امتیاز جلیل کی گاڑی پر حملہ، اورنگ آباد میں زبردست ہنگامہ، پولیس کا لاٹھی چارج

اورنگ آباد: (کاوشِ جمیل نیوز) شہر میں اُس وقت شدید سنسنی پھیل گئی جب آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے سینئر رہنما اور ریاستی صدر سید امتیاز جلیل کی گاڑی پر حملہ کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امتیاز جلیل اورنگ آباد میں میونسپل کارپوریشن انتخابات کے سلسلے میں انتخابی مہم میں مصروف تھے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ناراض کارکنوں نے امتیاز جلیل کی گاڑی پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور مبینہ طور پر تیز دھار ہتھیار سے وار کیا گیا۔ واقعے کے فوراً بعد علاقے میں شدید ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی اور ماحول کشیدہ ہو گیا۔ ناراض کارکنوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، جس کے باعث حالات قابو سے باہر ہوتے نظر آئے۔
ذرائع کے مطابق یہ ناراضی میونسپل انتخابات میں پرانے اور مقامی کارکنوں کو نظر انداز کیے جانے اور نئے چہروں کو ترجیح دیے جانے کے فیصلے پر سامنے آئی ہے۔ ناراض کارکنوں کا الزام ہے کہ پارٹی نے برسوں سے محنت کرنے والے کارکنوں کو ٹکٹ نہیں دیے اور باہر کے لوگوں کو موقع دیا گیا، جس پر سخت احتجاج کیا گیا اور اسی احتجاج کے دوران امتیاز جلیل کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔
واقعے کے بعد امتیاز جلیل فوری طور پر جِنسی پولیس اسٹیشن پہنچے جہاں انہوں نے شکایت درج کرائی۔ ادھر مشتعل کارکنوں کی بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو ہلکا لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ پولیس کی کارروائی کے بعد حالات پر کسی حد تک قابو پایا گیا، تاہم شہر میں کشیدگی برقرار ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق حملے سے قبل امتیاز جلیل کو سیاہ جھنڈے بھی دکھائے گئے تھے اور نعرے بازی کی گئی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ آج اورنگ آباد میں AIMIM کی ایک بڑی عوامی ریلی بھی منعقد ہونے والی ہے اور اسی سے قبل یہ واقعہ پیش آنے سے سیاسی ماحول مزید گرم ہو گیا ہے۔
اس واقعے کے بعد امتیاز جلیل کو سکیورٹی اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا اور ان کی حفاظت سخت کر دی گئی۔ سیاسی حلقوں میں اس واقعے کو AIMIM کے اندرونی اختلافات اور گروپ بندی کا واضح اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جو میونسپل انتخابات سے عین قبل پارٹی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
واقعے کے بعد شہر بھر میں خوف اور بے چینی کا ماحول ہے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کو الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پارٹی قیادت نے فوری طور پر ناراض کارکنوں کو منانے کی کوشش نہ کی تو یہ تنازع مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔



