بالاپورمیں مردم شماری 2027 کی تیاریوں پر سوالیہ نشان، 73 میں سے صرف 16 کٹس موصول ہونے سے تشویش میں اضافہ؛ شدید گرمی کے دوران وسائل کے بغیر کام کرنے پر مجبور ملازمین، نگر پریشد انتظامیہ کی کارکردگی پر اٹھنے لگے سوالات

بالاپور: (بذریعہ ذاکراحمد) :ملک بھر میں بھارت کی مردم شماری 2027 کا عمل شروع ہو چکا ہے، تاہم بالاپور شہر میں اس اہم قومی مہم کی تیاریاں ابھی ادھوری دکھائی دے رہی ہیں۔ نگر پریشد حدود میں تعینات پرگنکوں اور سپروائزروں کو اب تک ضروری سامان فراہم نہ کیے جانے پر ملازمین میں ناراضگی اور تشویش کا ماحول پایا جا رہا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق بالاپور شہر میں مردم شماری کے کام کے لیے مجموعی طور پر 73 پرگنک اور 12 سپروائزر مقرر کیے گئے ہیں۔ ضابطے کے مطابق تمام ملازمین کو بروقت مردم شماری کٹس فراہم کی جانی تھیں تاکہ کام منظم انداز میں شروع کیا جا سکے، لیکن بتایا جا رہا ہے کہ 16 مئی 2026 تک تمام 73 کٹس نگر پریشد دفتر کو موصول ہو جانی چاہیے تھیں، جبکہ 20 مئی تک صرف 16 کٹس ہی دستیاب ہو سکی ہیں۔
اس صورتحال کے باعث 57 پرگنک اب بھی ضروری وسائل سے محروم ہیں۔ متعلقہ ملازمین کا کہنا ہے کہ بغیر کٹ کے مردم شماری کا کام مؤثر انداز میں انجام دینا ممکن نہیں۔ دوسری جانب شہر میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے اور درجۂ حرارت تقریباً 46 ڈگری سیلسیس تک پہنچ چکا ہے، ایسے سخت موسم میں مناسب سہولیات اور ضروری سامان کی عدم فراہمی باعثِ تشویش بن گئی ہے۔
مقامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب مردم شماری جیسا اہم قومی عمل شروع ہو چکا ہے تو بنیادی انتظامات میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ ملازمین اور شہریوں نے متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ باقی ماندہ 57 کٹس فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ مردم شماری کے کام میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مردم شماری سے وابستہ عملے کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ کو زمینی سطح کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ضروری وسائل کی فراہمی میں تیزی لانی چاہیے، بصورت دیگر اس کا براہِ راست اثر مردم شماری کے عمل پر پڑ سکتا ہے۔ ادھر نگر پریشد کے متعلقہ شعبے کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی سنجیدگی سے جانچ کی جائے اور ذمہ دار افسران و ملازمین سے وضاحت طلب کی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔




