مضامین

مہاراشٹرمیں بلدیاتی سیاست کا فیصلہ کن دن قریب؛15 جنوری کو اقتدار، شناخت اورمستقبل کا امتحان

اسپیشل رپورٹ کاوش جمیل
مہاراشٹر میں 15 جنوری کو ہونے والے مہانگر پالیکاؤں (میونسپل کارپوریشنز) کے انتخابات ریاستی سیاست کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ محض شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات نہیں بلکہ آنے والے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات سے قبل طاقت کا عملی مظاہرہ سمجھے جا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے سیاسی جماعتوں نے اس انتخاب کو غیر معمولی سنجیدگی کے ساتھ لیا ہے اور انتخابی مہم میں جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ بڑے شہروں سے لے کر متوسط شہری مراکز تک سیاسی سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
حکمران اتحاد مہایوتی، جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی، شیوسینا (ایکناتھ شندے) اور این سی پی (اجیت پوار) شامل ہیں، ان انتخابات کو اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے اور اپوزیشن کو مزید کمزور کرنے کے موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ بی جے پی شہری علاقوں میں اپنی مضبوط تنظیم، مرکزی حکومت کی اسکیموں، بنیادی سہولتوں کے دعوؤں اور ڈبل انجن سرکار کے نعرے کے ساتھ میدان میں ہے۔ پارٹی خاص طور پر ممبئی، پونے، ناگپور، تھانے، نوی ممبئی اور اورنگ آباد جیسے بڑے شہری مراکز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جہاں مکمل سیاسی کنٹرول حاصل کرنا اس کا دیرینہ خواب رہا ہے۔
ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا کے لیے یہ انتخابات اپنی سیاسی شناخت ثابت کرنے کی جنگ ہیں۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ بلدیاتی اداروں میں کامیابی سے وہ عوامی سطح پر خود کو “اصل شیوسینا” کے طور پر منوا سکتی ہے۔ دوسری جانب اجیت پوار کی این سی پی شہری ووٹر کو ترقی، مالی نظم و نسق اور انتظامی تجربے کا پیغام دے رہی ہے، تاہم پارٹی کے سامنے سب سے بڑا چیلنج شہری علاقوں میں اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔
اپوزیشن کیمپ مہاوکاس اگھاڑی، جس میں شیوسینا (ادھو ٹھاکرے)، کانگریس اور این سی پی (شرد پوار) شامل ہیں، ان انتخابات کو بقا اور واپسی کے معرکے کے طور پر لڑ رہا ہے۔ ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کے لیے خاص طور پر ممبئی مہانگر پالیکا انتہائی اہم ہے، کیونکہ بی ایم سی برسوں سے ان کی سیاسی طاقت، مالی وسائل اور تنظیمی بنیاد کا مرکز رہی ہے۔ اگر یہاں نقصان ہوتا ہے تو اس کے اثرات پارٹی کی مجموعی سیاست پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔
کانگریس اگرچہ شہری علاقوں میں نسبتاً کمزور سمجھی جاتی ہے، مگر مہنگائی، بے روزگاری، شہری سہولتوں کی کمی، پانی و ٹریفک کے مسائل اور عام آدمی پر بڑھتے مالی بوجھ کو بنیاد بنا کر وہ دوبارہ عوامی رابطہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ شرد پوار کی این سی پی اپنے تجربہ کار قائدین، مقامی نیٹ ورک اور سماجی توازن کے فارمولے کے ذریعے شہری سیاست میں دوبارہ اثر قائم کرنے کی جدوجہد میں ہے، تاہم اندرونی تقسیم اور محدود وسائل اس کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
علاقائی اور ابھرتی ہوئی جماعتوں میں مہاراشٹر نونرمان سینا ایک بار پھر مراٹھی شناخت، مقامی روزگار، زبان اور شہری حقوق کے ایشوز کے ساتھ میدان میں سرگرم ہے۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی نوجوان ووٹروں اور مراٹھی متوسط طبقے کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور کئی شہروں میں وہ کنگ میکر کے کردار میں بھی آ سکتی ہے۔
اسی طرح آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنی مضبوط موجودگی کا دعویٰ کر رہی ہے اور بلدیاتی سطح پر اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے لیے متحرک ہے۔ مجلس مقامی مسائل، نمائندگی اور شہری حقوق کو مرکزی نکتہ بنا کر ووٹروں سے رابطہ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ونچت بہوجن اگھاڑی دلت، آدیواسی اور محروم طبقات کے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے سماجی انصاف کے ایجنڈے کے ساتھ انتخابی میدان میں ہے، اور کچھ حلقوں میں روایتی جماعتوں کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ بلدیاتی انتخابات صرف سڑک، پانی، صفائی، بجٹ اور ٹیکس تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ قیادت، شناخت، سیاسی اتحادوں کی طاقت اور مستقبل کی سیاست کی سمت متعین کرنے والی جنگ بن چکے ہیں۔ ہر جماعت اس انتخاب کو اپنے سیاسی بیانیے کی جیت یا ہار سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر کی شہری سیاست اس وقت ریاستی سیاست کا مرکز بن گئی ہے، اور 15 جنوری کے بعد سامنے آنے والا انتخابی نتیجہ نہ صرف بلدیاتی اقتدار بلکہ آنے والے برسوں کی ریاستی اور قومی سیاست پر بھی گہرا اثر ڈالنے والا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!