مضامین

حسنِ کلام

محمد عمران عبد الرشید نیپالی
متعلم : مدرسہ چشمۂ فیض ململ مدھوبنی بہار

قارئین عظام !
حسن کلام ایک ایسی مہتم بالشان نعمت ہے جس کے ذریعے ہم دلوں کومسحورکرسکتےہیں، زبان اللہ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم و مہتم بالشان نعمت ہے ،حسن کلا م ایک بیش قیمت ہنر ہےجوہرشخص کےحصےمیں نہیں آتا، اللہ تعالٰی یہ ہنر جسے عطا کردے گویا اسے دنیا کی سب سے قیمتی چیز حاصل ہوگئی۔ حسن کلام کے اندر ایک عظیم قوت وطاقت کار فرماہوتی ہے ، جو سخت سے سخت دل کے قفل کو بھی کھولنے کی استطاعت رکھتا ہے، جس طرح کمرے میں موجود چھوٹے چھوٹے سوراخ سورج کے موجودگی کی گواہی دیتے ہیں، ٹھیک اسی کے مثل انسان کی طرزِ گفتار اس کی تربیت کا آئینہ دار و عکاس ہوتی ہے، حسن کلام،تکلم وتحریر میں فصاحت وبلاغت،لفظ کی نکھار، جملوں کی روانی، فقروں کی جزالت، معانی کی صحت اورتصنع وتکلف تعقید سے دوری کا نام ہے، اور متبادر الی الفھم کلام ہے ہم جب ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں تو سب سے قبل یہ امر قابل غور ہوتا ہیکہ ہماری گفتگو اخلاق و کردار اور تربیت کی عمدگی کا عکاس ہے یا نہیں ہے، گفتگو میں بے احتیاطی اور طرز تکلم میں عمدگی کا نہ ہونا قریب سے قریب تر رشتوں کو کچل دیتا ہے۔
کیونکہ الفاظ ہی ہماری عکاسی ہوتی ہے اور الفاظ ہی ایسے ہوتے ہیں کہ دل چھین بھی لیتے ہیں اور دل چیر بھی دیتے ہیں،اسی لیے ہمیں ہر پل ہر کسی سے اچھے اسلوب واندازمیں اچھی باتیں کرنی چاہیے ۔ فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:
اور آپ میرے بندوں سے فرما دیں کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہتر ہوں۔ (سورۃ بنی اسرائیل۔53)
اللہ تعالیٰ اس فرمان کے ذریعہ اس بات کی طرف متنبہ فرمارہے ہیں کہ ہمیں ہر کسی انسان سے ہر حال میں چاہے غصے میں ہوں یا بے حد ذہنی دباؤ میں ہمیشہ بہترین لب ولہجہ میں باتیں کرنی چاہیے ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو لوگ بغیر سوچے سمجھے بولتے ہیں کئی بار ان کے الفاظ سے دوسروں کی دل شکنی ہوتی ہے اور بعد میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے کیونکہ بے لگام الفاظ بے لگام جانوروں کی مانند ہوتے ہیں۔ حسن کلام کے ساتھ اچھی باتیں کرنا اور فضول گوئی سے بچتے رہنا مومن کی شان اور نشانی بھی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: اور وہ کسی بے ہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے۔ (سورۃ المومنون۔3)
فضول گوئی کا انسان کے کردار پر بہت منفی اورگہرا اثر پڑتا ہے۔ یہ بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ اخلاق ایک دکان ہے اور زبان اسکا تالا ، جب تالا کھلتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دکان سونے کی ہے یا لوہے کی۔ یہ بات بھی عیاں ہے کہ بعض لوگ صرف زبان سے میٹھا بولنے والے ہوتے ہیں لیکن دل میں بغض و عناد رکھے رہتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ حسنِ کلام ہرگز نہیں بلکہ سب سے بڑی منافقت ہے۔ زبان کے ساتھ دل میں بھی عزت و محبت ہونی چاہیے۔زبان کے ساتھ ساتھ دل کی بھی نیت پاک و صاف ہونی چاہیے، ہماری سوچ اچھی ہونی چاہیے کیونکہ دنیا کے سبھی انسانوں کی خلقت اللہ نے اجمل انداز میں کی ہیں، بد صورتی تو روّیوں اور سوچوں میں ہوتی ہیں اسی لیے سوچ اچھی ہونی چاہیے۔ کیوں کہ نظر کا علاج تو ممکن ہے لیکن نظریے کا علاج بالکل بھی ممکن نہیں۔ جو شخص اپنے ہم نشینوں، ہم پیشاؤں، رفقاؤں، اور رشتے داروں کے لیے زبان سے محبت ظاہر کرے مگر دل میں ان کے خلاف عداوت، بغض اور کینہ چھپا رکھا ہو ایسے لوگوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ "جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھ سکے گا [ حلية الاولياء ،١٠٨/٨، الحديث ١١٥٣٦] جن کے دل بغض اور کینہ سے بھرے ہوتے ہیں انہیں اپنے سوا ہر کسی میں عیب ہی عیب نظر آتا ہے۔ وہ غور و فکر جیسی عظیم نعمت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جس طرح آنکھ دنیا کی ہر چیز دیکھتی ہے مگر جب آنکھ ہی کے اندر کچھ چلا جائے تو اسے دیکھ نہیں پاتی بالکل اسی طرح انسان دوسروں کے عیب تو دیکھتا ہے پر اسے اپنے عیب نظر بالکل نہیں آتے، کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ
نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر
رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر
تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
پیارے قارئین :
خلاصۂ کلام یہی ہے کہ حسنِ کلام، نرم.خوئی اور عمدہ اخلاق سے ہی ارتقاء کے منازل طے کرسکتے ہیں اور انسانیت کا دل جیت سکتے ہیں باری تعالی ہمیں حسن کلام کی توفیق بخشے ہمارے دلوں کو کدورت سے پاک فرمادے (آمین ثم آمین یا رب العالمین)

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
error: Content is protected !!