پوارخاندان سے مشاورت کے بغیر بڑا فیصلہ؛ این سی پی (اجیت پوار گروپ) کے فیصلے سے خاندان اور پارٹی میں ناراضگی، شرد پوار سے مشاورت نہیں

ممبئی: (کاوش جمیل نیوز) :نائب وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کو لے کر لیا گیا ایک فیصلہ اب خاندان اور پارٹی دونوں کے اندر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، سنیترا پوار کو مہاراشٹر کا اگلا نائب وزیرِ اعلیٰ بنانے کا فیصلہ صرف این سی پی (اجیت پوار گروپ) کے رہنماؤں نے کیا، جبکہ اس معاملے میں پوار خاندان سے کوئی صلاح و مشورہ نہیں کیا گیا۔
خاندان سے جڑے ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے سیاسی فیصلے سے پہلے خاندان کو اعتماد میں لینا ضروری تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے اندرونِ خانہ ناراضگی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ خاندان کا صاف کہنا ہے کہ نہ تو انہیں اس فیصلے کی پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی ان سے کوئی رائے لی گئی۔
یہ پورا تنازعہ ہفتہ (31 جنوری) کو ہونے والی قانون ساز پارٹی کی اہم میٹنگ سے ٹھیک پہلے سامنے آیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اسی میٹنگ میں سنیترہ پوار کے نام پر باضابطہ مہرلگ سکتی ہے۔ اچانک سامنے آنے والے اس واقعے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، سنیترا پوار شرد پوار سے ملاقات کیے بغیر ہی پونے سے ممبئی روانہ ہو گئیں۔ اسے پوارخاندان کے اندرجاری دوری کی علامت کے طورپردیکھا جا رہا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خاندان میں فی الحال سب کچھ معمول پر نہیں ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سنیترا پوار کو کابینہ میں شامل کرنے کے فیصلے پر این سی پی (شرد چندر پوار گروپ) سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ شرد پوار کے خاندان کے افراد کو بھی اس قدم کی خبر نہیں تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اجیت پوار کے انتقال کے بعد دونوں این سی پی گروپوں کے ممکنہ انضمام پر بات چیت ضرور تیز ہوئی تھی، لیکن سنیترا کے نائب وزیرِ اعلیٰ بننے کے فیصلے کو اس سے جوڑ کر نہیں دیکھا جا رہا۔ بدھ کو بارامتی میں پیش آئے طیارہ حادثے کے بعد حالات مزید حساس ہو گئے ہیں۔
فی الحال سنیترا پوار مہاراشٹر کی قانون ساز اسمبلی یا قانون ساز کونسل کسی کی بھی رکن نہیں ہیں۔ ہفتہ کو انہیں این سی پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد حلف برداری کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو وہ ریاست کی پہلی خاتون نائب وزیرِ اعلیٰ بن سکتی ہیں، لیکن اس کامیابی سے پہلے خاندان اور پارٹی کے اندر اٹھا تنازعہ ان کی راہ کو مزید چیلنجنگ بنا رہا ہے۔



