جن کا فیصلہ کرنے میں بہت وقت لگتا ہے۔ اس طرف بھی مسلمانوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وقف بورڈ کو عدالتی اختیارات بھی ملے ہوئے ہیں۔ پھر جو لوگ ہمارے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوتے وہ وقف ٹریبیونل میں جاکر ہمارے فیصلے پر اسٹے آرڈر حاصل کر لیتے ہیں۔ وقف پراپرٹی سے ریمونیشن لینے کی بات وقف ایکٹ میں ہی موجود ہے۔ اس لیے ہم اس کو رد نہیں کر سکتے۔ ہاں اس پر جو جی۔ایس۔ٹی لیا جا رہا ہے، اس کے متعلق ہم حکومت سے ضرور بات کریں گے۔ مہاراشٹر میں وقف بورڈ کی املاک 97 ہزار ایکر ہے۔ مگر افسوس کہ 40 فیصدی زمینوں پر غیر قانونی قبضہ جات ہیں۔ اور مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ان میں سے 70 فیصدی قبضہ جات مسلمانوں نے کر رکھے ہیں۔ پچھلے دنوں ہم نے اورنگ آباد پیٹھن روڈ پر واقع مانڈکی گاؤں میں 87 ایکر زمین پر غیر قانونی قصبہ جات کو ہٹایا۔ اور متعلقین کے خلاف ایف۔آئی۔آر۔ درج کی گئی۔
اسی طرح پونہ میں ایک وقف پراپرٹی کی زمین ہائی وے میں جانے کی وجہ سے انہیں ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے ساڑھے سات کروڑ روپے ملے۔ مگر انہوں نے جعلی دستاویزات بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مذکورہ پراپرٹی وقف کی نہیں ہے۔ اس میں انہیں وقف بورڈ کے پینل کے ایک سابق وکیل نے مدد کی۔ ہم نے اس معاملے میں بھی مقدمہ درج کر کے تمام متعلقین کو سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا ہے۔ مذکورہ وکیل کی ڈگری بھی فرضی پائی گئی۔
جہاں تک فل ٹائم چیف ایکزکیٹو آفیسر (CEO) کی تقرری کا معاملہ ہے۔ وقف ایکٹ کے مطابق اس عہدے کے لیے کسی ڈپٹی یا جوائنٹ سیکریٹری درجے کا مسلم آفیسر کا تقرر کیا جانا چاہئے۔ فی الحال ریاست میں صرف دو ایسے مسلم آفیسرز ہیں۔ وہ بھی ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں۔ اس لئے فی الحال ہم نے ایم۔پی۔ایس۔سی۔ پاس کیے ہوئے جنید سید کو سی۔ای۔او کا کا ایڈیشنل چارج دیا ہے۔ ایکسپریشن آف انٹریس کے تحت آپ اچھے مقاصد مثلا تعلیم یا چیریٹیبل ہاسپٹل وغیرہ کے لیے وقف کی پراپرٹی کو لیز (Lease) پر بھی لے سکتے ہیں۔ اس میں ہم آپ کا پورا تعاون کریں گے۔”
موصوف کی تقریر سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے انہیں کوئی علاؤالدین کا چراغ مل گیا ہو اور وہ چند دنوں میں ہی برسوں سے جمود کا شکار وقف بورڈ کو راہ راست پر لے آئیں گے۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ وجاہت مرزا کی کتنی یقین دہانیاں رو بہ عمل ہوں گی اور کتنی سبز باغ ثابت ہوں گی۔ وقف بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر وجاہت مرزا کے ساتھ ڈویژنل آفیسر فیاض احمد اور پرسنل سیکرٹری، جلگاؤں کے سابق ڈپٹی کلکٹر ساجد پٹھان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مفتی عتیق قاسمی، فاروق شیخ، ایاز علی، منور خان اور مولوی ہارون ندوی نے اظہارِ خیال کیا۔ اس اہم میٹنگ میں جان بوجھ کر منتظمین کا اہل سنت و جماعت کے علماء اور دانشوروں کو نظر انداز کرنا سب نے محسوس کیا اور اس فعل کی مذمت بھی کی۔جمیل شیخ نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ بڑی تعداد میں مختلف ٹرسٹ کے ذمہ داران اور جلگاؤں شہر کے سرکردہ افراد موجود تھے۔ دھولیہ سے کانگریس کے مشہور رہنما صابر سیٹھ خصوصی طور پر موجود تھے۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: