مہاراشٹر

مرکزی حکومت کا پری میٹرک اسکالرشپ کے تعلق سے ظالمانہ فیصلہ ؛ پہلی سے آٹھویں کے طلباء اسکالر شپ سے محروم ، سرپرستوں میں تشویش

کھام گاؤں: (واثق نوید) : مرکزی حکومت نے اچانک ایک ظالمانہ فیصلہ لیکر پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت کے اقلیتی طلباء کو ملنے والی پری میٹرک اسکالرشپ بند کرنے کا اعلان کیا جس سے اقلیتی طبقے میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔
ملی جانکاری کے مطابق مرکزی حکومت کے جانب سے گزشتہ کئی سالوں سے اقلیتی طبقے کے پہلی سے دسویں جماعت کے طلباء کو پری میٹرک اسکالرشپ کی شکل میں 1000 روپئے سالانہ دیا جاتا تھا۔ لیکن پری میٹرک اسکالرشپ حاصل کرنے کے لئے سرپرستوں کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑھتا تھا ، مالی خرچ کرنے کے باوجود اسکالرشپ ملنے کی کوئی گیارنٹی نہیں تھی۔ امسال بھی تعلیمی سال 2023، 2022 کے لئے حکومت نے طلباء کے سرپرستوں کو پری میٹرک اسکالرشپ کے وظیفے کے لئے درخواست کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ہزاروں اقلیتی طلباء نے فارم بھرے ، لیکن اچانک حکومت نے پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے طلباء کے فارم کو حق تعلیم ایکٹ 2009 کا حوالہ دیتے ہوئے منسوخ کردیا ۔ صرف نویں سے دسویں کے طلباء کو پری میٹرک اسکالرشپ کے لئے جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ حق تعلیم ایکٹ 2009 کے تحت پہلی سے آٹھویں جماعت تک تعلیم لازمی اور مفت قرار دی گئی ہے۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلباء کو پری میٹرک اسکالرشپ سے محروم کردیا ۔ جو کہ اقلیتی طلباء کے ساتھ نا انصافی ہے۔ اس ظالمانہ فیصلہ سے اقلیتی طبقے میں سخت تشویش و ناراضگی پائی جارہی ہے۔ قوم کے رہنماؤں اور تعلیمی اداروں ، ٹیچر سنگھٹناوں کو اس فیصلے کے خلاف سخت میدان میں اترنا ہوگا۔

kawishejameel

Jameel Ahmed Shaikh Chief Editor: Kawish e Jameel (Maharashtra Government Accredited Journalist) Mob: 9028282166,9028982166

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: Content is protected !!