سپریم کورٹ سے مانیک راؤ کوکاٹے کو بڑی راحت، ایم ایل اے کی رکنیت فی الحال محفوظ

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :مانیک راؤ کوکاٹے کو سپریم کورٹ سے بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے ان کی دو سالہ سزا پر عارضی روک (اسٹے) لگا دی ہے، جس کے نتیجے میں فی الحال ان کی ایم ایل اے کی رکنیت برقرار رہے گی اور انہیں نااہل قرار نہیں دیا جائے گا۔ مانیک راؤ کوکاٹے کو سیشن کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد ان کی اسمبلی کی رکنیت ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا، اسی پس منظر میں انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت کے دوران عدالت نے کوکاٹے کی درخواست قبول کرتے ہوئے ان کی سزا پر روک لگا دی اور اس معاملے میں مہاراشٹر حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ حتمی فیصلہ آنے تک سزا پر عمل درآمد نہیں ہوگا، جس سے کوکاتے کو فوری طور پر بڑا ریلیف ملا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ فی الحال ان کی سیاسی حیثیت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔
اس سے قبل بمبئی ہائی کورٹ نے کوکاٹے کی دو سال قید کی سزا کو معطل کیا تھا، تاہم ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے سزا پر مکمل اسٹے دینے سے انکار کر دیا تھا کہ ابتدائی طور پر دستیاب شواہد کوکاتے کے خلاف جاتے ہیں۔ اسی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے کوکاٹے نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔
یہ پورا معاملہ سال 1995 کا ہے۔ الزام ہے کہ ناسک کے پوش علاقے کینیڈا کارنر میں واقع پرائم اپارٹمنٹ نامی عمارت میں سرکاری ہاؤسنگ اسکیم کے تحت مخصوص کوٹے کے فلیٹس حاصل کرنے کے لیے قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس اسکیم کے تحت کل فلیٹس کا دس فیصد حصہ حکومت کے لیے محفوظ ہوتا ہے، جو غریب، ضرورت مند یا مخصوص زمروں کے افراد کو کم قیمت پر دیا جاتا ہے۔ الزام ہے کہ مانیک راؤ کوکاٹے اور ان کے بھائی نے انتظامیہ کو گمراہ کرتے ہوئے جعلی دستاویزات پیش کیں اور اسی کوٹے کے تحت کم قیمت پر چار فلیٹس اپنے نام منتقل کروا لیے۔
نچلی عدالتوں نے اسی معاملے میں کوکاتے کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے دو سال قید کی سزا سنائی تھی، جس کے بعد ان کی ایم ایل اے کی رکنیت ختم ہونے کا امکان پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم اب سپریم کورٹ کی جانب سے سزا پر عارضی روک لگائے جانے کے بعد کوکاتے کو بڑا قانونی اور سیاسی سہارا ملا ہے۔ فی الحال ان کی ایم ایل اے کی سیٹ محفوظ ہے اور کیس کا حتمی فیصلہ آنے تک وہ سیاسی طور پر سرگرم رہ سکتے ہیں۔



