مہاراشٹر

فلسطین کی حمایت میں اوراسرائیل کے خلاف اورنگ آباد میں شدید احتجاج ؛ فلسطینیوں کے تحفظ کے لئے اجتماعی دعا کا اہتمام ؛ ہزاروں لوگوں کی شرکت

اورنگ آباد: (کاوش جمیل نیوز) :الاقصیٰ اور اس کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور اس پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ ہے۔ گزشتہ 75 سالوں سے فلسطینی شہری اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں اب تک پانچ لاکھ افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سات ہزار سے زائد بچے، خواتین اور بے گناہ لوگ شہید ہو چکے ہیں۔ ساٹھ ملین لوگوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لی ہے اور پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان لوگوں کے گھرغزہ کی پٹی تک محدود ہیں لیکن اس جنگ میں فنا ہو چکے ہیں۔ کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کہ لوگ بغیر خوراک اور پینے کے پانی کے کھلے میں زندگی گزار رہے ہیں، دنیا کے تمام ممالک کو فلسطین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ اسرائیل نے دہشت گردانہ حملے کی طرح حملہ کیا اور ہسپتال پر راکٹ بم پھینک کر 500 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس کے دس ہزار شہریوں کو ہمارے ہی ملک میں قیدی بنایا گیا۔
ایک دن امن ہو گا اور مسجد اقصیٰ فلسطین کے ہاتھ میں ہو گی۔ اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے مولانا الیاس فلاحی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ایک دن اسرائیل دنیا سے نیست و نابود ہوگا ان کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اسرائیل نسلی امتیاز کی بنیاد پر غزہ کی پٹی کے فلسطینی شہریوں پر حملے کر رہا ہے اور اس غیر انسانی جنگ میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ اپنے ہی ملک میں اجنبی بن چکے ہیں اور دوسرے ممالک میں ہجرت کر چکے ہیں۔ جس پر اسٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن نے احتجاج کیا۔ عام خاص میدان پر مسلم مذہبی رہنماؤں، علما اور دانشوروں نے اسرائیل کو دنیا کا سب سے دہشت گرد ملک قرار دیا اور مقررین نے کہا کہ یہ جنگ انسانیت کی بقاء کی ہے۔ بچوں اور عورتوں کو جنگ میں بھرتی کیا جا رہا ہے۔ حقیقی معلومات کو دنیا سے چھپایا جا رہا ہے۔ 1993 میں جب اوسلو معاہدے پر دستخط ہوئے تو غزہ کی پٹی میں امن کی امید تھی لیکن یہودی بالادستی کے لیے خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ اس موقع پر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی فلسطینی عوام کی حمایت میں تقریر سنی گئی۔ فلسطینی شہری سات دہائیوں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور اقوام متحدہ یہ کیسے نہیں دیکھ سکتی؟ آج بھی ساٹھ لاکھ لوگ مہاجر بن چکے ہیں۔ یہ جنگ بند ہونی چاہیے۔ ایس آئی او (طلبہ اسلامی تنظیم) کی جانب سے آج دوپہر دو بجے اورنگ آباد شہر کے تاریخی عام خاص میدان میں امن قائم کرنے کے لیے جہاں معصوم جانیں ضائع نہ ہوں ایک خصوصی ربط کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام کو مختلف سماجی اور سیاسی تنظیموں نے تعاون کیا۔
فلسطینی بچے جنگ میں کیسے شہید ہورہے ہیں؟ اس موقع پر طلباء کی جانب سے یہ منظر پیش کیا گیا کہ شہری کس طرح علاج کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس موقع پر مظاہرین نے فلسطین بچاؤ اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ مطالبہ کیا گیا کہ ہندوستانی حکومت فلسطین کی مدد کے لیے آگے آئے اور اسرائیل پر زمین واپس کرنے کے لیے دباؤ بڑھائے۔ اس جلسہ عام میں ہندوستان اور فلسطین کا جھنڈا اٹھا ئے ہوئے تھے،اور ٹی شرٹس پہن کر جنگ اور ناانصافی کے خلاف آواز اُٹھائی۔ سرپرسیاہ پٹی باندھ کر جنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ اس وقت بچوں اور خواتین کی تعداد بھی خاصی تھی۔ مختلف پارٹی تنظیموں کے رہنما اور عہدیداران بھی موجود تھے۔
اس موقع پر ایم پی امتیاز جلیل، سابق میئر رشید ماموں، افسر خان، محمد ہشام عثمانی، جاوید قریشی، ڈاکٹر غفار قادری، قدیر مولانا، الیاس کرمانی، شیخ یوسف، محسن احمد، شعیب خسرو، شارق نقشبندی، ناصر صدیقی، جمیل احمد قادری، عارف علوی، حسینی، فیروز خان، حماد چائوس، ایس ائی او کے شہر صدر تنویر، مشتاق احمد اورعہدیداران موجود تھے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے !!
%d bloggers like this: