بالاپور:گندگی اوربڑھتے مچھروں سے شہری پریشان! موسمی بیماریوں کی دستک سے تشویش میں اضافہ، اسپتالوں میں مریضوں کی بھیڑ؛ صفائی انتظامات پر سوالات

بالاپور: بارش کی کمی کے دوران شہر کے قدیم حصے سمیت مختلف علاقوں میں جگہ جگہ جمع کچرے کے ڈھیر اور گندگی کے باعث مچھروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا نظرآرہا ہے۔ مچھروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ممکنہ موسمی بیماریوں کے خدشے کے پیش نظر شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہر کے مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے کی بات بھی شہریوں میں زیرِ بحث ہے۔
شہر کے کئی علاقوں میں باقاعدہ صفائی نہ ہونے اورکچرا بروقت نہ اٹھائے جانے کے باعث جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بدبو اور گندگی کے ساتھ ساتھ مچھروں کی افزائش کے لیے بھی سازگار ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ بالخصوص قدیم شہر کے بعض علاقوں میں صفائی کے ناقص انتظامات کو لے کر شہریوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
بروقت اقدامات کیے جاتے تو صورتحال سنگین نہ ہوتی؟
مچھروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر میونسپل کونسل انتظامیہ کی جانب سے بروقت باقاعدہ فوگنگ، جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ، نالیوں کی صفائی اور کچرا اٹھانے کے مؤثر انتظامات کیے جانے چاہیے تھے۔ تاہم اب بھی اگر انتظامیہ فوری طور پر مؤثر اقدامات کرے تو ممکنہ موسمی بیماریوں کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
خواجہ کامران الرحمن
کچرا اٹھانے کے ساتھ فوگنگ کا بھی مطالبہ
میونسپل کونسل انتظامیہ اور متعلقہ کچرا ٹھیکیدار سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ شہر میں خصوصی صفائی مہم چلائی جائے، جگہ جگہ جمع کچرے کے ڈھیر فوری طور پر اٹھائے جائیں، نالیوں کی صفائی کرائی جائے اور مچھروں کی روک تھام کے لیے باقاعدگی سے فوگنگ اور جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ کیا جائے۔
سابق بلدیاتی رکن مشیر الحق
صفائی کا نظام بہتر بنانے کے ساتھ خصوصی نگرانی ضروری
صفائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے ساتھ شہریوں کی صحت کے نقطۂ نظر سے حساس علاقوں میں خصوصی نگرانی کی ضرورت ہے۔ بروقت احتیاطی اقدامات کیے جائیں تو شہر میں موسمی بیماریوں کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایڈووکیٹ معین عمران خان




