طب و صحت

ہــیــضــہ؛ایک انتہائی خطرناک مرض

ڈاکٹر سید شعیب حسن
کلاوتی سوپر اسپیشلٹی ہاسپیٹل جالنہ

“ہیضہ کیا ہے؟”

ہیضہ ایک جرثومے ویبریو کالیری سے پیدا ہونے والا مرض ہے۔ اسے انگریزی میں کالیرا کہتے ہیں ۔
جب کو ئی شخص ان جراثیم سے آلودہ پانی یا کھانا استعمال کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اسے شدید اسہال کی شکایت ہوتی ہے ۔ یہ دست جلد ہی چاول کے پانی جیسی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور مریض کے جسم میں پانی کی شدید کمی واقع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علامات میں قے، شدید پیاس، ٹانگوں اور جسم میں درد شامل ہیں۔ جیسے جیسے پاخانے کے راستے جسم کا پانی ضائع ہوتا چلا جاتا ہے ویسے ویسے مریض کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس کی جلد ڈھیلی پڑجاتی ہے۔ اس کے خون کا دباؤ کم ہونے لگتا ہے۔ مریض نیم غنودگی کی کیفیت میں چلا جاتا ہے۔ اگر بلڈ پریشر بہت زیادہ گر جائے تو مریض کے گردے کام کرنا بند کر سکتے ہیں جو کہ اس کی موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ جراثیم انسانی فضلے کے ذریعے پھیلتے ہیں ۔ وبائی شکل جب سامنے آتی ہے جب کہیں سیوریج کا گنداپانی پینے کے پانی کے ساتھ شامل ہو رہا ہو۔

“ہیضے سے بچاؤ”

ہیضے سے بچاؤ کا سب سے اہم محرک انسانی فضلے کو مناسب انداز میں تلف کرنا ہے۔ پانی ابال کر پینے سے اگر پانی میں جراثیم شامل ہو ں بھی تو وہ ختم ہو جاتے ہیں۔ “باہر سے کھانے سے اجتناب۔” کھانا تیار کرنے میں ہاتھ اچھی طرح دھونا اور ساتھ ہی باہر سے آئے ہوئے پھل ، سبزیاں اچھی طرح دھو کر کھانا بھی ہیضے اور دیگر کئی امراض سے انسان کو بچا سکتا ہے۔

“ہیضے کا علاج موجود ہے”

جب ہیضے کے مریضوں کا فوری علاج کیا جاتا ہےتو وہ عام طور پر جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔
یہ بہت ضروری ہے کہ مریض کو جیسے ہی دست آنا شروع ہوں اس کو ہسپتال پہنچنے تک بہت سارا پانی پلایا جائے اور کسی بھی صورت میں پانی کی کمی نہ ہونے دی جائے۔

kawishejameel

chief editor

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: مواد محفوظ ہے !!