مضامین

وقت کا پہیہ: بدلتے حالات میں عام انسان کی جدوجہد مزید سنگین

بالاپور : ( ذاکر احمد ) گزشتہ ایک دہائی میں ملک نے ایسے پیچیدہ ادوار دیکھے ہیں جنہوں نے عام آدمی کی زندگی کو بارہا کڑی آزمائشوں سے دوچار کیا۔ حالات بدلے، مسائل کی نوعیت بدلی، مگر ایک حقیقت برقرار رہی- عام انسان کی مسلسل جدوجہد!

2016 – نوٹ بندی کا صدمہ
اچانک لیے گئے فیصلے نے ملک بھر میں نقدی کا ایسا بحران پیدا کیا کہ عوام سخت پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ "گھر میں شادی کی تیاریاں، باورچی خانے میں گیس موجود… مگر جیب میں نقدی نہیں!”
بینکوں اور اے ٹی ایم کے باہر طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں، اور خوشی کے مواقع بھی فکر و اضطراب میں بدل گئے۔

2022 – کورونا کی تباہی
وقت آگے بڑھا مگر آزمائش مزید سخت ہو گئی۔ "گھر میں پیسہ بھی تھا، گیس بھی موجود… مگر شادی میں آنے والا کوئی مہمان نہیں!”
لاک ڈاؤن، سماجی فاصلے اور خوف کے ماحول نے زندگی کی رفتار کو سست کر دیا۔ رشتوں میں بھی دوریاں نمایاں ہونے لگیں۔

2026 – جنگ کے سائے
اب عالمی کشیدگی اور جنگ جیسے حالات نے نئی مشکلات کو جنم دیا ہے۔ "گھر میں پیسہ بھی ہے، مہمان بھی موجود… مگر پکانے کے لیے گیس ہی نہیں!”
ایندھن کی قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غیر یقینی حالات نے عام آدمی کو شدید متاثر کیا ہے۔

عام آدمی کی مشکلات برقرار!
تین مختلف ادوار، تین مختلف نوعیت کے مسائل- مگر اثر ہمیشہ عام انسان پر ہی پڑا:
کبھی نقدی کی کمی
کبھی سماجی تعلقات پر پابندیاں
اور اب بنیادی ضروریات کی قلت

سوال اب بھی برقرار!
وقت کروٹ لیتا ہے، حالات بدلتے ہیں… مگر عام آدمی کی مشکلات ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔
اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ— کیا آنے والا وقت آسانی لائے گا یا یہ جدوجہد کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!