تعلیم و روزگار

ٹی ای ٹی امتحان ،پریکشا پریشد کا پُرسکون امتحان کا دعویٰ؛ مختلف اضلاع میں سامنے آئے معاملات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کاABUSS کا مطالبہ

پُونے: (نامہ نگار) :مہاراشٹر ٹیچر اہلیت امتحان (MAHATET 2025) مورخہ 23 نومبر کو ریاست بھر میں مجموعی طور پر پُرامن فضا میں منعقد ہوا۔ ریاست کے 37 ضلع ہیڈکوارٹرز پر 1423 امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے۔ پریکشا پریشد کی کمشنر انورادھا اوک کے مطابق پیپر 1 کے لیے 2,03,334 اور پیپر 2 کے لیے 2,72,335 امیدواروں نے رجسٹریشن کرایا تھا، جن میں سے 4,75,669 میں سے 4,46,730 امیدوار امتحان میں حاضر رہے۔تاہم امتحان کے پُرسکون انعقاد کے دعوے کے باوجود مختلف اضلاع سے چند سنگین بے ضابطگیوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ 11138 کے بانی ساجد نثار احمد نے کمشنر کو دیے گئے اپنے تحریری مطالبہ نامہ میں متعدد معاملات کی فوری اور غیرجانبدارانہ تحقیق کا مطالبہ کیا ہے۔ساجد نثار کے مطابق ،ناسک کے سی ڈی او میری امتحانی مرکز 3138 میں انگریزی میڈیم کے اساتذہ و طلباء کو غلطی سے مراٹھی میڈیم کا سوالیہ پرچہ فراہم کیا گیا، جس سے امیدواروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس معاملے کی تفتیش کے لیے الگ جانچ کمیٹی تشکیل دینے اور متاثرہ طلباء کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔کولہاپور TET پرچہ لیک معاملہ میں ملوث ٹولی کے خلاف سخت کارروائی اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ ریاستی سطح پر امتحانات کی شفافیت برقرار رہ سکے۔
گوندیہ میں بعض اساتذہ کو ٹی ای ٹی پاس کرانے کے لیے ہونے والی مبینہ فون کالز کی بھی تفصیلی تحقیقات ضروری قرار دی گئی ہے۔اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کا کہنا ہے کہ MAHATET جیسے حساس اور کیریئر طے کرنے والے امتحان میں کسی بھی طرح کی بے ضابطگی، بدعنوانی یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ ادارے نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ امیدواروں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی نہ ہو اور تمام معاملات میں شفاف تحقیقات کرتے ہوئے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!