مہاراشٹر

بارسی ٹاکلی کےبابا صاحب دھابیکر ودھیالیہ میں مدرس عبدالصبور خان سرکی سبکدوشی پرالوداعی واعزازی تقریب کا انعقاد

اکولہ: (ڈاکٹر ذاکر نعمانی) : اکولہ ضلع کے بارسی ٹاکلی شہر کے قدیم تعلیمی ادارے بابا صاحب دھابیکر ودھیالیہ میں بتاریخ ٣٠ نومبر کو اسکول کے مدرس عبدالصبور خان سر کو ان کی سبکدوشی پر الوداعی و اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیاجس کی صدارت اسکول کے پرنسپل گجیندر کاڑے سر نے فرمائی جبکہ مہمان خصوصی خصوصی کے طور پر سپر وائزر توقیر اللہ خان سر ڈائز پر جلوہ افروز رہے ابتداء میں اعزازی شخصیت عبدالصبور خان سر کا شال اور گلدستے سے اعزاز کیا گیا اور تحائف پیش کیے گئے بعد ازاں سید شکیل سر، سید اسد علی سر، گَولی بابو، صاحب راؤ شندے سر، قاضی عارف الدین سر، رکشا کڑو میڈم اور سونالی پاٹل میڈم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صبور سر ایک فعال شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ پابندِ نظم و ضبط اور انتظامی امور میں قابلیت کا نمونہ رہے اور 28 برسوں تک تعلیمی خدمات بخوبی انجام دیکر ملازمت سے سبکدوش ہوئے. عبدالصبور خان سر اسکول انتظامیہ میں نائب صدر مدرس کے عہدے تک پہنچے. عبدالصبور خان سر ہائی اسکول پر اردو، جغرافیہ اور سماجی علوم کے مضامین پڑھانے کے ساتھ ساتھ ثقافتی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے.
صبور سر نے اپنے جوابی تاثرات پیش کر تے ہوئے کہا کہ انھیں سپر وائزر اور نائب صدر مدرس کی ذمہ داریاں مکمل کرنے میں شری گجیندر کاڑے سر اور اردو و مراٹھی اسٹاف کا بھرپور تعاون ملا. اخیر میں صدارتی تقریر میں گجیندر کاڑے سر نےاظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج اسکول کی بیش بہا ترقی میں صبور سر کی خدمات قابلِ اعتراف اور لائقِ ستائش ہیں. تقریب کی نظامت سنیل کڑو سر بحسن و خوبی انجام دی اور اظہارِ تشکر سپر وائزر توقیر اللہ خان سر پیش کیا۔بتا دیں کہ بابا صاحب دھابیکر ودھیالیہ پچھلے 65 برسوں سے شہر بارسی ٹاکلی میں طلباء کی معیاری تعلیم میں فعال ہے. جنتا شکشن ہرسارک منڈل، بارسی ٹاکلی کمیٹی کے تحت یہ اسکول شروع دن سے ہنوز اردو اور مراٹھی میڈیم کی تعلیم کا انتظام کر رہا ہے. جس سے قومی یگانگت اور قومی یکجہتی کی عملی مثال یہ ادارہ بن گیا ہے.پروگرام میں اردو اور مراٹھی میڈیم کے اساتذہ موجود رہے.

kawishejameel

chief editor

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے !!

Discover more from

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading