مہاراشٹر

بالاپور میں پہلی بار عیدالفطر کی نماز نئی عیدگاہ میں؛ شہر میں ایک اور تاریخ ہوگی رقم

بالاپور : (ذاکر احمد) : عیدالفطر کی نماز کے پیشِ نظر شہر میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں 11 مارچ کو 20ویں تراویح کے موقع پر شہر کی ایک مسجد میں مسلم سماج کے سرکردہ افراد کی ایک اہم میٹنگ منعقد کی گئی۔ میٹنگ میں نئی عیدگاہ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں صفائی ستھرائی کے خصوصی انتظامات کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
نمازیوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے پارکنگ، پینے کے پانی، سایہ اور دیگر ضروری سہولیات کی مکمل فراہمی کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ نئی عیدگاہ میدان میں پانی، سایہ اور دیگر انتظامات کی ذمہ داریاں مختلف سماجی کارکنوں اور گروپوں کے حوالے کی گئی ہیں۔
میٹنگ میں یہ بھی طے پایا کہ نئی عیدگاہ میں عید کی نماز کا وقت صبح 08:50 بجے رکھا گیا ہے، جس کی اطلاع شہر کی تمام مساجد کے ذریعے دی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھلے اور نئے مقام پر نماز ادا کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے اور متبادل مقام کا انتظام بھی یقینی بنایا گیا ہے.سنت کے مطابق کھلے مقام پر نماز کی اپیل نئی عیدگاہ کمیٹی کی جانب سے شہریوں کے نام ایک اہم اپیل جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عید کی نماز کھلے مقام یعنی عیدگاہ یا شہر سے باہر میدان میں ادا کرنا سنت اور زیادہ افضل ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ بغیر کسی خاص وجہ کے آبادی والے علاقوں کی مساجد میں عید کی نماز ادا کرنا مکروہ سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں نئی عیدگاہ یا کھلے میدان میں نماز ادا کریں، تاکہ اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام بھی مضبوط ہو سکے۔ بھیڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال ایک اضافی نئے مقام کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔*

مفتی محمد حنیف قاسمی

دو مقامات پر ہوگی نماز کی ادائیگی:
ذرائع کے مطابق، لکھنواڑا، چھوٹی پالسی اور جونا شیگاؤں روڈ کے قریب واقع ایک فارم ہاؤس میں پہلی بار عید کی نماز ادا کی جائے گی، تاکہ تمام نمازیوں کو مناسب جگہ فراہم ہو سکے۔ اس طرح اس سال شہر میں دو مختلف مقامات پر عید کی نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کمیٹی نے تمام شہریوں سے وقت پر پہنچنے اور اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ نماز میں شریک ہونے کی اپیل کی ہے۔
اس اقدام کو شہر کے معروف علماء و ائمہ- مفتی محمد حنیف قاسمی، مولانا برکت اللہ خان، مفتی مشیر، مولانا ریاض الدین اور حافظ محمد رضوان – کی تائید حاصل ہوئی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ اکولہ شہر میں آبادی کے لحاظ سے چار بڑی عیدگاہیں پہلے سے مقرر ہیں۔ اسی طرز پر بالاپور میں بھی نمازیوں کی سہولت کے لیے دو مقامات پر نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
عید کے موقع پر بہتر انتظام، نظم و ضبط اور سنت پر عمل کے مقصد سے کیے گئے اس اقدام کو سماج کے مختلف طبقات اور شہریوں کی جانب سے بھرپور تعاون ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!