اہم خبریں

مدھیہ پردیش: عدالت نے بھوج شالہ کو مندر مانا، مسلم فریق نے سپریم کورٹ جانے کا کیا اعلان؛2003 کا ASI آرڈرمنسوخ ؛ پڑھیں تفصیلی رپورٹ

اِندور: (کاوش جمیل نیوز) :مدھیہ پردیش کے ضلع دھارمیں واقع تاریخی بھوج شالہ معاملے پراندور ہائی کورٹ نے جمعہ 15 مئی کو اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے حکم میں بھوج شالہ کو مندر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندو فریق کو وہاں پوجا کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس معاملے پر 12 مئی کو سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا تھا، جو آج سنایا گیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ بھوج شالہ ایک محفوظ تاریخی ورثہ (محفوظ یادگار) ہے۔ عدالت کے مطابق دستیاب تاریخی شواہد، آثارِ قدیمہ محکمہ (ASI) کی رپورٹ اور آئینی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ مقام پرمار خاندان کے راجہ بھوج کے دور میں سنسکرت تعلیم کا مرکز اور دیوی سرسوتی کا مندر تھا۔
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ:
بھوج شالہ ایک مندر ہے
ہندوؤں کو وہاں عبادت اور پوجا کا حق حاصل ہے
اے ایس آئی اس مقام کے تحفظ کا کام جاری رکھے
حکومت اور اے ایس آئی وہاں سنسکرت تعلیم کے انتظام پر بھی غور کریں
واگ دیوی کی مورتی کو بیرونِ ملک سے واپس لا کر مندر میں نصب کرنے کے معاملے پر مرکزی حکومت غور کرے
مسلم فریق مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کی درخواست حکومت کو دے سکتا ہے
مسجد ایسی جگہ تعمیر کی جائے جہاں دونوں فریقوں کے درمیان تنازع پیدا نہ ہو
عدالت نے سال 2003 کے اُس اے ایس آئی حکم کو بھی منسوخ کر دیا، جس کے تحت مسلم فریق کو وہاں نماز ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
فیصلے کے بعد شہر قاضی وقار صادق نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ مسلم فریق عدالت کے مکمل فیصلے کا مطالعہ کرے گا اور قانونی پہلوؤں کو سمجھنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!