خواتین و اطفال

پردے کی اڑمیں ماسک کا استعمال فیشن ہے یا پردہ؟ مسلم لڑکیوں نے برقعے کو فیشن بنا دیا

حجاب عورت کی ڈھال اور معاشرے کی پاکیزگی کا ضامن

از قلم:
فرح ناز بنت عبدالرب فاروقی ناندیڑ
Msc(Soft,Eng)

گزشتہ چند سال قبل کرونا کی بیماری میں ہمیں ماسک کے استعمال کا خصوصی تاکید کی جا رہی تھی تاکہ اس مرض سے محفوظ رہا جا سکے دراصل کرونا کی بیماری اللہ تعالی کی سخت ناراضگی اور اس کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہم انسانوں پر رونما ہوئی تھی۔ بے حیائی قتل و غارت گیری، بے پردگی اور دیگر غیر ضروری گناہ اس قدر پھیل چکے تھے کہ اللہ تعالی کا عذاب ہم پر رونما ہوا۔ کرونا کی بیماری سے ہمیں یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ کس طرح عالم دو جہاں ہم سے ناراض ہوا تھا کس طرح ہماری زندگیاں مشکل میں پھنس گئی تھی، ہم نے خود کو ذرہ برابر بھی سدھارنے کی کوشش ہی نہیں کی دراصل یہ گزشتہ سال کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کرونا کے دوران ہمیں ماسک کا استعمال کرنے کا تاکید کی گئی تھی وہ ماسک آج لڑکیوں کے لیے فیشن بنتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ہم نے گزشتہ سال کی پریشانیوں سے یہ نہیں سیکھا کہ نافرمانی سے بے حیائی سے بے پردگی سے ہمارے اوپر کتنا بڑا عذاب نازل ہوا تھا بلکہ ہم نے تو اس مصیبت زدہ دور میں بھی استعمال ہونے والے ماسکوں کو اج برقے کے ساتھ نقاب کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے۔ ماسک کا نقاب کے طور پر استعمال کرنے سے چہرہ تو چھپ رہا ہے لیکن چہرے کا شیپ کس طرح ہے وہ صاف نظر آرہا ہے لڑکیوں نے خاص کر اسکول اور کالج جانے والی طلبہ جو برقعے کو مذاق بنا رکھا ہے سمجھ نہیں آرہا ماسک کو نقاب کے طور پر کیوں استعمال کیا جا رہا ہے؟ جبکہ چہرہ چھپانے کے لیے بازار میں نقاب دستیاب ہے۔ دراصل مسلم لڑکیوں نے برقعے کو فیشن بنا دیا ہے، جس کا جو دل کرتا ہے وہ کرتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ گھر میں دین اسلام کی تعلیم نہ ہونا ہے۔
برقعے کا استعمال لڑکیوں کو دوسرے مذہب کی لڑکیوں سے علیحدہ کرتا ہے برقعے اور نقاب میں کھڑی لڑکی کو پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کہ وہ کس مذہب سے تعلق رکھتی ہے کیونکہ اس کابرقعہ اور مکمل چھپا ہوا جسم اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ مسلم مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکی ہے۔ برقعے پردے میں غیر ضروری چیزوں کو لا کر اس کی توہین کی جا رہی ہے کیونکہ برخے کو اتنا فیشن بنا دیا گیا ہے کہ رنگ برنگے برقعے رنگ رنگ کے ماسک کا استعمال اور چھوٹے سے دوپٹے آخر ایسا کیوں؟ کیا دین اسلام ہمیں اس ایسا پردہ کرنے کی تعلیم دیتا ہے؟برقعہ ایسا ہو کہ دیکھنے والا آپ کی طرف متوجہ نہ ہو اور افسوس ایسے رنگ رنگ کے برقعے پہن کر ہماری مائیں بہنیں بازاروں میں گھومتی ہے کہ نہیں دیکھنے والا بھی ان کی طرف نظر ڈالنے پر مجبور ہو جاتا ہے، اور ایسا نہیں ہے کہ ماسک میں چہرہ نہیں چھپ رہا ہے یا بے پردگی ہو رہی ہے اس سے بھی چہرہ چھپ رہا ہے اور پردہ بھی ہو رہا ہے لیکن اس کا استعمال کرنا کیوں ہے جبکہ آپ نقاب لگا سکتی۔
عورت کو پردے کا حکم دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ چست و برقعے پہننے کی بھی ممانعت ہے۔ میرے حساب سے ہم نقاب کی جگہ ماسک لگا لیتے ہیں تو یہ چہرہ پر فٹ ہو جاتا ہے اور چہرے کا شیپ صاف نظر آتا ہے لہذا اس کا استعمال ہم مسلمان لڑکیوں کو نہیں کرنا چاہیے۔ الحمدللہ کرونا کی بیماری ختم ہو چکی ہے پھر یہ غیر ضروری ماسک کا استعمال کیوں کیا جا رہا ہے یہ سمجھ نہیں آرہا چہرہ چھپانے اور پردہ کرنے کے لیے جب نقاب دستیاب ہے پھر یہ ماسک کا استعمال فیشن ہو گیا ہے۔ پھر اسےفیشن نہ کہں تو کیا کہں؟
بر قعہ پہنا، پردہ کرنا یہ عورت کی شان ہے جو عورت برقعے میں رہتی ہے اسے عزت اور وقار کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ برائے مہربانی اس برقعے کی توہین نہ کرے اپنے دل سے اس برقعے میں ایڈیشنل چیزیں ایڈ نہ کریں۔ اور دیکھا جائے تو ہمارے مسلم معاشرے میں بہت کم تعداد کی ایسی عورتیں موجود ہیں جو سنت کے مطابق پردہ کرتی ہیں۔ اکثر و بیشتر خواتین کابرقعہ بڑا فیشن والا اور رنگ کا ہوتا ہے جو غیر محرموں کو اپنی طرف متوجہ کرنے والا ہوتا ہے اور دوسری اہم بات میرے سمجھ نہیں آتی ہے کہ مسلم لڑکیاں اور خواتین برقعے میں تو ضرور ہوتی ہیں لیکن سر کے بالوں کو اتنا اونچا باندھتی ہے کہ اونٹ کی گردن جیسی اونچی نظر اتی ہے یہ جوڑے کا ہے اسٹائل باندھ کر باہر اور رات راستوں پر نکل جانا یہ بہت غلط اور سنت کے خلاف عمل ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو اونچے کرکے بال باندھتی ہیں جو اونٹ کی گردن کی مانند نظر اتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں درحقیقت دین علم کی کمی ہونے کی وجہ سے مسلم لڑکیاں اور عورتیں پردے کے شرائط اور فرائض بالکل پتہ نہیں ہیں، ایسے بہت سے عمل ہیں جو مسلم لڑکیاں پردے کی اڑ میں کر رہی ہیں اور ان سے کچھ کہا جائے تو کہتی ہے کہ میں تو برقعہ پہنتی ہوں پردہ تو کرتی ہوں۔ میں نے خود بازاروں میں ایسی لڑکیاں دیکھی ہیں جو میک اپ کرکے غیر محرموں سے سامان خریدتی ہے ان کے ہنسی مذاق کرتی ہیں باتیں کرتی ہیں۔ کیا اسلام ہمیں غیر محرموں سے نرم لہجے میں بات کرنے کی تعلیم دیتا ہے؟ قیامت کی وہ نشانیاں جو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو لے کر فرمایا تھا وہ ساری کی ساری رونما ہو چکی ہے۔ اسلامی بہنوں سے گزارش ہے برقعے کی توہین نہ کرے غیر ضروری میک اپ اور Eye Shades وغیرہ لگا کر غیر محرموں کے سامنے نہ جائے اتنا ہی شوق ہے تو گھر کی چار دیواری میں اپنے محرم کے لیے تیار ہوئیں میک اپ کریں۔ اور میرے حساب سے یہ میک اپ گھر میں بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس میک اپ کی اشیا میں خطرناک کیمیکل شامل ہوتے ہیں
جو چہرے کو خراب کر سکتے ہیں اور دوسرا اتنا مہنگا ہونے کے بعد کون سی لڑکی اس کے استعمال کے چہرے کو پانی سے دھونا پسند کرے گی اور جس کی وجہ سے نماز بھی چھوٹ جاتی ہے اور ہزاروں روپے میک اپ پانی میں بہہ جاتا ہے۔ بہت سی لڑکیاں اس وجہ سے بھی نماز نہیں پڑھتی کہ ہزاروں روپے کا مہنگا میک اپ پانی میں بہہ جائے گا۔ نماز وقت پر ادا نہ کرنے کی وجہ سے ہی تو یہ بے حیائی کا ماحول آج معاشرے میں پھیل چکا ہے۔ نماز انسان کو بے حیائی سے بچاتی ہے ہمارے مسلم بچے بچوں کو دینی تعلیم کی کمی ہونے کی وجہ سے آج یہ بے حیائی کا ماحول بن چکا ہے۔
اللہ سبحان و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ سبحان و تعالی ہم سب مسلمان لڑکیوں اور خواتین کو اسلام کی تعلیم کے مطابق پردے کا اہتمام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نیک ہدایت عطا فرمائے آمین ثمہ آمین

kawishejameel

chief editor

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے !!