مہاراشٹر

”جمہوریت کے استحکام اوراس کی سلامتی کیلئے ہرشخص کو ذمہ دارانہ رول ادا کرنا ہوگا ‘‘

روٹی کپڑا، دو اعلاج اورتعلیم شخص کا بنیادی حق ہے جسے کوئی حکومت چھین نہیں سکتی ،فورم فار ڈیموکریسی اینڈ کمیونل امیٹی اوراسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس کی مجلس مذاکرہ میں مقررین کا اظہار خیال

ممبئی : ملک کے موجودہ حالات میں جمہوریت امن اور انصاف کی جس طرح سے دھجیاں بکھیری جارہی ہیں، وہ کسی سے مخفی نہیں۔ حالانکہ یہ کسی بھی ملک کی ترقی اور عوام کی بہتری کی کلید ہے۔ اس کے پیش نظرفورم فار ڈیموکریسی اینڈ کمیونل امیٹی(ایف ڈی سی اے) اوراسوی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے جمہوریت ، امن اور انصاف کے عنوان پر مراٹھی پتر کارسنگھ میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء نے جمہوریت کی بقاء اور استحکام کیلئے اہم رول ادا کر نے پرزوردیا۔
سیمینار میں معروف قانون داں ایڈوکیٹ یوسف حاتم مچھالا نے کہا کہ انصاف اور امن ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ جہاں انصاف نہ ہو، وہاں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ جس طرح میرا جسم میری مرضی کے تابع ہے اسی طرح خواتین کو اپنے پسند کالباس پہننے ،ڈو پٹہ اوڑھنے اورحجاب پہننے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کرناٹک حکومت نے حجاب کے تعلق سے جوفیصلہ سنایا ہے ، وہ مناسب نہیں ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ طالبات کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا۔ ایف ڈی سی اے کے ڈاکٹر و ویک کورڈے نے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ آج حالات یہ ہیں کہ ہم پر جا بن کے جی رہے ہیں جبکہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ ہم اچھا اور ذمہ دار شہری بن کر جیئیں ۔ دوسری جانب شخصیت پرستی کی ہم نے انتہا کر دی ہے۔ خواہ وہ مہاتما گاندھی کے تعلق سے ہو یا پھر پنڈت جواہر لال نہرو کے تعلق سے ہو یا موجودہ وقت میں نریندرمودی کہ ان کو ہی سب کچھ سمجھا جارہا ہے اور یہ باور کرایا جارہا ہے کہ یہی پورا ملک ہیں اور پورا ملک ان ہی سے ہے جبکہ یہ تصور ہی غلط ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ لوگو کو باور کرایا جاتا ہے کہ آزادی چاہئے یا روٹی کپڑا۔ حالانکہ دوقت کی روٹی تو غلام کو بھی پابندی سے ملتی ہے ،ہم کسی کے غلام نہیں ہیں بلکہ ایک جمہوری ملک کے ذمہ دارشہری ہیں ، یہ ہمیں ذہن نشین رکھنا چاہئے اور حکومت کو بھی یادرکھنا چاہئے ۔ اس لئے بھی کہ غلطیوں کی نشاندہی اور آزادی اظہار رائے صحت مند جمہوریت کی بنیاد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ساری ذمہ داری حکومت کے سرتھو پنا بھی ایک ذمہ دار شہری کی پہچان نہیں ہے بلکہ ہمیں آئین کے تحفظ ، اپنے حقوق کی حصولیابی اور جمہوریت کی بقاء کیلئے اپنا رول ادا کرنا ہوگا اور ہندومسلم کے جال میں نہ پھنستے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی ۔“
ایڈوکیٹ عرفان انجینئر نے کہا کہ ” ڈیموکریسی محض ووٹ دے کر حکومت منتخب کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ جمہوریت کا مفہوم یہ ہے کہ تمام بسنے والوں کو یکساں حقوق مہیا کروائے جائیں اور ان کا تحفظ کیا جائے ۔ آزادی اظہار رائے اور شہریوں کے حقوق مودی حکومت ہی نہیں کوئی بھی حکومت نہیں چھین سکتی ۔حکومت کی ڈیوٹی ہے کہ وہ روٹی کپڑا مکان ، دوا ، علاج اور تعلیم کی بہتر سہولت مہیا کروائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیموکریسی نہ تو آسمان سے ٹپکتی ہے اور نہ ہی اس وقت تک وہ صحیح انداز میں کام کرے گی جب تک کہ ہم ایک ذمہ دار اور بیدار شہری کا رول ادانہیں کریں گے۔ ہم حکومت سے سوال کریں اور اپنے اور دوسروں کے حقوق کے تحفظ کی فکر اور کوشش کر یں ۔ انہوں نے حاضرین سے سوال کیا کہ کیا ہم سب ڈیموکریٹک ہیں؟ یا تفریق کا شکار ہوکراپنی اس ذمہ داری کو بھول چکے ہیں۔ سیمینار میں محمد اسلم غازی (صدر اے پی سی آر مہاراشٹر)اورعبدالحفیظ فاروقی (جنرل سکریٹری ایف ڈی سی اے مہاراشٹر) موجود تھے۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
error: Content is protected !!
%d bloggers like this: