شعرو شاعری

پھر اذاں اٹھے گی

مریم جمیلہ خان

فیصلہ اپنے مخالف میں تو آنا ہی تھا
حق تو مسجد کا صنم خانے کو جانا ہی تھا
فیصلہ ہے مگر انسان کا مٹ جائے گا
فیصلہ رب کا زمیں پہ جب اتر آئے گا
زندہ تاریخ ہے کعبے کی ذرا یاد کرو
ابرہا کے کسی لشکر کو ابابیلوں کو
بارہا خانہ بتوں کا بھی بنا ہے کعبہ
پھر بھی دیکھو ابھی بھی ہے خدا کا کعبہ
صلاح الدین کی تاریخ بھی دہرائے گی
اقصیٰ کی طرح ہمیں بابری مل جائے گی
آج نہیں کل تو میری بات یہ ثابت ہوگی
جس جگہ پہلے تھی اسی جگہ پہ مسجد ہوگی
تجھ میں ہوگی اگر اسلاف کی حرمت باقی
انکے کردار کی اوصاف کی عظمت باقی
ہوگا بیدار اگر تجھ میں جو غیرت ہوگی
ورنہ حاصل تجھے دنیا میں ذلالت ہوگی
پھر تو قدرت کو بھی تیری نہ ضرورت ہوگی
اہلِ ظلمت سے تجلّی کی حفاظت ہوگی
پھر اذاں اٹھے گی کفّار کے میخانے سے
پاسباں مل جائیں گے مسجد کو صنم خانے سے
ظلم کی رات جسے دیکھ کے گھبرائے گی
دیکھنا صبحِ منور بھی ضرور آئیگی
دل نہ توڑو نہ کرو غم کہ وہ غالب ہونگے
جو بھی کردار و اعمال سے مومن ہونگے
لفظ مریم کے سبھی دیکھنا نشتر ہونگے
روشنی اور صداقت کے وہ پیکر ہونگے

kawishejameel

chief editor

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also
Close
error: مواد محفوظ ہے !!