خواتین و اطفال

عورت کیا ہے !!!

احساس نایاب

اس سوال کا جواب ہر کسی نے اپنے اپنے نظریہ کے مطابق پیش دیاہے. کسی نے عورت کو بے وفا کہا تو کسی نے سراپائے حسن سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھا، تو کسی نے عورت کو کبھی نہ سلجھنے والی پہیلی کا نام دے دیا،لیکن ہماری نظر میں تو عورت کے معنی ایک نایاب احساس کے ہیں جو دنیاوی مطلب سے پاک ہے، وفا ہے، محبت ہے، دعا ہےاور قربانی کا دوسرا نام ہے، جو خود کو بھلا کر اپنوں کے خاطر جیتی ہے، جسکے لیے اپنی خواہشات اور اپنی خوشیوں سے بڑھ کر اپنوں کی خوشیاں اہمیت رکھتی ہیں، جو اپنے وجود سے بڑھ کر اوروں کی پرواہ کرتی ہے۔
ویسے تو دنیا میں عورت کی پہچان کئی رشتوں، کئی ناموں سے کی جاتی ہے،ماں،بیوی، بیٹی، بہن،اور ایک باوفا دوست لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لوگ دوستی والے رشتے کو قبول نہیں کرتے جبکہ نفسانی خواہشات سے پرے کچھ ایسے بےنام سے پاکیزہ رشتے ہوتے ہیں جو اپنے آپ میں قابل احترام ہیں خیر!
اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ نے جب عورت کو پیدا کیا تو کائنات میں عورت کا سب سے پہلا رشتہ بیوی کا بنا،ماں حوا آدم علیہ السلام کی شریکِ حیات بن کر دنیا میں آئیں تو بےرنگ ویران دنیا میں ہرسو خوشیوں کے رنگ بکھر گئے، بےجان وادی مشک کی خوشبو سے مہکنے لگی، ماں حوا کے ساتھ سے باپ آدم علیہ السلام کی سونی دنیا آباد ہوگئی، کیونکہ عورت وہ ہے جو بیوی کے روپ میں شوہر کے ایمان کی تکمیل کی علامت ہے، سکونِ قلب، پیکر وفا، سکھ دکھ کی ساتھی ہے، اگر دل سے چاہو تو محبوبہ بھی ہے کیونکہ جب ایک عورت اپنی رضامندی سے مرد کے نکاح میں آجاتی ہے پھر ہنسی خوشی ازدواجی زندگی کا آغاز کرتی ہے تو وہ اپنے خاوند کے لیے اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے ملا نایاب تحفہ کی طرح ہے جس کو پلکوں پہ سجائے رکھنا ہر شوہر کی ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ رشتہ خون کے رشتوں سے نہیں بلکہ روحانی رشتہ سے جڑا ہوتا ہے۔
عورت وہ ہے جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر اپنوں کی خوشی کے لیے نئے ماحول میں ایک اجنبی کو اپناسب کچھ مان کر بنا کسی شکایت کے ہنستے مسکراتے اپنی ساری زندگی اُس کے نام کردیتی ہے. عورت تو وہ ہے جس کے نہ ہونے سے جنت بھی بے رنگ ہے۔
اسی عورت کا دوسرا رشتہ ماں کا ہے. ماں مطلب زندگی، ماں مطلب ممتا، ماں مطلب قربانیاں اور جب عورت بیوی سے ماں بن جاتی ہے تو ماں کے روپ میں صبر اور قربانیوں کی جیتی جاگتی مثال ہے. جو اپنی زندگی سے لڑ کر ایک نئی زندگی کو جنم دیتی ہے. دنیا کے گردوغبار سے بچاکر پیار، محبت اور اپنی ذات سے کئی قسم کی قربانیاں دے کر اس ننھی سی جان کو پروان چڑھاتی ہے، صحیح غلط کی پہچان کرواتی ہے، جینے کے آداب سکھاتی ہے، ایک مکمل انسان بناتی ہے، شاید اسی لیے خدا نے ایک عورت کو ماں کے روپ میں اتنے بلند درجے سے نوازا ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت کو ہی رکھ دیا ہے اور دنیا میں خدا کو دیکھ پانا ناممکن ہے شاید اسی لیے خدا نے ماں جیسی ہستی بنائی جس کو خدا کا دوسرا روپ کہنا غلط نہ ہوگا اور اگر بچے کی قسمت لکھنا ماں کے بس میں ہوتا تو شاید وہ اپنے بچے کے قدموں میں دوجہانوں کی خوشیاں انڈیل دیتی ۔
یہی عورت جب بیٹی ہوتی ہے تو ماں باپ کے لیے بخشش کا ذریعہ بنتی ہے، کیونکہ بیٹیاں ربِ کائنات کی طرف سے رحمت ہیں جس گھر میں بیٹیاں ہوتی ہیں اُس گھر پہ اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوتا ہے، وہ گھر رحمتوں اور خوشیوں سے مالا مال ہوتا ہے. بیٹیاں ماں باپ کی ہمدرد ہوتی ہیں، شان اُن کا غرور ہوتی ہیں، بیٹیوں سے ہی گھروں میں رونق ہوتی ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کسی کے گھر بیٹی ہوتی ہے تو اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے لڑکی تو زمین پہ اُتر میں تیرے باپ کی مدد کرونگا سبحان اللّٰہ! یہی عورت بہن کے روپ میں دعا کی طرح ہے، جو ہر حال میں اپنے بھائی بہنوں کے لیے خیر چاہتی ہے، ہر مشکل وقت میں ڈھال کی طرح ہے جو وقت آنے پر ساری دنیا سے لڑجاتی ہے، دوست بن کر ہمدرد و ہمراز بھی ہے، یہی وجوہات ہیں جس سے عورت احساسات کا مکمل پیکر ہے. اکثر لوگ کہتے ہیں عورت کو سمجھنا ناممکن ہے…….. بیشک ناممکن ہے کیونکہ عورت مجسمِ احساس ہے اور ہر احساس کو سمجھنے کے لیے احساس کا ہونا ضروری ہے جو ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا. عورت کے احساس تو اندردھنوش کے رنگوں کی طرح خوبصورت ہوتے ہیں، عورت اوس کے بوندوں کی طرح چنچل اور پاکیزہ ہوتی ہے جو بیچاری دنیا کی گردوغبار میں گمُ ہوکر اپنی پہچان کھونے لگتی ہے. عورت پھولوں کی خوشبو جیسی بھی ہے جس کے دلکش رنگوں اور خوشبو سے کائنات مہک رہی ہے، عورت چاند کی چاندنی ہے جو چاند کو روشن کر خود گمنام ہے، عورت پانی کے بلبلے جیسی نرم ونازک بھی ہے جو ایک تلخ لہجہ سے ٹوٹ جاتی ہے تو وہیں رضیہ سلطانہ جیسی دلیر بھی ہے. عورت کو دل سے سمجھنا چاہو تو آسان کھلی کتاب ہے ورنہ ان سلجھی پہیلی اور سمندر سے بھی گہری ہے جس کا اندازہ آج تک کوئی نہیں لگاسکا ۔

kawishejameel

chief editor

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے !!