اہم خبریں

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سیکریٹری ظفریاب جیلانی کا ہوا انتقال ؛ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے بھی تھے چیئرمین

لکھنؤ: (کاوش جمیل نیوز) : لکھنؤ کے سینئر وکیل اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) کے سیکریٹری ظفریاب جیلانی کا بدھ کی صبح انتقال ہوگیا۔ ذرائع کی مانیں تو ان کا انتقال لکھنؤ میں ہوا، ظفریاب جیلانی سر کی چوٹ کی وجہ سے طویل عرصے سے کئی مسائل سے لڑ رہے تھے۔ سینئر ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے بابری مسجد کیس میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا رخ پیش کیا تھا۔ انہوں نے اس معاملے میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں وکالت کی تھی۔ تاہم اس سے قبل وہ اتر پردیش کے ایڈیشنل اے ڈی جی بھی رہ چکے ہیں۔
ذرائع کی مانیں تو مئی 2021 میں ایڈووکیٹ ظفریاب جیلانی کے سر میں چوٹ آئی تھی۔ سر میں شدید چوٹ لگنے کے بعد وہ میدانتا اسپتال میں زیر علاج تھے۔ تاہم اس وقت ان کی حالت تشویشناک بتائی گئی تھی جس کے بعد انہیں آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔
تاہم ڈاکٹروں کے مطابق سر پر چوٹ لگنے کے بعد ان کے دماغ میں خون کا لوتھڑا جمع ہو گیا تھا اور انہیں برین ہیمرج بھی ہوا تھا۔ تاہم کامیاب سرجری کے بعد ان کے خون کے لوتھڑے کو ہٹایا جاچکا تھا۔ جس کے بعد وہ کچھ دنوں کے لیے تندرست ہو گئے۔ ظفریاب جیلانی 90 کی دہائی سے مسلسل سرخیوں میں ہیں۔
انہوں نے سپریم کورٹ میں ایودھیا معاملے میں مسلم فریق کو پیش کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ظفریاب جیلانی کو بابری مسجد ایکشن کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا۔ لیکن گزشتہ دو سال سے بیمار رہنے کے بعد بدھ کو لکھنؤ میں ان کا انتقال ہوگیا۔
ظفریاب جیلانی نے بدھ کو لکھنؤ کے نشاط گنج کے اسپتال میں آخری سانس لی۔ مسلم مذہبی رہنماؤں نے ان کی موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

kawishejameel

chief editor

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے !!