خواتین و اطفالمضامین

خواتین ؛کھیت کھلیان،سڑکوں،عمارتوں کی تعمیر،ڈاکٹر،نرس،معلمہ کےپیشے کےعلاوہ اب ٹرک ڈرائیونگ،ٹرین لوکوپائلٹ اوربجلی وائرومن جیسے”رسکی” شعبوں میں بھی قدم بڑھارہی ہیں

zainab bint sajid patel jalgaon finalزینب بنت ساجد پٹیل جلگاوں

ایک دور تھا جب خواتین گھر سے باہر کم ہی نکلتی تھیں۔لیکن گذشتہ صدی کی آٹھویں دہائ کی ابتداء میں ملک کے بڑے حصے میں قحط سالی سے اناج کی قلت ہونے سے حکومت نے کئ ریاستوں میں کھتی کی زمین کی سنچائ اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں پر عمل شروع کیاتو دیہاتوں کی عوام کوروزگار ملا۔اس ذریعے معاش کے حصول کےلئے بڑے پیمانےپر خواتین نے بھی محنت و مشقت سے روزی روٹی حاصل کیں۔خواتین کا روزگار کےلئے گھر سے باہر نکلنے کا یہ پہلا موقعہ نہ تھا۔بلکہ اس سے قبل خواتین اپنی گھریلوں یا مزدوری کےلئے کھیت کھلیانوں میں کھیتی کی زمین کی تیاری ؛فصل کی بوائ ؛سنچائ اور فصل کی کٹائ کےکام میں اپنےگھروالوں کے ساتھ ہاتھ بٹاتی تھیں۔پھر تعلیمی دور شروع ہوا تو خواتین معلمہ،نرس،سماجی،سیاسی،مذہبی تہذیب و ثقافت کے ساتھ اپنی روایتوں سے منسلک زندگی کے نشیب و فراز وغیرہ کے شعبوں میں قدم رکھنےکے ساتھ عمارتوں کی تعمیر کی مزدوری کرکے اپنے گھروالوں کی دووقت کی روٹی حاصل کرنے میں مددگار بنیں۔ساتھ ہی بعد کے دور میں خواتین مذکورہ شعبوں سے الگ کچھ کر گذرنے کی چاھت میں کوچ کرتی رہیں اور کھیل کے میدان میں عمدہ کارکردگی کامظاہرہ کرنے لگیں۔خواتین ایک عرصہ تک کام کاج کےمعاملے میں مرد کے شانہ بہ شانہ چلتے ہوئے تعلیم یافتہ ہونے لگیں اور ڈاکٹر ؛پروفیسر قلم کار ؛صحافی آئ اے ایس افسر ؛تحصیل کا شعبہ؛ محکمہ پولیس میں بھی اہم ذمدار بن کر ذمہ داریاں سنبھالنے لگیں ہیں ؛خواتین کی بڑی تعداد گذشتہ چند برسوں کے دوران مردوں کے ساتھ۔ساتھ انجینئر ینگ کے تمام شعبوں کےعلاوہ سی اے ؛ اکاونٹنٹ ؛ٹیلی ؛ لاری ٹرک ڈرائوینگ ؛لوکو پائلیٹ بجلی کے شعبے میں انجینیئرینگ ،لائن من ،آپریٹرس،سب اسٹیشن ؛بجلی میٹر کی درستی ؛میٹر کی تبدیلی ؛ فیلڈر کی تکنیکی ذمہ داریاں نبھارہی ہیں۔اسی طرح دیگر اہم شعبوں میں خواتین ملازمین پیش پیش ہیں۔طبی خدمات میں بھی ڈاکٹر ؛نرس کے علاوہ دواوٴں کے اسٹورس ؛ہوٹل میں ویٹر ؛تجارت کے شعبوں میں اہم ذمہ داریاں بڑی خوبی سے سنبھال رہی ہیں۔جو کہ معاشرتی اعتبار سے خوشی کی بات و قابل ستائش ہے۔دوران ملازمت خواتین کو کام کرنے کے تعلق سے اور اپنے قدم جمانےکےلئے یقینی طور پر بیشمار مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔لیکن ہمت اور جرآت مندی سے صنف نازک اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا پختہ ارادہ کرکے اپنی راہوں پر گامزن ہیں اور اپنے خاندان کی ضرورتوں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کررہی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
error: انتباہ:مواد محفوظ ہے