خواتین و اطفال

پردہ کا بدلتا منظر،اور آج کے حالات

حنا خان
آکولہ، مہاراشٹر

مذہب اسلام نےجو عزت و شرف عورت(صنف نازک) کو بخشا ہے، بے شک اس کی مثال دو سرے مذاہب میں ملنے سے قاصر ہے۔ بعثت اسلام سے قبل عورتوں کے ساتھ نہایت سوتیلا سلوک کیا جاتا تھا۔ اسے پیدا ہو تے ہی زندہ درگو کردیا جاتا تھا، اس پر بے جا ظلم کیا جاتا تھا، معاشرہ میں عورت کی حیثیت محض ایک خاک کے پتلہ کی سی تھی۔
جب اسلام کی روشنی ہر سو پھیلی تو اس نے عورتوں کے متعلق پاکیزہ تعلیمات پیش کی۔ اس کے حقوق کا خیال رکھا، اسے مردوں کے برابر کا درجہدیا۔ جب وہ بچی تھی تو اس کے والدین پر اس کی کفالت کی ذمہ داری ڈال دی،اور اس کی اچھی پرورش, تعلیم وتربیت کرنے پر اس کے والد کو جنت کی بشارت دی شادی کے بعد اس کے نان و نفقہ کی ذ مہ داری اس کے شوہر کے سپرد کی، اور جب وہ ماں بنی تو اسے نہایت اہم مقام عطا کر دیا۔جنت کو اس کے قدموں میں ڈال دیا، غرض ہر طرح سے اسلام نے عورت کو تقدس کا تاج پہنایا ہے۔
اگر عبادات کی بات کی جائے تو عبادات میں بھی اللہ کا قرب حاصل کر نے کی جو شرطیں مردوں کے لیے ہے وہی عورتوں کے لیے بھی ہے۔ روزہ، نماز وغیرہ جس طرح اور جتنی مردوں پر فرض ہیں،اتنی ہی عورتوں پر بھی ہیں۔ جہاں کہیں اللہ تعالی نے عورتوں کو رعایت دی وہ ان کی اپنی ذاتی فطرت کے مطابق دی اور جہاں کہیں انھیں کسی چیز سے روکا یا کسی چیز کا پابند بنایا تو وہ ان کے مفاد کو مد نظر رکھ کر بنایا۔اب “پردہ” کوہی لے لیجیے۔
عورتیں حسن و حیا کا مرکز ہوتی ہیں، اس کے اندر کشش کی صلاحیت ہوتی ہے۔ عورت کا حسن حفاظت میں رہے اس پر کسی غیر محرم کی ہوس بھری نظر نہ پڑے اس لیے اللہ نے اسے پردہ کا حکم دے کر اس کے حسن، شرم و حیا کی حفاظت فرمائی ہے۔ پردہ کرنے سے عورت کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جب وہ پردہ میں ہوتی ہے تو ہر قسم کی غلیظ نظروں سے محفوظ ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے عورتوں کو پردہ کا حکم دے کر یقیناً اس پر بہت بڑااحسان کیا ہے۔
جب اللہ نے قرآن مجید میں پردہ کا حکم دیا تو فرمایا۔
“اے نبی!! مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں، یہ ان کے لیے پاکیزگی کا طریقہ ہے اور مومن عورتوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں”۔ (النور 30۔31)
“اے نبی! اپنی بیویوں اور مسلمانعورتوں سے کہدو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے گھونگھٹ ڈال لیا کریں۔” (سورہ احزاب)
مندرجہ بالا آیات کے ترجمہ و مفہوم سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے مردوں و عورتوں کو سب سے پہلے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا، کیوں کہ زنا کی شروعات نگاہوں سے ہو تی ہے۔
سورہ احزاب میں اللہ نے عورتوں کو حکم دیا کہ وہ چادروں کے گھونگھٹ ڈال کر اپنے حسن زیب و زینت کی حفاظت کریں۔ یعنی اپنے چہرہ اور جسم کو اس طرح ڈ ھانکے کہ اس کا حسن اور زینت ظاہر نہ ہو۔ جسے”پردہ” کرنا کہتے ہیں۔ پردہ(نقاب) مطلب مخفی کرنا، چھپانا۔
عورت کا پردہ کرنا یعنی اس کے حسن اس کی زینت کا چھپنا۔ یہی پردہ کا مقصد ہے۔ لیکن اگر موجودہ وقت کے نقابوں پر نظر ڈالی جائے تو کئی سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ جیسے کیا واقعی آج کا نقاب پردہ کا کام کررہا ہے؟؟ کیا موجودہ وقت کا نقاب عورت کے حسن اس کی زینت کو چھپانے میں کامیاب ہے؟
کیا آج عورت نقاب پہن کر ہوس بھری نگاہوں سے خود کو محفوظ رکھ پا رہی ہے؟؟ یقیناً یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات ڈھونڈے جائے تو پشیمانی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا کیونکہ اس کا جواب صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ یہ ہیکہ” مقصد نقاب فوت ہو گیا ہے”۔ نقاب میں عورتیں بے نقاب ہو گئی ہیں۔
جس طرح کے چست و بھڑکیلے نقابوں کا آج خواتین استعمال کررہی ہیں اس سے ان کے جسم کے اعضاء مکمل طور سے نمایاں ہو رہے ہیں- اور اس نقاب کے نقش و نگار لوگوں کو اپنی طرف مائل کررہے ہیں۔
ایسا لگتا ہے جیسے نقاب کا استعمال جسم چھپانے کے لیے نہیں بلکہ اس کی نمائش کے لیے ہو رہا ہے۔ سونے پہ سہاگہ والی بات تو یہ ہے کہ چست و بھڑکیلے نقاب پر دوپٹہ بھی چھوٹا و جالی نما جو محض ایک شو پیس بن کر رہ گیا ہے۔ فیشن پرستی ومغربی کلچر میں عورتیں (خاص طور سے نئی نسل کی لڑکیاں) اس قدر ملوث ہو گئ ہیں کہ انھیں اپنی شرم و حیا کی بھی پرواہ نہیں۔ اب وہ نقاب کا استعمال اس لیے نہیں کرتی کہ اللہ نے انھیں پردہ کا حکم دیا ہے بلکہ اس لیے کر تی ہیں کہ نقاب اب فیشن بن گیا ہے۔ اور فیشن کے اس دوڑ میں انھیں آگے بڑھنا ہے پھر چا ہے اس دوڑ میں شرم و حیا ہی کیوں نہ پیچھے چھوٹ جائے!
غرض یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج کے نقاب نے نقاب کے معنی ہی بدل ڈالے۔ ہر خواتین کو چاہئیے کہ وہ نقاب کو پردہ ہی سمجھ کر استعمال کریں۔ اسے فیشن کے طرز پر نہیں بلکہ احکام خدا کے طرز پر اختیار کریں اللہ تعالی نے جو احکامات بندوں کو دیے ہیں، ان احکامات کو ماننا اس پر عمل کرنا، یہی ایمان کا تقاضہ ہے۔ لہذا خواتین پردہ کے حکم کو ایمان کا تقاضہ سمجھیں اللہ تعالی نے عورتوں کو پردہ کا جو حکم دیا ہے وہ اس کے حق میں بہت بہتر ہے، اس لیے اس حکم کو تسلیم کر اپنے حسن و حیا کی حفاظت کرے نہ کے نقاب میں بے نقاب ہو کر اپنے حسن و ایمان کو پارہ پارہ کریں۔

kawishejameel

chief editor

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے !!