مسلمانوں کے حوالے سے موہن بھاگوت کا بڑا بیان،مسلمانوں سے نفرت کرنے والا سچا ہندو نہیں؛ مسلمانوں سے نفرت ہندوتوا نہیں، رواداری ہی اس کی روح ہے: دیویندرفڈنویس

ناگپور: (کاوش جمیل نیوز) :راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک ڈاکٹر موہن بھاگوت نے امریکہ میں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ہندو مسلم اتحاد اور ہندوتوا کے حوالے سے اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوتوا اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ تمام انسان ایک ہیں۔ اگر کسی ہندو کو یہ لگتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان نہیں ہونے چاہئیں تو وہ سچا ہندو نہیں ہے۔‘‘
ڈاکٹر موہن بھاگوت کا یہ بیان نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں منعقدہ ’’ون ورلڈ ہیومینٹی‘‘ پروگرام میں سامنے آیا۔ یہ پروگرام رکشا بندھن کے موقع پر ’’امریکن ہندو ز فار انگیجمنٹ اینڈ ڈائیلاگ‘‘ (AHEAD) کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔ مختلف تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت کے باعث اس پروگرام پر سب کی نظریں مرکوز تھیں۔
اپنے خطاب میں موہن بھاگوت نے کہا کہ تنوع کا تحفظ ہونا چاہیے۔ تنوع فطرت کا قانون ہے، جبکہ اتحاد ایک عالمگیر سچائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ تو کوئی مذہبی عالم ہیں اور نہ ہی مذہبی پیشوا، لیکن وہ ایسے معاشرے میں کام کرتے ہیں جہاں مختلف مذاہب ہونے کے باوجود یہ روایتی تعلیم دی جاتی ہے کہ پوری انسانیت ایک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سچائی ایک ہے، لیکن اسے بیان کرنے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں۔ لوگ سچائی کو جس انداز سے سمجھتے اور اس پر عمل کرتے ہیں، اسی کے مطابق اس کی تشریح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسان کا سوچنے کا انداز اس کے ذہنی ’’سافٹ ویئر‘‘ کے مطابق تشکیل پاتا ہے۔
موہن بھاگوت کے بیان پر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ موہن جی کے بیان پر تبصرہ نہیں کر رہے، لیکن جس اصول کی انہوں نے بات کی ہے، وہ درست ہے۔ فڑنویس نے کہا کہ ’’ہندوتوا کی روح رواداری ہے۔ دنیا کی قدیم ترین ہندو تہذیب کے برقرار رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اصولوں کو مضبوط رکھتے ہوئے رواداری کا مظاہرہ کیا۔ دنیا کے مختلف حصوں سے آنے والے لوگوں کو اپنی دھارے میں شامل کیا اور انہیں ہندوستان کی مرکزی دھارے کا حصہ بنایا۔‘‘
فڑنویس نے کہا کہ مذہبی رواداری ہندوؤں کو سکھانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ رواداری ہندوؤں کے خون میں شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواداری کا مطلب مار کھانا نہیں بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنا، سب کے ساتھ مساوی سلوک کرنا اور تمام مذاہب کا احترام کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہی تعلیم ہندوتوا نے دی ہے۔
اس سے قبل امریکہ کے دورے کے دوران ڈاکٹر موہن بھاگوت نے نیویارک میں واقع اسکان کے کرشن مندر کا بھی دورہ کیا اور درشن کیے۔ مندر میں عقیدت مندوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں کئی طرح کے تنازعات اور اختلافات موجود ہیں، لیکن ان سب کو ایک ساتھ جوڑنے والی ایک ہی چیز ہے اور وہ شعور ہے، جسے انہوں نے کرشن بھاونا قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں تنوع، دوئی اور تنازعات کتنے ہی کیوں نہ ہوں، حقیقت میں یہ سب کرشن کا ہی حصہ ہیں۔ اگر یہ احساس ہر انسان کے دل تک پہنچ جائے کہ ہم سب ایک ہیں، تو اس کے ذریعے ایک بہتر اور ہم آہنگ دنیا کی تعمیر میں مدد مل سکتی ہے۔ اس موقع پر موہن بھاگوت نے بے گھر افراد کے لیے منعقدہ کھانے کی تقسیم کے پروگرام میں بھی حصہ لیا۔




