مضامین

اورنگ آباد میں بڑھتی خونی وارداتیں ؛ شہر کے امن کو خطرہ

chief editor kawish e jameel jameel ahmed shaikhازقلم: جمیل احمد شیخ
مدیراعلیٰ کاوش جمیل
موبائیل نمبر:
9028282166
اورنگ آباد، جسے اب چھترپتی سمبھاجی نگر کے نام سے جانا جارہا ہے،جو گزشتہ چند ہفتوں سے مسلسل خونی وارداتوں کا گواہ بن رہا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والے پے در پے قتل نے نہ صرف عوام کو خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ امن و قانون کی صورتحال پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہ شہر اپنی تاریخی شناخت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا تھا، مگر آج وہی گلیاں اور بازار خون میں رنگے جا رہے ہیں۔
سب سے پہلا ہولناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب سادات نگر علاقے میں ایک آٹو رکشہ ڈرائیور سید عمران کو اُس کے بچوں کے سامنے بےدردی سے قتل کر دیا گیا۔ ملزمان بغیر نمبر پلیٹ والی کار میں آئے اور معمولی تنازعے کے بدلے اسے تلوار سے وار کر کے موقع پر ہی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا کہ مقتول اور قاتلوں کے درمیان پرانی دشمنی تھی جو گینگ رقابت میں بدل چکی تھی۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے میں خوف کی لہر دوڑا دی تھی۔
چند ہی دن بعد شاہ بازار جیسے مصروف علاقے میں دن دہاڑے ایک اور قتل نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ۲۴ سالہ سمیر خان کو تین افراد نے بیچ بازار میں گھیر کر چھریوں کے وار سے ہلاک کر دیا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ یہ سب کچھ عوام کی موجودگی میں ہوا، جب کہ قاتل اطمینان سے موقع سے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں پولیس نے چند ہی گھنٹوں میں مرکزی ملزم آصف رائیڈر اور اس کے تین ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش میں پتہ چلا کہ یہ واقعہ بھی گینگ دشمنی کا تسلسل تھا، جس کی جڑیں گزشتہ تصادمات سے جڑی ہوئی تھیں۔
اسی دوران گذشتہ روز پیٹھن گیٹ بازار کے تاجرعمران اکبر قریشی کا قتل پورے شہر کے لیے ایک اور صدمہ بن کر آیا۔ معمولی جھگڑے کے بعد دکان کے سامنے ہی اس پر دھار دار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ واقعے کے بعد بازار میں بھگدڑ مچ گئی، دکانداروں نے فوراً اپنی دکانیں بند کر دیں، اور پولیس کو ہنگامی نفری تعینات کرنی پڑی۔ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ اب قتل و غارت کے یہ واقعات صرف جرائم پیشہ طبقات تک محدود نہیں رہے بلکہ عام شہری بھی نشانہ بن رہے ہیں۔
ایک اور چونکا دینے والا معاملہ اُس وقت سامنے آیا جب ۴۵ دن کی شادی کے بعد ایک عورت نے اپنے ہی شوہر کا قتل کروایا۔ پولیس نے جب کیس کی گہرائی میں جا کر تفتیش کی تو انکشاف ہوا کہ عورت کے کسی قریبی رشتہ دار سے ناجائز تعلقات تھے، اور شوہر اس کی راہ میں رکاوٹ بن چکا تھا۔ جدید ٹیکنالوجی، موبائل کال ڈیٹا، اور خفیہ معلومات کی مدد سے پولیس نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا۔ اس کیس نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ جرم صرف سڑکوں پر نہیں، بلکہ گھروں کے اندر بھی جنم لے رہا ہے۔
اس کے علاوہ ایک علاقے میں ایک ۵۱ سالہ خاتون کا قتل بھی اسی دوران رپورٹ ہوا۔ خاتون صبح علاج کے لیے گھر سے نکلی تھیں، مگر اگلے دن ان کی لاش جنگل کے راستے پر ملی۔ پولیس نے شبہ کی بنیاد پر ایک شخص کو گرفتار کیا، جس نے بعد میں اعتراف کیا کہ قتل ذاتی رنجش پر کیا گیا تھا۔
یہ تمام واقعات مل کر ایک تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ ایک طرف گینگ وار کی پرانی دشمنیاں ہیں، دوسری جانب خاندانی تنازعات اور ذاتی انتقام کے واقعات۔ پولیس نے زیادہ تر کیسز میں فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا ہے، مگر ان گرفتاریوں کے باوجود عوام کا خوف کم نہیں ہوا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب بازاروں میں دن دہاڑے خون بہایا جا سکتا ہے، تو کوئی بھی محفوظ نہیں۔
شہر کی پولیس نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، رات کے وقت گشت میں اضافہ کیا گیا ہے، اور حساس علاقوں میں سی سی ٹی وی نگرانی بڑھانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ محض قانون نافذ کرنے سے حل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق یہ واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ معاشرے میں بے روزگاری، منشیات، اور انتقامی سوچ بڑھ رہی ہے۔ جب انصاف میں تاخیر ہوتی ہے، یا پولیس کارروائیوں پر عوام کا اعتماد کمزور پڑتا ہے، تو لوگ خود قانون اپنے ہاتھ میں لینا شروع کر دیتے ہیں۔
اورنگ آباد کے ان متواتر قتلوں نے نہ صرف شہر کے امن و امان کو متاثر کیا ہے بلکہ شہری زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ تاجر طبقہ خوفزدہ ہے، رات کے بعد سڑکیں سنسان ہو جاتی ہیں، اور لوگ اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں میں بھی عدم تحفظ محسوس کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت، انتظامیہ اور سماجی تنظیموں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری قدم اٹھائیں،تاکہ شہر ایک بار پھر اپنی پرامن شناخت واپس حاصل کر سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!