مہاراشٹر

“مسلمانوں کو دیوارسے نہیں لگایا جاسکتا” ضیاء الدین صدّیقی (امیر وحدت اسلامی ہند)…کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا کے عنوان سے وحدتِ اسلامی اکولہ نے کیا اہم خطابِ عام کا انعقاد

اکوله : (ڈاکٹر ذاکر نعمانی) :وحدت اسلامی ہند یونٹ اکولہ کی جانب سے مسجدِ مومن پورہ اکولہ میں بتاریخ ۲۴ فروری ۲۰۲۴ کو بعد نماز عشاء عظیم الشان خطاب عام کاانعقاد کیا گیا اس پروگرام میں مولانا مشتاق فلاحی صاحب، مولوی مظفرعلی صاحب مظاہری، مولانا طاہر مظاہری صاحب اور مولانا عبدالعلیم فلاحی صاحب بطور مہمانِ خصوصی موجودتھے۔ جس کا آغاز حافظ و قاری افروز امانی صاحب کی تلاوت قرآن سے کیا گیا۔ اس کے بعد سید صادق فضل صاحب اکوٹ نے ترانه پڑھا۔ خطاب عام کے خصوصی مقرر محترم جناب ضیاءالدّین صدّیقی صاحب(امیر وحدت اسلامی ہند) نے عوام سے خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اور زعفرانی ٹولہ مسلمانان ہند کو مُختلف حیلے بہانے سے زد و کوب کر رہے ہیں۔ مُسلم نوجوانوں کو جیلوں میں ٹھوسا جارہاہے، مذہبی شناخت کو ٹھیس پہنچائی جارہی ہے اور مُختلف طریقوں سےمسلمانانِ ہندکو ہراساں کیاجا رہاہے۔ اگر کوئی مسلمان ناانصافی کے خِلاف آواز اٹھاتا ہے آگے آتا ہے اُسکے گھر کو بلڈوزر کے ذریعے مسمار کر دیا جاتاہے۔ظُلم دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو حاشیے پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ لیکن باطل طاقتوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ *”مسلمانوں کو دیوار سے نہیں لگایا جاسکتا”*
آگے آپ نے فرمایا کہ جو غور وفکر کرتا ہے وہی صحیح فیصلے کرنےکا اہل ہوتاہے۔ موجودہ حالات پر بات کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ اگر آپ مومن ہے تو آپکو ضرور آزمایا جائے گا۔ کسی کی ہلکی آزمائش ہوگی، اور کسی کی سخت اور کڑی آزمائش ہو گی۔کیوں کہ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم میں کھرے کون ہے اور کھوٹے کون ہیں؟ اور یہ سب تاریخ سے ثابت ہے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ صدقہ دے کر جان بچائی جاتی ہے، لیکن جان دے کر ہمہیں ایمان بچانا ہے۔ فلسطین کے غیور مسلمانی کی ایمان پر ثابت قدمی کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور آپ نے فرمایا کہ یاد رکھئے تاریخ ہمیشہ سچائی کا ساتھ دینے والوں کو یاد رکھتی ہے۔ظالم کو کوئی یاد نہیں رکھتا اور رکھتا بھی ہے تو لعنت زدہ تاریخ کے ساتھ یاد رکھتا ہے۔ آج حالات کیسے بھی ہو امت کو ایمان کے ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے۔ ہمارے تمام اختلاف کو دور رکھ کر ایک امت بننا ہے۔ ہماری مسجدوں میں اس بات کا اظہار ہو کہ ہم ایک امت ہیں۔ آج ایمان پر قائم رہنے کے لیے ہمیں ہتھیلی پر انگارے لینا ہو گا تب ہی ہم حالات کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔آخر میں مولوی مظفر علی صاحب مظاہری کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔شہر اکولہ و اطراف سے کثیر تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ خواتین کے لئے پردے کا نظم کیا گیا تھا۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں وحدت اسلامی اکولہ یونٹ کے تمام ارکان نے محنت کی۔

AKOLA DISTRIBUTOR JAMSHAM HAIR OIL ADD

kawishejameel

chief editor

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے !!